

فضلائے درس نظامی کی خدمت میں چند نصائح
کلام: شاکر فاروقی
اے چمن چھوڑ کر جانے والو سنو! مادر علم کے اے ستارو سنو!
دین حق کی بلندی ہو مدنظر، نفسِ امارہ اپنا سنوارو سنو!
اپنے مرکز کا فیضان مت بھولنا، اپنے رہبر سے رشتہ سلامت رہے
ہو خیابان امت کی قوت تمہی، تم ہو روشن دیے اے دُلارو سنو!
تم نے پڑھ لیں بخاری کی بحثیں سبھی، تم نے مسلم طحاوی کو سمجھا بہت
وقت ان پر عمل کا ہے آیا ابھی، وقتِ رخصت سے اے دل فگارو سنو!
راہ حق کو مصائب تو ملزوم ہیں، ان پہ صبر و رضا کا سہارا رہے
ایسے باطل کے آسیب ٹل جائیں گے، ابر رحمت کے مصداق پیارو سنو!
فخر و پندار کے بت کو توڑے چلو، بحر وحدت میں چلتا سفینہ بنو
ہادی دوجہاں کے ہی تابع رہو، جام سنت کے بادہ گسارو سنو!
آنکھ دنیا کی زینت سے خیرہ نہ ہو، دل میں ایماں کی روشن چنگاری رہے
حق پرستی کے دیپک منور رہیں، ارض باطل پہ برسے شرارو سنو!
شاہ بطحا سے الفت ہے پہلی کڑی، اس کے اصحاب ملت کے سردار ہیں
اپنی بخشش جڑی ہے اسی نام سے، قلبِ شاکر کو بے حد اے پیارو سنو!