بعض انسان اتنے اعلیٰ دماغ اور بلا کے ذہین ہوتے ہیں کہ عام آدمی ان جیسی قابلیت اور لیاقت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
انسان اگر قابل ، ذہین اور محنتی ہو تو چاہے جس مرضی پیشے میں چلا جائے وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا ہی لیتا ہے۔
امام بخاری کو ہزاروں کی تعداد میں احادیث مبارکہﷺ ازبر تھیں۔ جرمن ریاضی دان زکریا داسے نے سو ہندسوں والے اعداد کو زبانی ضرب دے کر لوگوں کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ عبدالرحمان فراح دنیا کا سب سے کم عمر ترین حافظِ قرآن ہے، جس نے صرف 3 سال کی عمر میں کتاب اللہ کو حفظ کیا۔ ننھے فراح عبدالرحمان نے نہ تو اب تک کسی مدرسے کا رخ کیا اور نہ ہی وہ مسجد جاتا ہے اس کے باوجود اسے قرآنی سورتیں حفظ ہو جانا خدائی معجزہ ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والا حُسین سید ایسا ہی باصلاحیت جوان ہے جس نے دُبئی میں رہ کر دس مختلف زبانیں بولنا سیکھ لیں۔ حُسین سید بیک وقت پشتو، اُردو، انگریزی، ہندی، عربی، تغالُق، رُوسی، فارسی، چینی اور ملیالم زبانیں مہارت اور روانی کے ساتھ بول سکتا ہے۔ 21 سالہ پاکستانی نوجوان طالبعلم عمر انور جہانگیر کو عالمی اقتصادی فورم کا کم عمر ترین مندوب (delegate) ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اب وہ اس فورم کے گروپ ’’global shaper‘‘ یعنی دنیا کو نئی شکل دینے والوں میں بھی شامل ہیں جس میں دنیا بھر کے 50 ذہین ترین افراد شامل ہیں۔
پاکستانی قوم کی ذہین و فطین بچی ارفع کریم جس نے 9 سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ انجینئر کا عالمی ریکارڈ قائم کر کے پورے عالم میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ ملک عزیز کی ایک اور ہونہار بیٹی عائشہ فاروق گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان فضائیہ کی پائلٹ بننے والی 19 خواتین میں شامل ہے۔ جو اپنی تمام تر توانائیوں اور ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دورانِ جنگ مہارت اور لڑنے کی صلاحیت کے امتحان میں کامیاب ہونے والی پہلی خاتون جنگجو لڑاکا پائلٹ ہے۔
کیا ان ذہین و فطین لوگوں میں سرخاب کے پر لگے ہیں؟ اور ایسے افراد کیا واقعی قابلیت سے بڑھ کر ہیں؟ یا ہم سب میں ایسی خدادا قوتیں موجود ہیں لیکن ہم ان سے بے خبر رہتے ہیں؟ یا پھر ہم انہیں بروئے کار لانا ہی چاہتے؟
سائنسی تحقیق کے مطابق ایک عام انسان پوری زندگی میں اپنے دماغ کا بہت تھوڑا حصّہ استعمال میں لاتا ہے جبکہ دماغ کا کثیر حصہ یونہی بےکار پڑا رہتا ہے۔ اگر انسان اپنے دماغ کو بھرپور استعمال میں لائے تو وہ اپنی ذہنی قابلیت و لیاقت اور استعداد میں ناقابلِ یقین حد تک اضافہ کر سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم اپنے دماغ جیسے بیش بہا خزانے سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کرتے بلکہ ہم صرف وہی کچھ سیکھتے یا کرتے ہیں جسے ہم اپنے لیے ضروری یا اہم خیال کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک عام طالب علم تاریخی واقعات پڑھ یا سن کر سال، مہینے یا دن یاد نہیں رکھتا لیکن بات کرکٹ کی ہو تو اسے نہ صرف اپنے ملک کے کھلاڑیوں کے نام یاد ہوتے ہیں بلکہ ان کے اسکور اور کارکردگی بھی اسے ذہن نشین ہوتی ہے۔ یہ سوال کسی اچھنبے کی طرح حل طلب ہے کہ ہمارے دماغ کی رسائی کہاں تک ہے؟ دماغ کے ماہر ڈاکٹروں کہتے ہیں کہ انسانی دماغ ایک انتہائی پیچیدہ مشین ہے۔ دنیا کے تمام برقی سازو سامان یکجا کر دیں تو پھر بھی یہ انسانی دماغ سے کم ہی پیچیدہ ہوں گے۔ انسانی ذہن میں سننے اور دیکھنے کی قوتیں الگ الگ ہوتی ہیں، ہمارے دماغ میں ان کا کسی خاص جگہ اکٹھا ہونے کا خانہ ضرور ہے جو سماعت، بصارت تخیل اور حافظے کے میلاپ سے ایک بامعنی مفہوم ہم تک پہنچاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب ہم اپنے ذہن میں موجود خیالات اور مشاہدات کو نئے زاویے سے سوچتے ہیں تو سب کچھ ایک ترتیب کے ساتھ ہمارے ذہن میں آ جاتا ہے یہاں تک کہ ہمارے دماغ میں ہلچل مچ جاتی ہے اور ہم انوکھا کارنامہ سر انجام دینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ہمارا دماغ ہمہ وقت سیکھنے کے لیے چاق و چوبند رہتا ہے حتی کہ یہ عمل دوران نیند بھی جاری رہتا ہے۔
اکثر نوجوان شکوہ کناں ہو کر کہتے ہیں کہ ہم اوروں کی طرح پیدائشی طور پر ذہین و فطین نہیں ہیں کہ اپنی پوشیدہ ذہنی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو خوب استعمال کریں۔ چلیں فرض کریں اگر ہم اس بودے نظریہ سے اتفاق کر لیں کہ ذہانت یا قابلیت ہر انسان کی تقدیر میں اس کے پیدا ہونے کے وقت ہی طے کر دی جاتی ہے تو بھی اس بات کی کیا ضمانت دی جا سکتی ہے کہ وہ ذہانت پوری طرح استعمال کر رہے ہوں؟ لہٰذا نوجوانوں کو اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ جہد مسلسل اور مستقل مزاجی کے بل بوتے پر اپنی ذہنی کارکردگی کو بڑھاتے رہیں۔ آئیے ہم کو چند آزمودہ اور کارآمد گر بتاتے ہیں جن پر عمل درآمد کر کے آپ اپنے ذہن کے ان بند گوشوں کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں جو عرصہ دراز سے بے کار پڑے ہیں، جن پر زنگ لگ گیا ہے۔
ہمیشہ اپنے حواسوں کو تروتازہ رکھیں:
جوانی کے دہلیز پر قدم رکھتے ہی آپ بہت ساری پرانی چیزوں ، عادتوں کو چھوڑتے چلے جاتے ہیں اور نئی نئی چیزوں کو اپناتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت ساری چیزیں آپ کے ذہن سے محو ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ آپ نئی چیزوں سیکھنے کے ساتھ ساتھ پرانی چیزوں کو بھی ذہن میں دہراتے رہیں مثلاً
کیا آپ کو یاد ہے کہ بچپن میں آپ سب سے زیادہ کس چیز سے متاثر ہوتے تھے؟
کیا آپ کو یہ یاد ہے کہ وہ کون سے استاد تھے جو آپ کو کلاس میں زیادہ اہمیت دیتے تھے؟
پہلی مرتبہ کب گرے؟ کتنی چوٹیں آئیں؟
جن کھلونوں سے کھیلا کرتے تھے ان کے رنگ شکل یاد ہیں؟
بچپن کے سب دوستوں یا سہیلیوں کے نام بتا سکتے ہیں؟
دراصل جوں جوں آپ بڑے ہوتے ہیں دنیا کی تازگی کچھ کم ہوتی جاتی ہے مگر یہ تبدیلی دنیا میں نہیں آپ میں واقع ہوتی ہے جسے آپ بنا محسوس کیے بے فکری اور لا ابالی کے اس دور سے گزر جاتے ہیں۔ سو اپنے حواس کو حاضر رکھنے کے لیے بچپن کے خوبصورت سہانے دنوں کو یاد کرتے رہیں۔ اگر ان سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے تو اسے بحال کریں۔ یاد کریں آپ بچپن میں بہت ہوشیار، حاضر دماغ تھے اپنے اس مردہ احساس کو تقویت بخشنے کے لیے سوئے دماغ کو بیدار کیجیے۔
نیا زاویہ، نیا نظریہ اپنائیں:
آپ جب اپنے اردگرد موجود مانوس چیزوں کو بھی غور سے دیکھیں گے تو نئے مفاہیم اور زاویے نکلیں گے۔ تتلی کے پروں پر پڑتی ست رنگی کرنوں کو دیکھیں، رم جھم برستی بوندوں میں بھیگنے کے لطف کا تصور کریں، خاموشی میں جھینگر کی آواز محسوس کریں۔ اگر کبھی آپ کو اپنی زندگی بے رنگ و بے معنی لگنے لگے تو لمحے بھر کو سوچیں کہ اگر کوئی آدمی گونگا بہرا ہو تو کیسا احساس ہوگا پھر ایک دم اس کی قوت سماعت و بصارت لوٹ آئے تو وہ کیسا محسوس کرے گا؟
حقیقت میں ہمارے حواس ہی ہماری مسرتوں اور دلچسپیوں اور مشغلوں کی شاہ راہیں ہیں۔ یہی قوت متخیلہ کو تحریک دیتے ہیں اگر حواس پوری طرح کام نہ کریں تو دماغ سست و کاہل ہو جاتا ہے اور پھر ہم یہ کمی دوسروں سے معلومات حاصل کر کے پوری کرتے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ عام چیزوں میں بھی خصوصی انفرادی خوبیاں کھوجیں۔
قوت یاداشت بڑھائیں:
یاد رکھیں کہ حافظہ یا یاداشت اس وقت قوت پکڑتی ہے جب آپ اس پر کام کا بوجھ ڈالتے ہیں اور یہ اس وقت قابلِ اعتماد ثابت ہوتی ہے جب آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر حافظے سے صحیح کام نہ لیا جائے تو یہ جام ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر آپ یاداشت سے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے موبائل فون پر نمبر ڈائل کریں یا راشن کی لسٹ بنائے بغیر بازار جائیں یا ایک مرتبہ پڑھے سبق پڑھنے کے بعد امتحان دینے جائیں تو بھی قوت حافظہ تیز ہوتا ہے۔ کئی نوجوان طلبہ کو دیکھا گیا ہے کہ امتحان گاہ میں جانے سے قبل کتاب کھول کر سرسری سی نگاہ ڈالتے ہیں اور بہترین نمبرات سے پاس ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی جادوئی کھیل نہیں بلکہ انہیں اپنی یاداشت پر مکمل اعتماد اور یقین ہوتا ہے۔ آپ جب بھی کسی کتاب کا مطالعہ کریں ، کسی نئے شخص سے ملیں تو اس کی انفرادیت تلاش کریں۔
سوچنے کی مشق ایک صحت مندانہ قدم
کبھی کبھی آپ اپنے ذہن کو مؤثر طریقے سے استعمال کر ہی لیتے ہیں۔ کسی واقعہ کو جزئیات سمیت یاد رکھتے ہیں تب آپ کا ذہن انتہائی یکسوئی سے کام کرتا ہے۔ اب کوشش یہ کریں کہ ایسا ہر بار ہو اس کے لیے سوچنے کے عمل کی مشق کریں۔ ہاسٹل کے جس کمرے کو آپ چھوڑ کر جا چکے ہیں اس کی تمام اشیاء کو یاد کریں۔ اسکول، کالج یونیورسٹی جائیں تو وہاں موجود تمام چیزوں کو یاد رکھیں جب بھی کہیں آئیں جائیں تو واپس آ کر دہراتے رہیں کہ آپ کچھ بھولے تو نہیں ہیں۔ مشق جاری رکھیں یہاں تک کہ تمام چیزیں آپ کو اچھی طرح ذہن نشین ہو جائیں۔ اگر آپ کو کوئی مشکل یا پریشانی درپیش ہو تو یہ سمجھیں کہ یہ مشکل آپ کی اپنی نہیں بلکہ کوئی اور آپ سے اس مشکل میں مدد لینے آیا ہے کیوں کہ جب آپ دوسروں کی مشکلات یا پریشانیوں پر سوچ و بچار کریں گے تو زیادہ دانا و بینا ہو کر حقیقت پسندانہ حل نکال پائیں گے۔
سیر حاصل بحث و مباحثہ کے ذریعے دماغ کی گرہیں کھولیں:
نوجوانوں کی اکثریت عام طور پر صرف انہی موضوعات پر بحث کرتی ہے جو ان کا پسندیدہ یا شعبہ ہوتا ہے۔ لیکن آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ مد مقابل سے دوران بحث اس کے خیالات آپ کے ذہن میں بھی جگہ بنالیں۔ جوان ذہن بڑا مضبوط اور لچکدار ہوتا ہے اس کی پہنچ ہمارے اندازوں سے بھی کہیں زیادہ آگے تک ہوتی ہے۔ ذہنی تقویت کے لیے مختلف سوالات پوچھا کریں۔
آپ کچے انڈے کو فرش پر کیسے گرائیں گے کہ وہ نہ ٹوٹ سکے؟
اگر آٹھ آدمی ایک عمارت کی تعمیر کے لیے دس گھنٹے لیتے ہیں ، چار آدمی اس کے لیے کتنا وقت لیں گے؟
آپ آٹھ دن تک سائے بنا کیسے رہ سکتے ہیں؟
آدھے سیب کا ٹکڑا کس کے جیسا نظر آتا ہے؟
اگر آپ نے لال پتھر نیلے سمندر میں پھینکا تو وہ کیسا ہو جائے گا؟
اسی طرح اگر کوئی لفظ عجیب یا غیر مانوس معلوم ہو تو اس کی کھوج میں لگیں کہ یہ کہاں سے آیا؟
جب انسان کی عمر تیس سال سے زائد ہو جاتی ہے تو وہ عموماً سوچے ہوئے خیالات کو ہی متعدد بار سوچتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کتنے ہی ایسے جوان ہیں جن کے ذہن اچھوتے خیالات سے چمکتے رہتے ہیں وہ نئے نئے تجربات کے لیے اپنا ذہن کھلا اور کشادہ رکھتے ہیں۔ آپ بھی انہی کشادہ ذہن جوانوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں۔ اس طرح اگر زندگی میں کوئی چونکا دینے یا تحریک دینے والی چیز نہیں تو ان خیالات و نظریات پر نظر ثانی کریں جنہیں آپ پسند نہیں کرتے پھر اس ناپسندیدگی کی وجوہات کی جانچ پڑتال کریں۔ اچھی صحبت اختیار کریں۔ محض پڑھے لکھے ہی نہیں ذہین قابل اور باشعور لوگوں سے ملیں۔ ان کا کوئی فائدہ ہو نہ ہو آپ ضرور فائدے میں رہیں گے۔
اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیں:
اپنے تحت الشعور پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دینے کی کوشش کریں۔ ایسے کئی تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بعض اوقات خوابوں میں آپ بہت کچھ دیکھ لیتے ہیں ، آپ کسی ایسے مسئلے میں الجھے ہوتے ہیں جس کا کوئی حل سجھائی نہیں دیتا لیکن صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی ایک ترتیب کے ساتھ معاملات سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غیبی مدد سے آپ کے مسئلے کا شافی کر دیا گیا ہو۔ یہ تحت الشعور کا کرشمہ ہوتا ہے۔ یقیناً آپ کے زرخیز دماغ میں کوئی ایسی خفیہ جگہ ہو جس کی دوسرے حصوں کو خبر نہیں ہوتی تاہم قابلِ بات یہ ہے کہ اگر آپ کے شعور کا ذخیرہ وسیع ہو تحت الشعور کی کارکردگی بھی شاندار ہو جاتی ہے۔ یاد رکھیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو دماغ اس لیے دے رکھا ہے کہ آپ اس نعمت سے جہاں تک ممکن ہو سکے استفادہ کریں یہ ایسا نادر و نایاب خزانہ ہے آپ اسے جس قدر استعمال کریں گے یہ اسی قدر بڑھتا جائے گا۔
52