حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ،صاحب فضل و کمال، شہباز اسلام، جرنیل اسلام، اللہ کی تلوار، صاحب فہم وفراست، عظیم مجاہد، کامیاب و کامران رہنماو سپہ سالار، پیکرشجاعت، داعی اسلام، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں مکہ، حنین، طائف، اور تبوک کے مقامات میں پرجوش سپاہی کا کردار ادا کرنے والے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر بنو جذیمہ، نجران، یمن، اور عزی کے سرایا میں قیادت کرنے والے، جھوٹے مدعیان نبوت کا قلع قمع کرنے والے، مرتدین کی سرکوبی کرنے والے، عراق، مذار، کسکر، امغیشیاء، حیرہ و ملحقات حیرہ، انبار، عین التمر، حصید و خنانس، ثنی بشر، فرائض، شام، بصرہ، اجنادین، دمشق، فحل، حمص، یرموک، حاضر، قنسرین، بیت المقدس، اور اس کے علاوہ بے شمار شہروں، قلعوں پر فتح حاصل کرتے ہوئے اسلام کا جھنڈا بلند کرنے والے، دور فاروقی رضی اللہ عنہ میں حران، آمد اور لرتہ میں ایک سال تک گورنری کے فرائض سرانجام دینے والے، عہد شباب سے شہسواری، نیزہ بازی، شمشیرزنی، فنی، جنگی داؤ پیچ کے ماہر، 125جنگوں کے فاتح، ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر، ایک بہترین چیف ایگزیکٹو، دور خلافت راشدہ کے عظیم چیف آف آرمی سٹاف، بابرکت و باکرامت سپہ سالار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی، فاتح روم و ایران، قبیلہ مخزوم کے چشم وچراغ، ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ کا نام “خالد” والدکا نام “ولید بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم مخزومی بن تنیطہ بن مرہ” ہے۔ والدہ کا نام “لبابہ صغرا بنت الحارث” ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت ام المومنین میمونہ بنت حارث کی ہمشیرہ ہیں۔ اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خالد کے حقیقی خالو ہوے ۔
حضرت خالد بن ولید کا خاندان زمانہ جاہلیت سے معزز چلا آرہا تھا فوج کی سپہ سالاری اور فوجی کیمپ کے انتظام کا عہدہ انہی کے خاندان میں تھا۔ آپ کے والد مغیرہ کا شمار مکہ کے سرداروں میں ہوتا تھا۔ مکہ سےلےکر طائف تک ان کے باغات تھے، ثروت کا یہ عالم تھا کہ ایک سال بنوہاشم مل کر غلاف کعبہ چڑھاتے اور ایک سال ولید تنہا غلاف کعبہ چڑھاتے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں نور اسلام کی روشنی چمکنے لگی دل میں اسلام کی محبت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل وحرکت، انداز گفتگو، طرز عمل کو دیکھ کر پر ورش پانے لگی ۔ اللہ تعالی نے وحی کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ خالد کا دل اسلام کی روشنی سے منور ہو رہا ہے تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ولید بن الولید جو اسلام قبول کرچکے تھے ان کو بلایا اور فرمایا: ولید! آپ کے بھائی خالد پر اسلام کی سچائی ظاہر ہوچکی ہے پھر وہ اسلام کیوں نہیں لاتے؟ یہ سن کر ولید فورا کاغذ قلم اٹھاتے ہیں اپنے بھائی کو ایساپر تاثیر خط لکھا کہ خالد کے دل میں مزید اسلام کی رغبت پیدا ہوگئ اور ہجرت کرنے کا دل میں داعیہ پیدا ہوا ایک طرف حضرت عمرو بن العاص حبشہ سے اور دوسری طرف خالد بن ولید اپنے دوست عثمان بن طلحہ کو ساتھ لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف اسلام قبول کرنے کے ارادے سے روانہ ہوتے ہیں اس خبر کا علم جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوتا ہے تو آپ کا چہرہ کھل اٹھتا ہے اور فرمایا: “مکہ نے اپنے جگر گوشوں کو (اسلام کی طرف) پھینک دیا ہے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عمدہ پوشاک پہنی اور دیوانہ وار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پہلے حضرت خالد بن ولید نے پھر عمرو بن العاص نے اسلام قبول کیا۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خالد! تمہاری عقل و دانش اور فہم و فراست کو دیکھ کر مجھے امید تھی کہ تم ایک دن ضروراسلام قبول کر لو گے۔۔
بہادری اور شجاعت آپ کا خاندانی ورثہ تھا جس کی ابتدائی جھلک “موتہ” میں نظر آئی۔ جس میں رومیوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ تین سالار حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم یکے بعد دیگرے جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تو بعد میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پرچم دے دیا گیا عین اسی وقت اللہ تعالی نے یہ جنگ موتہ کا منظر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا تو آپ نے تین سالاروں کی شہادت کی خبر سناتے ہوئے ارشاد فرمایا: اب جس شخص نے جھنڈا اٹھایا وہ اللہ کی تلوار ہے اسی دن سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ “سیف اللہ” کے لقب سے مشہور ہوئے۔
آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے فہم و فراست اور دور اندیشی کی نعمت سے بھی نوازا تھا کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے عراق کے عین التمر نامی علاقے کو فتح کیا وہاں پر ایک چرچ تھا جس میں 40 طلبہ انجیل پڑھتے اور پڑھاتے تھے انہیں طلباء میں میں تین طلباء ایسے تھے جنہیں رہا کردیا گیاتھا۔ان میں سے ایک “سیرین”تھے جنہوں نےاسلام قبول کیا ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جو بڑےتابعین میں سے تھےجو تفسیر، حدیث، فقہ اور خوابوں کی تعبیر کے امام بنے جنہیں دنیا حضرت محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔ دوسرے”یسار”تھے انہوں نے بھی اسلام قبول کیا اور ان کے ہاں ایک لڑکا اسحاق پیدا ہوا جس کے صاحبزادے محمد کو دنیا نے سیرت اور مغازی کے ایک ماہر عالم ابن اسحاق کی صورت میں جانا سیرت ابن اسحاق انہی کی کتاب ہے جو سیرت پر مستند ترین سمجھی جاتی ہے،
تیسرے “نصیر”تھے انہوں نے بھی اسلام قبول کیا ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جن کو دنیا نے موسی بن نصیر فاتح اندلس اور فاتح شمالی افریقہ کے نام سے جانا۔ یہ اللہ تعالی نے انہیں دور اندیشی، فراست اورمستقبل کی منصوبہ بندی عطاء کی تھی۔ آپ کی شجاعت و بہادری کا شہرہ چہار دانگ میں گونجتا تھا جس کی ایک جھلک پیش خدمت ہے ۔
“صحابہ کرام روم کی فتح میں مصروف تھے مسلمانوں نے عرب عیسائیوں کے سردار جبلہ بن ایہم کو اسلام کی دعوت دی اور سمجھایا کہ تم بھی عرب ہوہم بھی۔ ہم نہیں چاہتے کہ تم رومیوں کی خاطر ہم سے لڑو اور اگر تم لڑو گے تو تمہارا بھی وہی حشر ہو گا جو تم سے پہلے والوں کا ہوا یہ سن کر وہ ڈرگیا اور اپنے لشکر میں واپس چلا گیا اس کا خوف دیکھ کر رومیوں نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں بلکہ تمہارے جیسے عرب ہیں آخر وہ جنگ پر آمادہ ہوگیااور اپنے ساتھ 60 ہزار عربی سپاہی لے کر سونے کی زرہ پہن کر میدان میں نکلا۔ ادھر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نےجو سپہ سالار تھے، صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت خالد نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ ساٹھ ہزار کے مقابلے میں تیس آدمی لے کر جاؤں۔ جن میں سے ہر ایک دو ہزار پر حاوی ہو۔ صحابہ نے کہامذاق کرتے ہیں؟ کہنے لگے خدا کی قسم مذاق نہیں کرتا۔ایک صحابی نے کہا کم ازکم ساٹھ ہزار کے مقابلہ میں 60 تو لےجائیں۔ چنانچہ آپ ساٹھ جرنیل صحابہ کو اپنے ساتھ لے کر نصرانی عربوں کے سامنے جا
کھڑے ہوئے۔ نصرانیوں کےچند آدمیوں نے دیکھا تو کہنے لگے ہم جنگ کے لئے تیاری کرچکے ہیں اور تم ابھی تک صلح کے خواب دیکھ رہے ہو؟ ہم قیامت تک صلح نہیں کریں گے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے تعجب سے پوچھا کیا تم ہمیں قاصد تصور کرتے ہو؟ حالانکہ ہم لڑنے آئے ہیں ۔ جبلہ کہنے لگا اے نوجوان! توغرورمیں اپنی قوم کو تباہی کی طرف لے کر نکلا ہے۔ آپ نے فرمایا تو ہمیں تھوڑا نہ جان ہم غرور میں نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کرکے نکلے ہیں۔ جبلہ نے اپنے ساتھیوں کو حملے کا حکم دے دیا صحابہ نے بھی ثابت قدمی سے لڑنا شروع کر دیا دونوں طرف سے بہادروں کی چیخ و پکار تلواروں کی جھنکار کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی جنگ کے شعلے بلند تھے صحابہ تکبیر کی آوازیں بلند کر رہے تھے حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے فرمایا کہ آج اسی میدان کو میدان حشر سمجھو کفار کو سبق سکھاؤ صحابہ کفار کے اندر گھرے ہونے کے باوجود بڑھ چڑھ کر حملہ کرتے رہے شام تک صحابہ ایسے لڑتے رہے جیسے بالکل تازہ دم ہوں اور ابھی ابھی لڑائی شروع کی ہو۔ ادھر لشکراسلام پریشانی کے عالم میں تھا ابو عبیدہ سمجھے کہ صحابہ شہید ہوگئے لشکراسلام لڑنے کے لیے تیار ہوگیا مگر شام ہوتے ہی کفار کو شکست فاش ہو ئی اور صحابہ واپس آگئے واپس آنے والے صحابہ 20 تھے ایک مرتبہ پھر پریشانی بڑھ گئی ہے کہ چالیس صحابہ شہید ہو گئے مگر میدان جنگ میں جا کر دیکھا تو صرف دس لاشیں ملیں صحابہ نے کہا شاید کفار انہیں گرفتار کرکے لے گئے صحابہ نے کفار کا پیچھا کیا تو مزید پچیس صحابہ مل گئے جو کفار کی شکست کے بعد ان کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے تھے اس جنگ میں دس صحابہ شہید ہوئے جبکہ پانچ گرفتار ہوے۔ جبکہ نصرانی عربوں کے پانچ ہزار آدمی مارے گئے ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی کوشش کریں تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ایسی جنگ کی شاندار مثال نہیں لا سکتے۔ ۔۔
آپ رضی اللہ عنہ جیسے جنگی مہارت میں کمال رکھتے تھے ویسے ہی مشکل وقت میں بہترین کامیاب حکمت عملی اور تدبیر کرنے میں بھی خوب مہارت رکھتے تھے ۔ عراقی مہم میں حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کو امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا خط ملتا ہے جس میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امداد کے لئے فورا روانہ ہونے کا فرمان تھا وہ شام کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں اور عین التمر کی راہ سے شام جانے اظہار کرتے ہیں، حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس راستے سے جانے کا ارادہ ترک کر دیں کیونکہ اس خوفناک صحرا میں قدم رکھنا جان بوجھ کر موت کو دعوت دینا ہے یہ ایسا راستہ ہے کہ پانچ دن کی منزل میں پانی کا ایک قطرہ بھی کہیں سے دستیاب نہ ہو گا سواری اور باربرداری کے جانوروں کا ہلاک ہو جانا یقینی ہے کوئی اور ہوتا تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے اس مشورہ کو قبول کر کے قریبی راستے سے جانے کا ارادہ چھوڑ دیتے۔ لیکن حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کسی مشکل سے گھبرانے کی جگہ اس پر قابو پانے کی سوچتے ہیں آپ فرماتے ہیں چالیس اونٹوں کو اچھی طرح پانی پلا کر ان کے منہ باندھ دیے جائیں اور ہر مسلمان اپنی ضرورت کے مطابق پانی ساتھ لے لے آپ ہر منزل پر دس اونٹ ذبح کرتے ہیں اور ان کے پیٹ سے نکلا ہوا پانی ٹھنڈا کر کے جانوروں کو پلاتے ہوئے موت کی سواری کو نہایت کامیابی کے ساتھ حیرت انگیز تدبیر کے ساتھ عبورکر لیتے ہیں۔۔
آپ کی وفات 22 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی،نمازجنازہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی شریک تھے،
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آج پھر امت مسلمہ کو ایسا بہادر جرنیل نصیب کریں اور اہل اسلام کو ان جیسی ہمت عطاء کریں