
سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں/تحریر/عمار خان یاسر/اینکر پرسن فوکس میڈیا
گزشتہ ڈیڑھ دن بونیر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں گزارنے کے بعد بالآخر ہم اسلام آباد واپس پہنچے ہیں۔ اس سفر میں اللہ نے یہ سعادت دی کہ ان گھروں تک جا سکیں جہاں کبھی خوشیاں تھیں مگر آج دیواریں بھیگی مٹی اور ڈوبی امیدوں کی گواہی دے رہی ہیں۔ ہم نے ان متاثرہ خاندانوں کو احباب کی امانت، کیش کی صورت میں پہنچائی۔ اگرچہ ان کا نقصان ہماری استطاعت سے کہیں بڑھ کر تھا، مگر دل یہی چاہتا تھا کہ کم از کم ان کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔
الحمدللہ ہم ان گھروں تک بھی گئے جو دشوار گزار کچے راستوں اور پہاڑی ٹریکس کے باعث نظر انداز ہو رہے تھے۔ وہاں بھی متاثرہ خاندانوں کو ہدیہ پیش کیا۔ کوٹ درہ میں فور بائے فور نے بھی جہاں ساتھ چھوڑ دیا پھر ایک گھنٹے کا پیدل ٹریک، وہاں جہاں کر دلی سکون ملا جب انہوں نے بتایا کہ یہاں آنے کی ہمت اب تک بہت کم لوگوں نے کی ہے۔ وہاں سے بھی ہم نیچے تک گئے اور ایک ایک گھر کو خود دیکھ کر ہدیہ پیش کیا۔ اسی علاقے میں ایک آٹھ دکانوں پہ مشتمل مارکیٹ ملی جو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی، ہم نے ہر دکاندار کو ہدیہ پیش کیا۔ یاد رہے ہم نے کم سے کم جو ہدیہ کسی ایک گھر یا فرد کو دیا وہ تیس ہزار روپے یا اس سے زیادہ تھا تاکہ کم از کم اسکا کچھ تو بن سکے اس سے۔ ایک مولوی صاحب کا نیا گھر تباہ ہوا تھا انہیں پچاس ہزار پیش کیا ۔ کچھ جگہوں پہ لاکھ روپیہ بھی دیا ، ایک گھر میں 8 شہادتیں ہوئی تھی، گھر تباہ ہو تھا انہیں لاکھ روپیہ پیش کیا۔ بشونڑی میں اپنے پورے خاندان کو کھونے والے مولانا عبد الصمد صاحب کو ایک لاکھ روپیہ پیش کیا کہ وہ اپنے خاندان میں اپنی صوابدید کے مطابق جیسے چاہیں تقسیم فرما دیں۔ قادر نگر میں جس گھر میں 24 اموات ہوئی تھی انہیں لاکھ روپیہ پیش کیا۔ اور جہاں جہاں جتنا ہو سکا ہدیہ پیش کیا۔
اس کے علاوہ کوٹ درہ ، برگوکند، قادر نگر اور بشونڑے میں جانوروں کا بھی بہت نقصان ہوا تھا۔ غریب کسان اور گھرانے اپنی بربادی کی کہانیاں سناتے رہے، اور ہم نے حتی المقدور ہر متاثرہ خاندان کو کیش کی صورت میں ان کی مالی دلجوئی کرنے کی کوشش کی۔
ہم نے شفافیت کے لیے ہر جگہ مقامی علما کو ساتھ رکھا تاکہ فیصلے ان کی تصدیق پر ہی کیے جائیں۔ الحمدللہ، متاثرین کو ہدیہ دینے میں کسی قسم کی کمی یا کوتاہی نہیں برتی گئی، کیونکہ یہ ہماری نہیں بلکہ آپ سب کی امانت تھی جسے پورے اعتماد کے ساتھ پہنچانا ہمارا فرض تھا۔
لیکن بونیر میں یہ سفر مکمل کرنے کے بعد دل مزید بوجھل ہے۔ اسی دوران شانگلہ سے بار بار کالز آئیں۔ وہاں بھی سیلاب نے قیامت ڈھائی ہے لیکن بدقسمتی سے میڈیا اور سوشل میڈیا کی توجہ صرف بونیر تک محدود ہے۔ شانگلہ کے لوگ بے بسی کے عالم میں اپنی پکار دنیا تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بچی ہوئی رقم اور مزید جو رقوم موصول ہوئی ہیں، انہیں لے کر شانگلہ کے متاثرین کا سہارا بنایا جائے۔
الحمدللہ، اس وقت ہمارے پاس کافی رقم موجود ہے جسے ان شاء اللہ شانگلہ کے بے سہارا متاثرین میں تقسیم کرنے کا ارادہ ہے۔ دعاؤں میں یاد رکھیے اور اپنی رائے دیجیے کہ کس طرح یہ خدمت زیادہ مؤثر انداز میں انجام دی جا سکے