چلو کہ بونیر بلا رہا ہے
ازقلم اسامہ معاویہ
قدرت جب قہر برساتا ہے تو انسان کے سارے منصوبے، خواب اور ارادے یوں بکھر کر خاک ہوجاتے ہیں جیسے کچے گھروں کی دیواریں بارش کی بوندوں کے سامنے۔ بونیر کی وادیاں، جو کبھی ہریالی اور خوشبو کی پہچان تھیں، آج اجڑے ہوئے قبرستان کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ پانی کی بے رحم موجیں صرف مکانوں کو نہیں بہا کر لے گئیں، یہ انسانوں کی امیدیں، بچوں کی ہنسی، ماؤں کی لوریاں اور بزرگوں کی دعائیں بھی بہا لے گئیں۔
کل تک ان پہاڑوں کے دامن میں خوشیاں رقصاں تھیں۔ گلیوں میں بچوں کی معصوم کلکاریاں گونجتی تھیں۔ کھیتوں میں ہل چلانے والے کسان اپنی محنت کی فصل کے خواب دیکھتے تھے۔ لیکن آج… آج انھی گلیوں میں چیخوں کی بازگشت ہے، کھیت بنجر اور برباد ہیں، اور کسان اپنی بیوی بچوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے کے لیے کیچڑ میں ہاتھ مارتے پھر رہے ہیں۔
سیلاب نے نہ جانے کتنے گھروں کو یتیمی کا داغ دیا۔ نہ جانے کتنی مائیں بے اولاد ہوگئیں۔ کتنے بچے اپنی ماں کی ممتا سے محروم ہو گئے۔ وہ باپ جو کل تک اپنے بچوں کے مستقبل کے خواب بُنتے تھے، آج انہی بچوں کو کفن پہنانے پر مجبور ہیں۔ سوچو! ایک باپ اپنی گود میں اپنے چھ سالہ بچے کی لاش اٹھائے کھڑا ہے۔ بچہ جس نے نئی کتابوں کا شوق کیا تھا، آج کچی قبر میں دفن ہونے جا رہا ہے۔ باپ کے آنسو بہہ رہے ہیں لیکن آنسوؤں سے لاش واپس نہیں آتی۔
ایک اور منظر… ایک ماں پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہہ کر کسی جھاڑی میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہاتھوں میں اپنی بچی کا دوپٹہ سختی سے جکڑا ہوا ہے۔ لگتا ہے آخری لمحے تک ماں نے بچی کو بچانے کی کوشش کی، مگر قدرت کے سیلاب نے دونوں کو جدائی دے دی۔ وہ دوپٹہ اب اس ماں کے بے جان ہاتھوں میں ہے اور دیکھنے والے کے دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔
بونیر کی زمین آج خون رو رہی ہے۔ ہر گلی ایک قبرستان لگتی ہے۔ ہر چہرہ ایک سوال ہے۔ ہر آنکھ خالی ہے۔ بچے اپنی ماں کو پکارتے ہیں، مائیں اپنے لختِ جگر کو ڈھونڈتی ہیں، اور باپ اپنی اجڑی ہوئی دنیا کو گھورتا رہ جاتا ہے۔ یہ منظر صرف دکھ نہیں، یہ اذیت ہے… ایسی اذیت جسے لفظوں میں بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔
اہلِ بونیر آج ہم سب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں امید ہے، ان کے سوال ہمارے دل پر بوجھ ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں:
“کیا ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم بونیر میں پیدا ہوئے؟ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ کیا ہمارے بچے تمہارے بچوں جیسے قیمتی نہیں؟ کیا ہماری چیخیں تمہارے کانوں تک نہیں پہنچ رہیں؟”
اگر آج ہم ان کی مدد نہ کریں، اگر ہم نے ان کے دکھ میں ہاتھ نہ بڑھایا، تو یاد رکھیے یہ خاموشی تاریخ میں ہمارے خلاف گواہی دے گی۔ یہ معصوم لاشیں ہماری بے حسی کو پکار پکار کر کوسیں گی۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے دلوں کے دروازے کھولیں۔ اپنے وسائل، اپنی دولت، اپنا سکون سب کچھ ان اجڑے ہوئے گھروں کے نام کر دیں۔ ایک لقمہ، ایک کمبل، ایک دوا، ایک آنسو پونچھنے والا ہاتھ… یہ سب ان کے لیے زندگی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو شاید آنے والے وقت میں یہی پانی ہماری دہلیز پر آکر ہمیں بھی نگل لے گا۔
اہلِ بونیر کو آج ہماری نہیں، ہماری نسلوں کو ہماری انسانیت ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے پاس کھانے کو نہیں، سر پر چھت نہیں، تن پر کپڑا نہیں۔ مگر سب سے بڑھ کر ان کے پاس امید کی شمع بجھ رہی ہے۔ ہمیں وہ شمع جلانی ہے، ورنہ اندھیرا ہمیشہ کے لیے چھا جائے گا۔
یاد رکھو! وقت کے پانی تھم جائیں گے، ملبہ ہٹ جائے گا، قبریں بھر دی جائیں گی۔ لیکن یہ چیخیں تاریخ کی دیواروں پر ہمیشہ سنائی دیتی رہیں گی۔ کل جب ہم سب اپنے ضمیر کے سامنے کھڑے ہوں گے تو سوال یہی ہوگا:
“جب بونیر کے بہن بھائی مدد کے منتظر تھے، تم کہاں تھے؟”
چلو کہ بونیر بلا رہا ہے/تحریر/اسامہ معاویہ