
کیا اداریے کا دور بیت گیا؟/تحریر/ڈاکٹر فاروق عادل
یہ سوال معاصر اخبار ‘جنگ’ کی طرف سے ادارتی صفحہ اداریے کے بغیر شائع کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس مباحثے میں کئی امور زیر بحث آ رہے ہیں جیسے:
1- اداریہ اخبار میں سب سے کم پڑھا جانے والا مواد ہے۔
2- دنیا بھر میں اداریے کی روایت دم توڑ رہی ہے اور دنیا کے کئی اخبارات اب اداریے کے بغیر شائع ہوتے ہیں۔
3- اخبار بہ ذات خود زوال کا شکار ہے جس ادارے کا اپنا مستقبل ہی داؤ پر لگا ہو، اس سے وابستہ اصناف کا کیا ذکر؟
4- چوتھا اور اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ اداریے میں ہوتا ہی کیا ہے جو اس پر توجہ دی جائے؟
یہ سب سوالات وزن رکھتے ہیں لیکن اداریے کے مستقبل کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل صحافت کی اس صنف کی تاریخ، روایت اور مقصد پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔
اخبار اٹھارہویں صدی عیسوی کی دین ہیں، ابتدا میں یہ اپنے نام کی مناسبت سے صرف خبروں کی ترسیل تک ہی محدود تھے لیکن اٹھارویں صدی کے ختم ہوتے ہوتے مدیران نے اخباری مندرجات میں خبروں کی وضاحت اور اہم امور کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرنی شروع کی، یوں یہ صنف اداریہ کہلائی۔ برصغیر پاک و ہند میں یہ صنف تقریباً اسی وقت شروع ہو گئی جب انیسویں صدی میں اخبارات کی اشاعت شروع ہوئی۔
دنیا کے دیگر حصوں اور برصغیر کے اخبارات کے اداریے میں ایک نمایاں فرق تھا۔ اس عہد میں مغربی دنیا کے اپنے مسائل ہوں گے لیکن ایسے مسائل نہیں تھے جیسے برصغیر پاک و ہند کے تھے۔ برصغیر کے لوگ اس زمانے میں غیر ملکی استعمار سے نجات کے لیے جدوجہد میں مصروف تھے۔ اس لیے یہاں اخبار محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل اور عوام کی تربیت کا ذریعہ بھی تھے۔ اس کا تیسرا مقصد متحارب سیاسی قوتوں سے نبرد آزمائی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی صحافت اور اس کے اداریے کا کردار مغرب کی صحافت اور اداریے سے مختلف اور جامع تھا۔ برصغیر کی صحافت اور اس کے اداریے کا مزاج اسی ماحول کی پیدا وار تھا۔
آزادی اور خاص طور پر قیام پاکستان کے بعد نئے ملک کی صحافت فطری طور پر اسی مزاج کے مطابق کام کرتی رہی۔ ‘زمیندار’ اور ‘انقلاب’ کے فائل پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے اخبار اور ان کے ذمے دار آج بھی ہندو مسلم تقسیم کا شکار ہیں۔ ان اخبارات کے مزاج کی ایک اور خوبی قومی اور بین الاقوامی امور کے بارے میں ان کی رائے ہے۔ ان معاملات میں کوئی نہ کوئی رائے رکھنا ان کے مزاج کا حصہ تھا جس میں اکثر اوقات شدت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔
بعد کے برسوں پاکستانی خاص طور پر اردو اخبارات میں تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ زمانی تقسیم کے مطابق یہ زمانہ 1958 کے بعد یعنی ایوبی آمریت کے بعد کا ہے۔ اس زمانے میں ‘نوائے وقت’ کے اداریے نے نام پیدا کیا۔اس اداریے کی خوبی یہ تھی کہ وہ قومی امور کے بارے میں دو ٹوک رائے اختیار کرتا تھا۔ اس وجہ سے جمہوریت پر یقین رکھنے والے حلقوں میں اسے وقار اور اعتبار حاصل ہوا۔ کم و بیش اسی زمانے میں ‘جنگ’ نے مختلف نقطہ نظر اختیار کیا۔ میر خلیل الرحمٰن مرحوم و مغفور نے اخبار کو کاروبار قرار دے کر اداریے کے ضمن میں نیا رجحان متعارف کرایا۔
یہ رجحان بہت دل چسپ تھا۔ اس اداریے میں بہت کچھ تھا لیکن کچھ نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف امور کے بارے میں ادارتی کالموں میں اظہار خیال تو کیا جاتا تھا لیکن اس میں کوئی واضح نقطہ نظر اختیار نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ بھی اداریے کا ایک اسلوب تھا جو مغرب میں مقبول تھا۔ کوئی اخبار اگر اپنی پالیسی اور رویوں میں غیر جانب دار ہے تو اس کے لیے اداریے کا یہ اسلوب بہترین ہے اگر اس کے ذریعے کم از کم کسی صورت حال کو تو سمجھا دیا جائے لیکن جنگ کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا۔ اس حادثے کی وجہ جنگ کے اداریہ نویس تھے۔
جنگ میں بہت سے لوگوں نے اداریہ لکھا ہو گا لیکن سید محمد تقی ان میں نمایاں ترین ہیں۔ تقی صاحب بہت پڑھے لکھے اور قابل آدمی تھے لیکن ان کا ایک امتیاز ایسی تحریریں بھی تھیں جن سے کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ ‘جنگ’ کا اداریہ ان کی اس خوبی کا شاہ کار تھا لیکن یہ اداریے کی بدقسمتی تھی کیوں کہ اس کی وجہ سے اداریے کی اہمیت میں کمی ہونے لگی۔ شکایت وہی تھی کہ جو کچھ ادارتی کالموں میں شائع ہوا ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟
ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کا زمانہ ہمارے یہاں نظریاتی صحافت اور اسی مزاج کے اداریے کے تعارف کا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پروگریسیو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات ‘ پاکستان ٹائمز’ اور ‘ امروز ‘ نے ترقی پسندانہ یا بہ الفاظ دیگر بائیں بازو کے نقطہ نظر کو فروغ دیا۔ جناب فیض احمد فیض اور جناب احمد ندیم قاسمی جیسی غیر معمولی شخصیات ان اخبارات کو بناتی اور سنوارتی تھیں۔ اپنے انداز فکر کے مطابق انھوں نے جو سوچا اور سمجھا، پوری قوت کے ساتھ سپرد قلم کر دیا۔ یوں گویا پاکستان میں نظریاتی صحافت شروع گئی۔ اس صورت حال میں دائیں بازو یا دینی رجحانات رکھنے والے حلقوں نے ضرورت محسوس کی کہ انھیں بھی اس میدان میں قدم رکھنا چاہیے لہٰذا 1960 کے آس پاس ‘ جناب اعجاز حسن قریشی اور جناب الطاف حسن قریشی نے ‘اردو ڈائجسٹ ‘ شائع کیا۔ اس کے ساتھ ہی الطاف حسن قریشی کے اداریوں کا دور شروع ہوا۔ قریشی صاحب ‘ کچھ اپنی زباں میں’ کے عنوان سے اداریہ لکھتے تھے جن میں دائیں بازو کے نظریات کے مطابق انتہائی دو ٹوک مؤقف اختیار کیا جاتا تھا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں ہفت روزہ زندگی میں جناب مجیب الرحمٰن شامی نے اپنے دستخط کے ساتھ جو اداریے لکھے، انھوں نے رائے عامہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دلیل اور مچلتا ہوا جذبہ شامی صاحب کے اداریے کی پہچان بنا۔
روزنامہ ‘جسارت’ کے اداریے نے اسی اسلوب کو جلا بخشی۔
جماعت اسلامی کا ترجمان ‘ جسارت’ ستر کی دہائی جاری کیا گیا۔ اس اخبار کو ابتدا میں ہی عبد الکریم عابد اور محمد صلاح الدین جیسے لائق ایڈیٹر اور پروفیسر متین الرحمٰن مرتضیٰ جیسے اداریہ نویس میسر آئے۔ اس اخبار کا اداریہ بھی یقیناً کئی لوگوں نے لکھا ہو گا لیکن اس کے اداریے کی پہچان پروفیسر سید متین الرحمٰن مرتضیٰ بنے۔
متین صاحب کے اداریے صحافت کی اس صنف میں اب تک لکھے جانے والے اداریوں سے مختلف تھے۔ ان کے اداریے کی خوبیاں دو تھیں۔ ایک تو وہی برصغیر کی صحافتی روایت کے مطابق دو ٹوک اور جرات مندانہ رائے۔ ان کی دوسری خوبی کو ‘ نوائے وقت’ کے اداریے کی ایک خوبی کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ دائیں بازو کے اس اخبار کے اداریے کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس میں ‘ اندر کی بات’ موجود ہوتی ہے۔ یعنی ‘ نوائے وقت’ کا اداریہ انکشافات سے بھرپور ہوتا تھا۔ اس کے مقابلے میں متین صاحب کا اداریہ مختلف تھا۔ وہ انکشافات کے بہ جائے صورت حال کو سمجھانے اور اس کی وضاحت پر توجہ دیتے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ حالات حاضرہ سے مثالیں پیش کرتے چلے جاتے تھے۔ یہ ایک نیا اسلوب تھا جس سے پیچیدہ حالات کی تفہیم بھی ہوتی تھی اور اس خود متعلقہ عہد کی تاریخ مرتب ہو جاتی تھی۔ متین صاحب اس اداریے خود ہی بانی اور خاتم تھے لیکن اس کے باوجود یہ دعویٰ پورے اعتماد کے ساتھ کیا جا سکتا ہے کہ ‘ جسارت’ ہو یا ‘ تکبیر’ ان دونوں پرچوں کی اشاعت میں غیر معمولی اضافے کا ایک بڑا سبب متین صاحب کے اداریے تھے۔
اب آئیے، اسی، نوے اور بعد کی صحافت اور اس کے اداریے کی طرف۔ اس زمانے میں اخبارات نے اداریے کو عملاً متروک صنف قرار دے کر نظر انداز کر دیا اور چند مستثنیات کو چھوڑ کر اخبار کے سب سے کم علم اور کم اہلیت رکھنے والے شخص سے اداریہ لکھوایا۔ یہ اداریہ کیا ہے؟ اردو صحافت کی اس صنف پر کام کرنے والا یہ دیکھ کر پریشان ہو جائے گا۔ اداریہ نویس کسی خبر کا انتخاب کر کے پوری کی پوری وہی خبر اپنی تحریر میں نقل کر دیتا ہے جسے قارئین ایک روز پہلے پڑھ چکے ہوتے ہیں۔ خبر نقل کرنے کے بعد اداریہ نویس دوچار جملوں میں خبر پر مختصر سا تبصرہ کر دیتا ہے یوں گویا اداریے کی رسم ادا ہو جاتی ہے۔ تقی صاحب کے بے مقصد اداریے کے بعد اداریے کے ساتھ بہ طور صنف یہ دوسرا حادثہ تھا جس نے قارئین کو اداریے سے دور کر دیا۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اداریہ پاکستان کے اردو اخبارات( میں صحافت کہوں گا) کی ضرورت ہے؟ میری رائے میں بالکل ضرورت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پاکستان اپنے قیام کی پون صدی گزر جانے کے باوجود سیاسی شعور کے اعتبار سے زینے کے پہلے قدم پر کھڑا ہے۔ ہمارے یہاں عوام کی ہی نہیں سیاسی کارکن کی بھی جو ذہنی سطح ہے، وہ قابل رحم ہے۔ ہمیں اپنا ملک اور اس میں جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے تو اس کے لیے سیاسی شعور میں پختگی ضروری ہے۔ دیگر عوامل کے علاوہ ماضی کی طرح اداریہ اب بھی اس میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس لیے بھلا اداریے کو غیر مقبول جان کر اسے ختم کر دینے میں نہیں بلکہ اس کا معیار بہتر بنانے میں ہے۔
اداریے کے خلاف ایک رائے یہ ہو سکتی ہے کہ اخبار غیر جانب دار ہوتا ہے۔ غیر جانبدار ادارہ کسی متنازع معاملے میں کوئی رائے کیسے اختیار کر سکتا ہے؟ اول تو یہ اعتراض ہی نا مناسب ہے لیکن اس پر بہر صورت اصرار ہے تو اس کے باوجود صورت حال کی غیر جانب داری سے وضاحت کے لیے اداریہ اب بھی ضروری ہے۔