کیا لکھوں ،کہاں سے لکھوں ۔دل میں ہمت نہیں لب میں یارا نہیں ۔ان بے جان ہاتھوں کا سہارا لیے درددل سپرد قرطاس مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔
انسان کی فطرت میں اللہ نے محبت کا مادہ رکھا ہے ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نا کسی سے ضرور متاثر ہوتا ہے ۔جس کی ہر ادا اسے محبوب ہوتی ،ہے اس کا چال چلن ،انداز، غرض ہر چیز کو اپنانا باعث فخر سمجھتا ہے اور یہ محبت ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ دن میری زندگی کا نہایت خوش گوار دن تھا جب اللہ تعالی نے مجھے ان کی شکل میں ایک مضبوط اور عظیم سائبان دیا اور میری زندگی خوشیوں کے رنگ سے بھر گئی۔
ایک دکھ سکھ کے ساتھی کے آ جانے سے مجھے کسی دکھ اور تکلیف کا احساس تک نہ رہا ۔رفاقت کے حسین دس سال میں نہ تو تیز دھوپ کی تپش نے مجھے جھلسایا، نہ ہی بے رحم ہوائوں کے تھپیڑوں نے میرے آنگن کا رخ کیا ۔
میرے پیارے محبوب شوہر جو کہ میری پاکیزہ محبت تھے مجھے اللہ تعالی نے ان کی شکل میں ایک بہت بڑا انعام دیا تھا ۔پیار ومحبت کی عظیم مثال ہر ایک کے دکھ میں سہارا اور خوشیوں میں زینت بننے والے اللہ پاک نے انہیں مقبولیت عامہ سے نوازا ہوا تھا۔ان کی سب سے بڑی خوبی خوش اخلاقی کا وصف تھا جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ وصف خاص تھا جس کا خود اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ان الفاظ سے ذکر کیا ہے وانک لعلی خلق عظیم ” بلاشبہ آپ اخلاق کے اعلی درجے پر فائز ہیں”اسی وصف پہ جنت کی بشارت دی گئی ہے کیونکہ جب تک انسان کے معاملات ٹھیک نہ ہوں عبادات بھی قبول نہیں ہوتیں ۔آج کل کے معاشرے میں یہ بات ناپید ہے جبکہ میاں جانی اس فرمانِ مبارک کی عملی تفسیر تھے کہ “تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہترین ہے اور میں سب سے بہتر ہوں اپنے اہل کے لیے”
انہوں نے بہت خوب صورت انداز میں اس رشتے کو نبھایا ۔وسیع قلب ودماغ سے ایک دوست کی مانند لڑائی جھگڑوں سے کوسوں دور،عاجزی کا پیکر بن کر زندگی کے شب وروز انہوں نے ایک خوشبو کی مانند گزارے ،حیا جیسی صفت جو کہ شعبہ ایمان ہے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیروکار کہ لوگوں کے لیے با عث تقلید بنتے ۔کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ خوشبو کی مانند ہوتے ہیں جہاں سے گزر جائیں ان کے گزر جانے کے بعد بھی خوشبو کا احساس باقی رہتا ہے ۔
آج وہ ہمیں اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میرے نام کے ساتھ بیوہ کا لاحقہ اور بچوں کے ساتھ لفظ یتیم لگے گا لیکن پیارے اللہ جی کی تقسیم پہ راضی ہیں ۔
دل غمگین ہے آنکھیں اشک بہاتی ہیں اور زبان اللہ کا شکر ادا کرتی ہے ،اجر عظیم کی امید رکھتے ہوئے اس کے آگے یہ سر جھک جاتا ہے ۔
عرصہ دو سال بیمار رہے مختلف امراض کا شکار تھے ۔وہ صبر اور حوصلے کی عظیم مثال تھے ۔ ناک کے دو آپریشن ہوئے۔ گلہ بے انتہا خراب قوت سماعت بھی متاثر ہو گئی تھی اور اب بڑی آنت کا آپریشن ہوا تھا اس میں کینسر جیسے موذی مرض کی تشخیص ہوئی جس کا دو ماہ علاج جاری رہا لیکن مرض بڑھتا گیا ۔جوں جوں دوا کی اسی حال میں وہ صبرو شکر کا پیکر بنے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی کسی کو اس درد سے آشنا نہ کرے اور سب کے سائبان ان کے سروں پہ سلامت رکھے کیونکہ زندگی کی بہاریں اس عظیم رشتے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں اب نہ کوئی غم بڑا لگتا ہے نہ کوئی خوشی خوشی لگتی ہے ۔
میری سوچوں اور خیالات میں اب بھی ان کی خوشبو بسی ہے ۔ان کے اوصاف بیان کرنے لگوں تو سینکڑوں صفحات بھر جائیں ۔جی چاہتا ہے میری ہر تحریر ان کی شخصیت کا احاطہ کرے ۔میرے عظیم شوہر جن کے انفاس کی خوشبو میرے اطراف پھیلی ہوئی مجھے ان کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے ۔میری زندگی کی بہار مجھ سے روٹھ گئی ہے۔۔۔
آہ۔۔۔! کیا عظیم ہیرا کھو دیا ہے میں نے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
آ۔! عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں
تو پکارے ہائے گل میں پکاروں ہائے دل
قارئین کرام سے خصوصی دعائوں کی درخواست ہے ۔ اللہ پاک انہیں کروٹ کروٹ کروڑوں راحتیں نصیب فرمائے اور جنت الفردوس کے بالاخانوں میں خوش و خرم رکھے۔
مجھے اور بچوں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ہمیں جنت میں اکھٹا کرے جہاں نہ موت کا خوف ہو گا نہ کسی تکلیف کا ڈر ۔
ان شاء اللہ جنت میں ملاقات ہو گی ۔اللہ پاک ہمیں صبر جمیل اور اس پر اجر جزیل عطا فرمائے ۔(آمین)
56