“عالمی طاقت واپس مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور مسلم دنیا اگر اس طاقت میں اپنا حصہ چاہتی ہے تو اسے خود کو ایک مستقل مسلم بلاک کی صورت میں منظم کرنا ہوگا۔ آنے والا عالمی نظام ریاستوں کا نہیں بلکہ تہذیبوں کا نظام ہوگا۔”
یہ الفاظ کسی پاکستانی تجزیہ کار کے نہیں بلکہ روسی مفکر الیگزینڈر ڈوگن کے ہیں۔ وہ شخص جسے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے فکری حلقے میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ ڈوگن کی سیاسی و تہذیبی فکر نے گزشتہ برسوں میں مغرب میں بھی خاصی بحث پیدا کی ہے۔ ان کی کتابوں پر پابندیاں لگیں، انہیں قاتلانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا اور اسی حملے میں ان کی بیٹی بھی ہلاک ہوگئی۔ اس لئے ان کے خیالات کو محض ایک فلسفی کی ذاتی خواہش کہہ کر نظرانداز کردینا شاید اتنا آسان نہیں۔
لیکن آج اصل اہمیت ڈوگن کی ذات سے زیادہ ان کے اس خیال کی ہے۔
کیونکہ مشرق وسطیٰ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جو واقعات رونما ہوئے ہیں، انہیں اگر الگ الگ واقعات کے بجائے ایک مسلسل سلسلے کے طور پر دیکھا جائے تو ایک بڑی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اور اس تصویر میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر اور بالآخر ایران ایک ایسے علاقائی سیکیورٹی نظام کے ممکنہ اجزا دکھائی دیتے ہیں جس کا بنیادی مقصد شاید کسی ایک مسلمان ملک کو شکست دینا نہیں بلکہ مسلم ممالک کو اپنی اجتماعی سلامتی کا ذمہ دار خود بنانا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے مکہ ایگریمنٹ کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
مارچ 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والا بیجنگ معاہدہ معمولی واقعہ نہیں تھا۔ برسوں سے ایک دوسرے کے علاقائی حریف سمجھے جانے والے ریاض اور تہران اچانک مفاہمت کی طرف آگئے۔ لیکن اس معاہدے سے بھی زیادہ اہم سوال یہ تھا کہ آخر اس مفاہمت کا راستہ کھلا کیسے؟
ایران نے چین سے مصالحتی کردار ادا کرنے کے لئے رابطہ کیا تھا۔
یہ ایک غیر معمولی پیش رفت تھی۔ کیونکہ ایران کئی دہائیوں تک اپنے انقلابی نظریے کے علاقائی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی پالیسی پر قائم رہا تھا اور اسی پالیسی نے اسے متعدد پڑوسی ممالک خصوصاً عرب دنیا کے ساتھ مسلسل کشیدگی میں رکھا۔ لہٰذا تہران کا ریاض کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی طرف جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ ایران بھی خطے کے بارے میں اپنی پالیسی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور ہوچکا ہے۔
پھر جون 2025 آیا۔
اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا۔
ابتدائی مرحلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو اس کارروائی سے الگ رکھنے کی کوشش کی، لیکن جب ایرانی جوابی کارروائی نے اسرائیل کے لئے صورتحال کو مشکل بنادیا تو امریکہ بھی براہ راست منظرنامے میں آگیا۔ جنگ زیادہ طویل نہ چل سکی اور تقریباً بارہ دن کے بعد جنگ بندی ہوگئی۔
جنگ ختم ہوگئی، لیکن خطرہ ابھی باقی ہے۔
بلکہ اس جنگ نے پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے لئے ایک نئے تزویراتی سوال کو جنم دے دیا۔
سعودی عرب کے لئے مسئلہ یہ تھا کہ اگر اسرائیل ایران کو کمزور کرنے کے بعد خطے میں اپنی عسکری بالادستی مزید بڑھاتا ہے تو عرب دنیا بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گی۔ گریٹر اسرائیل کا تصور پہلے ہی عرب دنیا کے لئے ایک مستقل خطرہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
پاکستان کے لئے معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس تھا۔ اگر ایران میں موجودہ نظام امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں ختم کردیا جاتا تو ایران کی سرزمین پر امریکی یا اسرائیلی عسکری موجودگی کا امکان پیدا ہوسکتا تھا۔ اور پاکستان، جو مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے، ایسی صورتحال میں اس نئے جغرافیائی خطرے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا تھا۔
چنانچہ 17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ ہوا۔
معاہدہ سامنے آیا تو سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ آخر دونوں ممالک کو اچانک مشترکہ دفاع کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
کچھ تجزیہ کاروں نے اسے ایران کے خلاف قرار دیا، لیکن زیادہ مضبوط امکان یہ تھا کہ اصل خطرہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی علاقائی عسکری طاقت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال تھی۔
پھر 28 فروری کو ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی شروع ہوئی۔
اب اس موقع پر سعودی عرب کے رویے کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اگر پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ واقعی ایران کے خلاف کسی منصوبے کا حصہ تھا تو جنگ کے دوران سعودی عرب کو ایران کے خلاف کھڑے ہونا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
سعودی عرب نے ایران کے خلاف براہ راست جنگ میں وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی توقع ایک ایران مخالف اتحاد کے رکن سے کی جاتی۔
بلکہ اس کے برعکس ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رابطے جاری رہے۔ حتیٰ کہ جب ایران نے سعودی عرب میں موجود امریکی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا تب بھی ریاض نے اسے ایران کے ساتھ کھلی جنگ میں تبدیل نہیں کیا۔
یہ بات بہت اہم ہے۔
کیونکہ کسی ملک کی اصل پالیسی ہمیشہ اس کے بیانات سے نہیں بلکہ اس کے ردعمل کی حدود سے بھی سمجھی جاتی ہے۔
سعودی عرب نے اپنی حدود واضح رکھیں۔
وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا تھا۔
اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد بھی سعودی عرب نے پیش نہیں کی بلکہ بحرین اور کویت اس معاملے میں آگے آئے، جبکہ روس اور چین نے اسے ویٹو کردیا۔
پھر صنعاء ایئرپورٹ اور عراق میں سعودی کارروائیوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی۔
فوری طور پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ سعودی عرب شاید ایران کے مفادات کے خلاف متحرک ہو رہا ہے۔ لیکن ہر سعودی فوجی کارروائی کو ایران کے خلاف جنگ کا حصہ سمجھ لینا شاید درست نہیں۔
یمن کا مسئلہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ایک طویل تنازع ہے۔ سعودی عرب نے یمنی فضائی حدود کے حوالے سے اپنی سیکیورٹی پالیسی بھی بہت پہلے سے قائم کر رکھی ہے۔ اسی طرح عراق میں ہونے والی کارروائیوں کا تعلق بھی براہ راست ایرانی مفادات سے زیادہ کویت کی سلامتی اور عراقی عسکری عزائم سے تھا۔
اگر سعودی عرب واقعی ایران کے خلاف ایک وسیع علاقائی محاذ بنا رہا ہوتا تو ان کارروائیوں کے بعد ایران کا ردعمل مختلف ہوسکتا تھا۔
لیکن تہران نے ایسا نہیں کیا۔
کیونکہ شاید ایران بھی سمجھتا ہے کہ ہر سعودی اقدام ایران کے خلاف نہیں ہوتا۔
اب ذرا ایک اور اہم واقعے کی طرف آئیے۔
حالیہ جنگ بندی کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 27 اپریل کو ماسکو اور 6 مئی کو بیجنگ کا دورہ کیا۔ ان دوروں کے بعد ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لئے ایک ایسے علاقائی سیکیورٹی نظام کی بات سامنے آئی جس میں خطے کے ممالک اپنی مشترکہ سلامتی کے خود ذمہ دار ہوں۔
یہ بیان بظاہر مختصر تھا، لیکن اس کے اندر پوری علاقائی سیاست کو بدل دینے کی صلاحیت موجود تھی۔
اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مزاحمت کا مطلب یہ نہیں کہ ایران خود خطے کا نیا حکمران بننا چاہتا ہے۔
ایران شاید یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ خطے کی سلامتی کسی بیرونی طاقت کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خود خطے کے ممالک کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ ایگریمنٹ کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی۔
تینوں کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں۔
ترکی نیٹو کا رکن ہے۔
سعودی عرب واشنگٹن کا دیرینہ اتحادی رہا ہے۔
پاکستان کے بھی امریکہ کے ساتھ طویل عرصے سے تعلقات چلے آرہے ہیں۔
اس لئے مکہ ایگریمنٹ سامنے آتے ہی کچھ تجزیہ کاروں نے فوراً نتیجہ نکالا کہ یہ ایران کے خلاف کوئی نیا اتحاد ہے۔
لیکن ذرا ایک سوال کا جواب دیجئے۔
اگر مقصد ایران کے خلاف سازش کرنا تھا تو کیا امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف ناکامی کا انتظار کیا جاتا؟
کیا جنگ کے دوران پاکستان اور سعودی عرب ایران کے خلاف کھل کر کھڑے نہ ہوتے؟
کیا ترکی ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہوتا؟
اور کیا جنگ ختم ہونے کے بعد ایران کو گھیرنے کے لئے علاقائی سیکیورٹی کی بات کی جاتی؟
شاید نہیں۔
اصل معاملہ کچھ اور ہے۔
شاید یہ معاہدہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ ایک پرانے نظام کے خلاف ہے۔
وہ نظام جس میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی کا فیصلہ ہمیشہ بیرونی طاقتیں کرتی رہی ہیں۔
وہ نظام جس میں امریکہ خطے کی سیکیورٹی کا سب سے بڑا ضامن سمجھا جاتا رہا۔
اور وہ نظام جس میں مسلم ممالک اپنی دفاعی ترجیحات کے لئے ایک دوسرے کے بجائے واشنگٹن کی طرف دیکھتے رہے۔
مکہ ایگریمنٹ شاید اسی طرزِ فکر کو بدلنے کی ابتدائی کوشش ہے۔
اگر یہ تصور آگے بڑھا تو اگلا سوال یہ ہوگا کہ اس دائرے میں کون شامل ہوگا۔
قطر کا نام پہلے ہی آتا رہا ہے۔
مصر بھی ایک اہم ملک ہے۔
اور پھر ایران۔
لیکن ایران شاید سب سے آخر میں آئے گا۔
وجہ بھی واضح ہے۔
ایران اور عرب دنیا کے درمیان کئی دہائیوں کی بداعتمادی ایک دن میں ختم نہیں ہوسکتی۔ یمن کا مسئلہ ابھی مکمل حل طلب ہے۔ اسرائیل ایران جنگ کے اثرات بھی تازہ ہیں اور تہران کو اپنے عرب پڑوسیوں کو یہ یقین دلانے کے لئے وقت درکار ہوگا کہ مشترکہ دفاع کا تصور ایرانی علاقائی بالادستی کا دوسرا نام نہیں۔
اسی لئے ممکن ہے یہ عمل مرحلہ وار آگے بڑھے۔
پہلے پاکستان اور سعودی عرب۔
پھر ترکی۔
اس کے بعد قطر۔
ممکنہ طور پر مصر۔
اور آخر میں ایران۔
یہ کوئی حتمی نقشہ نہیں، لیکن موجودہ واقعات کو ایک ساتھ رکھنے سے ایسا امکان ضرور دکھائی دیتا ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار مسلم ممالک ایک ساتھ ہجوم کی شکل میں آگے نہیں بڑھ رہے۔
تاریخ میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مسلم دنیا نے بڑے اتحاد کے خواب پہلے بھی دیکھے ہیں۔ لاہور میں مسلم سربراہوں کی کانفرنس ایک بڑی مثال تھی۔ لیکن بڑے اتحاد اگر اچانک اور بہت زیادہ شور کے ساتھ تشکیل دینے کی کوشش کریں تو ان کے خلاف بیرونی اور اندرونی مزاحمت بھی اسی رفتار سے پیدا ہوجاتی ہے۔
اس بار شاید طریقہ مختلف ہے۔
کوئی بڑا اعلان نہیں۔
کوئی ایک دن میں پوری مسلم دنیا کو اکٹھا کرنے کی کوشش نہیں۔
بس ایک معاہدہ۔
پھر دوسرا قدم۔
پھر تیسرا۔
اور ہر قدم کے ساتھ دائرہ وسیع۔
یہی شاید زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
مکہ ایگریمنٹ سے ایک روز قبل آٹھ مسلم ممالک نے اسرائیل کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی طرف واپس جانے کا کہا۔ ان ممالک میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی بھی شامل تھے۔
اس واقعے کو بھی الگ کرکے دیکھیں تو شاید کوئی غیر معمولی بات محسوس نہ ہو۔
لیکن اسے ایران کے خلاف جنگ، امریکہ اور اسرائیل کی مشکلات، روس اور چین کے بڑھتے ہوئے کردار، ایران کی علاقائی سیکیورٹی کی تجویز، پاکستان سعودی دفاعی معاہدے، ترکی کی شمولیت اور فلسطین پر مسلم ممالک کے مشترکہ مؤقف کے ساتھ رکھیں تو تصویر بدل جاتی ہے۔
تب سوال یہ نہیں رہتا کہ مکہ ایگریمنٹ ایران کے خلاف ہے یا نہیں۔
تب سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا مسلم دنیا پہلی مرتبہ اپنی اجتماعی سلامتی کے لئے کوئی ایسا راستہ تلاش کررہی ہے جس میں فیصلہ کن کردار خود مسلم ممالک کا ہو؟
اور اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر الیگزینڈر ڈوگن کی بات ایک بار پھر ذہن میں آتی ہے۔
مسلم دنیا اگر مشرق کی ابھرتی ہوئی طاقت کا حصہ بننا چاہتی ہے تو اسے خود کو ایک الگ بلاک میں منظم کرنا ہوگا۔
ممکن ہے ڈوگن غلط ہوں۔
ممکن ہے یہ سب محض اتفاقات ہوں۔
ممکن ہے مکہ ایگریمنٹ صرف تین ممالک کا دفاعی معاہدہ ثابت ہو۔
لیکن اگر یہ واقعات کسی بڑے منصوبے کے ابتدائی مرحلے ہیں تو آنے والے برسوں میں اس کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔
اور اس وسیع دائرے میں ایران کا شامل ہونا بھی ناممکن نہیں۔
بلکہ شاید منطقی انجام یہی ہوگا۔
لیکن سب سے آخر میں۔
کیونکہ جنگ کی دھول بیٹھنے میں وقت لگے گا۔
اعتماد بحال ہونے میں وقت لگے گا۔
یمن کا مسئلہ حل ہونے میں وقت لگے گا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ یہ اعتماد پیدا کرنا ہوگا کہ مشترکہ دفاع کا مطلب کسی ایک ملک کی بالادستی نہیں بلکہ سب کی اجتماعی سلامتی ہے۔
اگر یہ اعتماد پیدا ہوگیا تو پھر مکہ ایگریمنٹ محض ایک معاہدہ نہیں رہے گا۔
یہ ایک سفر کا پہلا سنگِ میل ہوگا۔
ایسا سفر جس کا آخری پڑاؤ شاید وہی ہو جس کا تصور ایک روسی مفکر نے پیش کیا تھا۔
ایک ایسا مسلم بلاک جو اپنی سلامتی کے لئے دوسروں کا محتاج نہ ہو۔
اور شاید پہلی مرتبہ مسلم دنیا یہ فیصلہ خود کرے کہ اس کے دشمن کون ہیں، اس کے دوست کون ہیں، اور اس کی سلامتی کا ضامن کون ہوگا۔
کیونکہ تاریخ میں طاقت صرف اس کے پاس نہیں ہوتی جس کے پاس سب سے زیادہ ہتھیار ہوں۔ طاقت اس کے پاس بھی ہوتی ہے جو اپنی سمت کا فیصلہ خود کرے۔