Hafeez Ch. 0

ایم ایس او کا 25 واں یوم تاسیس

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ملتان کے زیر اہتمام منعقدہ طلبہ سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جو فکری بالیدگی، نظم و ضبط اور مقصدیت کا خوبصورت مظہر تھا۔ ملتان کے مختلف کالجز یونیوسٹیز اور مدارس دینیہ سے ایم ایس او کے متحرک کارکنان کی بھرپور شرکت نے اس پروگرام کو ضلع سطح کا مؤثر اجتماع بنا دیا۔

اس پروقار تقریب میں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ناظمِ عمومی بھائی عبد الرؤف چودھری اور مرکزی ترجمان بھائی بلال ربانی کی خصوصی شرکت نے سیمینار کو مزید وقار بخشا۔ معزز مہمانانِ گرامی میں محبوب العلماء حضرت مولانا سید کفیل شاہ بخاری، دارالعلوم عید گاہ کبیر والا کے نائب مہتمم مفتی اویس ارشاد، جامعہ قادریہ حنفیہ ملز صادق آباد ملتان کے رئیس مولانا شیخ محمد زکریا، مجلس احرار اسلام کے رہنماء حضرت مولانا عطاء اللہ ثالث، پروفیسر پیر شفیق اللہ بدری حضرت مولانا علی حیدر، ایم ایس او ساؤتھ پنجاب کے رہنماء حیدر معاویہ صاحب اور بھائی وسیم الحسن شامل تھے جنہوں نے اپنی بصیرت افروز گفتگو سے شرکاء کے اذہان کو جلا بخشی۔ میزبان ٹیم میں ناظم ملتان اسامہ خلیل، ناظم عمومی محمد حذیفہ، ناظم اطلاعات ملتان محمد ابوبکر، ناظم MSO BZU خلیل الرحمٰن شارف، ڈاکٹر عمر اقبال ساقی ممبر سپریم کونسل MSO پاکستان، محمد سہیل اعوان اور شعیب ظفر شامل تھے۔

تمام قائدین و مقررین نے “غلبۂ اسلام و استحکام، اور بیداریٔ فکر سے تعمیرِ وطن تک” کے جامع اور فکر انگیز سلوگن کی روشنی میں سیر حاصل گفتگو کی۔ گفتگو کا محور نوجوانوں کی فکری تربیت، دینی و اخلاقی شعور، ملی ذمہ داری اور ایک باکردار معاشرے کی تشکیل رہا۔ یہ بات نمایاں رہی کہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا اسٹیج ہمیشہ کی طرح مسلکی تعصبات سے بالاتر نظر آیا، جہاں بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی کے معزز رہنماؤں کی موجودگی نے اتحادِ امت اور وسعتِ فکر کا عملی پیغام دیا۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس وقت اپنا پچیسواں یومِ تاسیس منا رہی ہے۔ پچیس برس تک ثابت قدمی کے ساتھ اپنے نظریے پر قائم رہنا اس امر کی روشن دلیل ہے کہ ایم ایس او محض نعروں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ اپنے کارکنان کی فکری، تعلیمی اور اخلاقی تربیت کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے۔ الحمدللہ، یہی سنجیدہ اور منظم تربیتی سفر ایم ایس او کو طلبہ تنظیموں میں ایک منفرد اور باوقار مقام عطا کرتا ہے۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان چاہے مدارس اسلامیہ کا فاضل ہو یا عصری تعلیمی ادارے سے تعلق رکھتا ہو “غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان اس کی زندگی کا ایک اہم جزو ہو”، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن چاہتی ہے کہ آنے والے کل عصری اداروں کے ”مسٹر“اور مدارس کے ”ملا“ کے درمیان انگریز کی پیدا شدہ تفریق کا خاتمہ ہو اور مسلم نوجوان صرف اور صرف دین اسلام کے غلبہ اور وطن عزیز پاکستان کے لئے اپنی جان تک قربان کر سکتا ہو۔ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کسی مخصوص طبقے یا مسلک کے حامل افراد کی تنظیم نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ایسے افراد کی جماعت ہے جو تمام مسلکی، لسانی اور صوبائی اختلافات سے ہٹ کر دین کی سربلندی اور پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے جمع ہوئے ہیں، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن افراد ملت کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کی ایک تحریک کا نام ہے۔ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آج اپنا مشن کراچی سے لے کر خیبر تک اور سیاچن سے لے کر خنجراب تک پھیلا چکی ہے، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی ابتدا سے لے کر آج تک، ایک عام کارکن سے لے کر ناظم اعلیٰ تک کسی ایک پر بھی کوئی خلاف قانون کام کرنے کا الزام تو کیا کسی کارکن پر اپنے اساتذہ کے ساتھ بد تمیزی جیسا الزام بھی نہیں ہے الحمدللہ!۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ہر دور میں اسلام اور پاکستان کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے، چاہے آغا خانی بورڈ کا مسئلہ ہو، عدلیہ کا مسئلہ ہو یا حرمت رسولﷺ کی بات ہو ایم ایس او نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے اس ہی کر دار کو دیکھتے ہوئے طلباءاس میں جوق درجوق شامل ہو رہے ہیں ایم ایس او دیکھتے ہی دیکھتے ایک مضبوط طلبہ تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، ایم ایس او کے نصب العین ”غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان“ کودیکھتے ہوئے بہت سی دوسری طلبہ تنظیموں نے اس نصب العین کو اپنا لیا ہے اور یہی ایم ایس او کے اخلاص کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن تمام طلباء کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اس تنظیم کے پلیٹ فارم میں بلا جھجک آئیں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں۔

اسلامک رائٹرزموومنٹ
اسلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں