حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب،ایک شخصیت، ایک تحریک/تحریر/مولانا حماد اللہ لغاری
حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم سے میرا تعلق عقیدت، محبت اور علم کا ایک ایسا رشتہ ہے جو دل کی گہرائیوں سے قائم ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط اور پختہ ہوتا چلا گیا۔
یہ سن 2010 کی بات ہے۔ اُس وقت میں نے درجۂ رابعہ مکمل کیا اور اسی کے ساتھ انجینئرنگ میں بی ایس سی (B.Sc) کی ڈگری بھی حاصل کی۔
میرے والدِ محترم کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ میں صرف ایک پہلو پر اکتفا نہ کروں، بلکہ دینی اور عصری تعلیم — دونوں کو ساتھ لے کر چلوں۔
اسی خواہش نے میرے دل میں یہ آرزو پیدا کی کہ میں کسی ایسے ادارے سے وابستہ ہوں جہاں دین و دنیا کی تعلیم کا حسین امتزاج موجود ہو۔
چنانچہ میرے ذہن میں جو پہلا نام ابھرا، وہ تھا جامعۃ الرشید۔
اسی خواہش کے تحت میں نے اسی سال رمضان المبارک کے آخری ایام میں اعتکاف کیا۔
ہر نماز اور ہر دعا میں یہی التجا تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جامعۃ الرشید میں داخلہ نصیب فرمائے۔
الحمدللہ! وہ دعا قبول ہوئی، اور بھرپور کوشش کے بعد میں جامعۃ الرشید کا طالب علم بن گیا۔
جامعہ میں قیام کے چار سال (2010 تا 2014) کے دوران بہت سے جلیل القدر اساتذہ سے استفادہ کیا، مگر حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب کی شخصیت میں ایک غیر معمولی کشش تھی — ان کا حلم، بردباری، اساتذہ و طلبہ کے ساتھ محبت، اور ہر ایک کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا ان کی طبیعت کا لازمی حصہ ہے۔
ان کی محفل میں بیٹھ کر سکون، اپنائیت اور تربیت کا ایک خاص احساس ہوتا، اور انسان خود بخود ان کی طرف کھنچتا چلا جاتا، جو ان کی شخصیت کو نمایاں مقام دیتا ہے۔
میں نے 2014 میں جامعہ سے فراغت حاصل کی۔
اساتذہ کی خواہش تھی کہ میں مزید تعلیم کے لیے جامعہ سے وابستہ رہوں، مگر اس وقت میرا ارادہ تھا کہ کچھ عرصہ اپنے علاقے میں خدمت اور عملی کام کروں۔
چنانچہ میں واپس چلا گیا، لیکن دل ہمیشہ جامعہ اور اس کی تحریک سے جڑا رہا۔
جامعۃ الرشید: ایک ادارہ نہیں، ایک تحریک:
میں پورے یقین سے سمجھتا ہوں کہ جامعۃ الرشید محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو امتِ مسلمہ کو صدیوں بعد نصیب ہوئی ہے۔
اگرچہ ہماری خاندانی وابستگی جمعیت علماء اسلام سے ہے، لیکن میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ جامعۃ الرشید، جمعیت علماء اسلام کی ضرورت ہے اور جمعیت علماء اسلام، جامعۃ الرشید سے فکری استفادہ کرے۔ یہاں جو طلبہ تیار ہو رہے ہیں وہ ہمارے نظامِ حکومت کو چلانے کی بھرپور استطاعت رکھتے ہیں اور یہی جے یو آئی کا مشن ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ مختلف یونیورسٹیوں اور علمی اداروں سے تعلیمی وابستگی، متعدد ممالک کے علمی و فکری اسفار،
اور M.Phil کے بعد جاری Ph.D کے تحقیقی سفر نے میری اس رائے کو مزید تقویت دی۔
دنیا کے مختلف علمی و فکری مراکز کے تجربات، مکالمات، اور روحانی و علمی شخصیات سے استفادے کے بعد یہ رائے پوری طرح پختہ ہو گئی۔
حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب کی قائم کردہ فکر — دین و دنیا کے امتزاج، فکری اعتدال، اور علمی تجدید — ہی وہ سمت ہے
جس سے امتِ مسلمہ کی فکری و تعلیمی تعمیر نو ممکن ہے۔
حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب نے جو نظریاتی بنیاد رکھی — دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کے ساتھ اسلامائزیشن کے فکری تصور کو اجاگر کیا، وہ دراصل حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تحریک کی ایک جدید تعبیر ہے۔
موجودہ وابستگی اور مشاہدات:
آج جامعہ سے فراغت کو دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔
گزشتہ دو سال سے میں ایک بار پھر جامعۃ الرشید سے مکمل طور پر وابستہ ہوں۔
ان دو سالوں میں حضرت کی شفقت، محبت، اور تربیت کے بے شمار پہلوؤں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
حضرت کی انکساری، حوصلہ افزائی، اور خاموش خدمت کے وہ مناظر جو میں نے دیکھے، وہ شاذ و نادر ہی ہمارے دینی اور تنظیمی نظاموں میں نظر آتے ہیں۔
اختلافِ رائے ہر دور کی شخصیات کے ساتھ ہوتا رہا ہے، مگر حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب کا طرزِ عمل ہمیشہ اخلاص، وسعتِ نظر، اور امت کے اجتماعی مفاد پر مبنی رہا ہے۔
برصغیر کے مذہبی و فکری حلقوں میں انقلابی شخصیات کو ہمیشہ مخالفتوں اور آزمائشوں کا سامنا رہا ہے، اور حضرت بھی اسی روایت کے امین ہیں۔
میری رائے میں اسلامائزیشن اور دینی اداروں کی فکری تعمیر کی جو بنیاد حضرت اور جامعۃ الرشید نے رکھی ہے،
وہی آئندہ نسلوں کے لیے راہِ عمل اور سمتِ رہنمائی کا تعین کرے گی۔
حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب واقعی ایک ایسی شخصیت ہیں جو بیک وقت روحانیت، علم، اور فکرِ تحریک کا حسین امتزاج ہیں —
وہ ایک شخصیت، ایک تحریک ہیں اور یہ ٹوٹے پھوٹے جملے اپنے مرشد و مربی کی گراں قدر شخصیت کے لیے کے ایک نالائق طالب علم کی طرف سے سپاس نامہ ہیں اور محبت کا اظہار بھی۔
حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب،ایک شخصیت، ایک تحریک/تحریر/مولانا حماد اللہ لغاری