گڑھی حبیب اللہ اور اتحادِ علمائے دیوبند✍🏻 مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی
گڑھی حبیب اللہ ضلع مانسہرہ ایک ایسا واحد مقام رہا ہے جہاں اتحادِ علمائے دیوبند کے نام پر تمام جماعتوں کا مشترکہ جلسہ منعقد ہوتا تھا۔ یہ جلسے اس علاقے میں مسلکِ حق علمائے دیوبند کے اتحاد کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ یہاں دوسرے مسلک کے پروگرام بھی ہوا کرتے ہیں اور ان کے معروف مقررین، مثلاً مولانا حنیف قریشی صاحب، تشریف لاتے ہیں۔ اسی کے بالمقابل مسلک دیوبند کے تمام تنظیمی پلیٹ فارمز مل کر ایک متحدہ جلسہ کرتے تھے جس میں اتحاد اور اتفاق کا پیغام دیا جاتا تھا۔
لیکن اس مرتبہ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ یہاں ہونے والا جلسہ اس اتحاد کے بجائے اختلاف اور انتشار کا سبب بن گیا۔ ایسے مہمانوں کو بلایا گیا جو کسی تنظیم سے ناراض ہو کر دوسری جماعت میں شامل ہو گئے یا اپنی الگ جماعت بنا بیٹھے۔ سوال یہ ہے کہ اس تقسیم سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر نقصان یقینی طور پر مسلکِ دیوبند کے اتحاد کو پہنچ رہا ہے۔
میری گڑھی حبیب اللہ کے تمام ساتھیوں سے پُرعاجزانہ اپیل ہے کہ آئندہ ایسے جلسے نہ کیے جائیں جو اتحاد کو کمزور اور انتشار کو فروغ دینے کا سبب ہوں۔ سیرت النبی ﷺ جیسے مبارک عنوان کے نیچے اگر بھائی بھائی کے خلاف بات کرے، جماعت جماعت کے خلاف نفرت پھیلائے تو یہ سراسر سیرت کے پیغام کے منافی عمل ہے۔
میری رائے یہ ہے کہ اگر مشترکہ جلسہ کیا جائے تو اس میں ایسی غیر متنازعہ شخصیات کو بلایا جائے جو تمام جماعتوں کے لیے قابلِ قبول ہوں اور ہر جماعت کی مقتدر قیادت اس میں شریک ہو۔ تاکہ یہ جلسے کامیاب بھی ہوں اور اس پلیٹ فارم سے علمائے دیوبند کے اتحاد اور اتفاق کا پیغام بھی مضبوط ہو۔ خاص طور پر گڑھی حبیب اللہ جیسے علاقے میں جہاں اس اتحاد کے لیے طویل عرصہ محنت کی گئی ہے، وہاں اس اتحاد کو برقرار رکھنا اشد ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت النبی ﷺ کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام