قائد جمعیت مدظلہم کے ساتھ غیر ضروری تصاویر کارجحان: عقیدت یا نمائش؟/تحریر/محمد زاہد شاہقائدِ جمعیت مولانافضل الرحمن دامت برکاتہم کے ہر لمحے کی تصویریں وائرل کرنے کا جو رجحان عام ہوتا جا رہا ہے، وہ نہ صرف ناقابلِ فہم ہے بلکہ فکری طور پر بھی قابلِ غور ہے۔ ملاقات کی ایک آدھ تصویر شیئر کر دی جائے تو وہ محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے کافی ہے( اگرچہ یہ اظہارِ عقیدت کا شرعی طریقہ نہیں)گوکہ موقع و محل کے لحاظ سے ہم بھی کبھی کبھار کوئی پرانی یا یادگار تصویر شیئر کر لیتے ہیں، مگر ہر موقع کی تصویریں اپ لوڈ کرنا اور اسے معمول بنا لینا کسی طور مناسب نہیں۔دست بوسی کے وقت مخصوص کیمرہ مین کو الرٹ رکھنا، مصافحے کے دوران غیر ضروری انداز میں قائدِ محترم کے قریب ہو کر ’’راز و نیاز اورمشاورت‘‘ کا تاثر دینا، اور پھر ان تصاویر پر خصوصی ملاقات یا اہم مشاورت جیسے عنوانات چسپاں کرنا، ہمارے فکری و اخلاقی کھوکھلے پن کےتاثر کونمایاں کرتا ہے۔
کیونکہ اگرتصویر ہی عقیدت و قربت کا واحد پیمانہ قرار پائے، تو پھر قائدِ محترم مدظلہ کے فرزندانِ عزیز بھی شاید اس معیار پر پورے نہ اتریں، کیونکہ قائدِ محترم کے ساتھ ان کی بنسبت دیگر لوگوں کی تصاویر زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔
ہمارے جے ٹی آئی دور کے مخلص ساتھی، مولانا حسین احمد سومرو جو قائدِ محترم کے خلیفۂ مجاز ہیں ،ممکن کبھی اتفاقا قائد محترم کے ساتھ ان کی تصویرآئ ہو لیکن میں نے کبھی ایسی تصویر نہیں دیکھی گئی جو انہوں نے خود اہتمام سے کھنچوائی ہو۔ اگر تصویر کو ہی معیار مان لیا جائے تو کیا ان کی خلافت اور عقیدت بھی مشکوک ٹھہرے گی؟
آج ہی کی خبر ہے کہ قائدِ محترم نے آنکھوں کا معائنہ کروایا، اور لمحوں میں اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ طبی معائنہ ایک نجی اور حساس معاملہ ہوتا ہے؛ ڈاکٹر کے ساتھ اعتماد، ذاتی وقار اور مریض کی رازداری کا تقاضا کرتا ہے کہ ایسی تصاویر بغیر اجازت سامنے نہ لائی جائیں۔ یہ انتہائی غیر مناسب اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے،خصوصاً جب معائنہ جیسے ذاتی موقع کو عوامی نمائش کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ اس طرح کی فوری شیئرنگ سے ذاتی وقار مجروح ہوتا ہے ، آخر یہ کون لوگ ہیں جو قربت کے باوجود اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟
انسان کی ایک نجی زندگی ہوتی ہے، جس میں اس کے ذاتی معمولات، کھانے پینے کے اوقات اور آرام کے لمحات شامل ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ کچھ احباب اس پہلو کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ ایسے مناظر کو دکھا کر ہم اپنی ہی اقدار کا مذاق اڑاتے ہیں ، عقیدت کی آڑ میں دکھاوے کو پروان چڑھانا اعتبار اور شرافت کے منافی ہے۔
یہ چند قلبی احساسات ہیں جنہیں بندہ نے الفاظ کا پیرہن پہنا کر پیش کیا ہے۔ کسی متعین فرد کو نشانہ بنانا یا اس کے جذبات کو مجروح کرنا ہرگز مقصودنہیں، بلکہ یہ
ایک عمومی اور خیرخواہانہ پیغام ہے
صلائے عام ہے، یارانِ نکتہ داں کے لیے