0

میری نسل کا پاکستان: آج کا نوجوان اور جناح کا پاکستان/ تحریر/ محمد فضیل انصاری

میری نسل کا پاکستان آج کا نوجوان اور جناح کا پاکستان
تحریر/ محمد فضیل انصاری

میری نسل کا پاکستان: آج کا نوجوان اور جناح کا پاکستان

تحریر ( محمد فضیل انصاری)

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اُس زمین پر تو چل رہے ہیں جس کے لیے بے شمار قربانیاں دی گئیں لیکن ہم اس کی روح سے دور ہو چکے ہیں ہم نے اس کی مٹی کو محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے ہمارے خواب بکھر گئے ہیں اور ہماری سوچ منتشر ہو چکی ہے ہماری نسل آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں نہ منزل کا پتہ ہے نہ راستے کی پہچان ہے اور اسی الجھن میں ایک سوال خاموشی سے دل میں جنم لیتا ہے کہ کیا یہی ہے وہ پاکستان جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا اور کیا ہم وہی نسل ہیں جس پر اس خواب کی تعبیر کی ذمہ داری تھی پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ یہ ایک نظریہ ہے ایک ایسا خواب جو قربانیوں کی دھوپ میں پل کر جوان ہوا جس کے ایک ایک ذرے میں ماں کی دعا، مجاہد کی قربانی، بیٹی کی عضمت، اور مفکر کی فکر شامل ہے مگر افسوس ہماری نسل نہ ان قربانیوں کو سمجھ سکی نہ ان خوابوں کو قائداعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان اس لیے حاصل کیا گیا کہ مسلمان اپنے دین، اپنی تہذیب، اور اپنے عدالتی نظام کے مطابق زندگی گزار سکیں آج کے نوجوان کے پاس آزادی تو ہے لیکن اس کی سوچ مغربی چمک دمک میں قید ہو چکی ہے وہ ٹیکنالوجی میں تو آگے بڑھ رہا ہے مگر مقصد اور نظریہ کے لحاظ سے پیچھے ہٹ چکا ہے اس کے ہاتھوں میں جدید آلات ہیں مگر دل و دماغ کھوکھلے ہو چکے ہیں آنکھوں میں خواب تو ہیں مگر وہ خواب محض وقتی خوشی اور دکھاوے تک محدود ہیں ہماری نسل کے نوجوان سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزارتے ہیں مگر اپنے ملک کے لیے چند لمحے بھی وقف نہیں کرتے بچپن میں جب ہم سبز پرچم کے سامنے کھڑے ہو کر قومی ترانہ پڑھتے تھے تو دل میں جو جوش اور ولولہ ہوتا تھا وہ اب کہاں کھو گیا ہے کیا ہم نے اسے کسی عارضی تفریح میں دفن کر دیا ہے

میرے نوجوان ساتھیو آؤ آئینہ دیکھیں اور خود سے سوال کریں کہ کیا ہم واقعی پاکستان سے محبت کرتے ہیں یا صرف جشن آزادی کے دن جھنڈیاں لگا کر نعرے لگا کر اپنے فرض کی تکمیل سمجھتے ہیں محبت صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ قربانی، خلوص، اور شعور کا نام ہے جناح کا پاکستان وہ پاکستان تھا جہاں انصاف طاقتور کا غلام نہ ہو، تعلیم قابلیت کی بنیاد پر ملے، مذہبی آزادی ہو، اور نوجوان محض نوکری کے متلاشی نہ ہوں بلکہ عزت و وقار کے ساتھ اس ملک کے معمار ہوں مگر ہم نے بدقسمتی سے جہالت کو فیشن بنا دیا، بدتمیزی کو آزادی سمجھا، ملکی وسائل کو ذاتی مال جانا، اور ووٹ کو خرید و فروخت کا ذریعہ بنا دیا ہم نے پاکستان کو سنوارنے کے بجائے اسے زخمی کر دیا یہ تحریر کوئی نصیحت نہیں بلکہ ایک چیخ ہے، ایک آواز ہے اس خواب کی جو ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا جب خواب ٹوٹتے ہیں تو صرف آنکھیں نہیں روتیں، بلکہ مٹی بھی تڑپتی ہے میرے ہم عمر نوجوانو تم ہی وہ روشنی ہو جو اندھیرے میں امید کا چراغ بن سکتی ہے تم ہی وہ چمکتا ہوا سورج ہو جو مایوسی کی رات کو ختم کر سکتا ہے یہ ملک سیاست دانوں یا مالداروں کا نہیں صرف تمہارا ہے اگر تم بدل جاؤ تو پاکستان بدل جائے گا تم اگر سچائی کا علم اٹھاؤ، محنت کو زندگی کا شعور بناؤ، اپنی زبان اور تاریخ کو اپناؤ تو پاکستان سنور جائے گا اگر تم نے خود کو غفلت میں ڈوبا رکھا تو یہ ملک صرف ایک جغرافیہ بن کر رہ جائے گا ہمیں ایک ایسا انقلاب چاہیے جو سوچ میں آئے رویوں میں آئے کردار میں آئے ایسا انقلاب جو کسی ہنگامے یا شور سے نہ ہو بلکہ دل و دماغ کی تبدیلی سے آئے ایک انقلاب جو ہمیں اس راستے پر لے آئے جہاں ہم خود سے سوال کریں کہ میں پاکستان کو کیا دے رہا ہوں تعلیم صرف سند حاصل کرنے کا نام نہیں، نماز صرف وقت گزارنے کا عمل نہیں، اور حب الوطنی صرف نعرے بازی کا نام نہیں یہ سب ہماری زندگی کے نظریے ہیں اور جب نظریہ مٹ جائے تو قومیں باقی نہیں رہتیں ہمیں پھر سے سوچنا ہے، دوبارہ اپنے کردار پر غور کرنا ہے ہم صرف اچھے عہدے یا دولت کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ وہ نسل بنیں جس پر قائداعظم کو فخر ہو ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ وقت ہمارا ہے، طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے، اور راستہ ہمارے ارادوں سے بنتا ہے اگر ہم بدلیں گے تو پاکستان سنورے گا ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ہمیں اپنے وطن سے محبت کو محض دعوؤں سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کرنا ہوگا ہمیں اپنی سوچ، اپنی عادتوں، اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا ہمیں جشن آزادی منانے کے ساتھ آزادی کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے یہ وقت ہے جاگنے کا، یہ وقت ہے قربانی دینے کا، یہ وقت ہے خود کو بدلنے کا اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا تو کل ہماری نسلیں مایوسی، بھوک، اور بدعنوانی کا سامنا کریں گی آؤ آج یہ عہد کریں کہ ہم اس خواب کو مرنے نہیں دیں گے ہم اس خاک کو مایوس نہیں کریں گے ہم خود کو جگائیں گے، سنواریں گے، اور اپنے پاکستان کو وہ بنائیں گے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا وہ پاکستان جہاں عدل ہو، علم ہو، امن ہو، عزت ہو، اور نوجوان امید کی کرن بن کر ابھریں اور کسی دن جب ہم اپنی نسل کو پاکستان کی کہانی سنائیں تو یہ نہ کہنا پڑے کہ

ہم نے ایک عظیم وطن پایا تھا اور اسے برباد کر دیا بلکہ ہم فخر سے کہیں کہ ہم نے اسے سنوارا، ہم نے اسے جگایا، اور ہم نے قائداعظم کا خواب پورا کیا .

پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار/ تحریر/ مائرہ سعید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں