0

پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار/ تحریر/ مائرہ سعید

پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار
تحریر/ مصنفہ مائرہ سعید

صنف: کالم
عنوان: پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار
مصنفہ: مائرہ سعید

کسی بھی ملک کی تعمیر اور ترقی میں نوجوانوں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ نوجوانوں کا وجود کسی ریاست میں ریڈھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتا ہے۔ جس میں زرا سا بھی ٹیڑھ پن یا بگاڑ ملکی ساکھ کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ نوجوان اپنے ہنر کے بل بوتے پر ملکی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار میں لاتے ہوئے ملک و قوم کے لیے ترقی کی راہوں کو ہموار کرتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں جس شعبہ زندگی کی جانب نگاہیں اٹھائی جائیں وہاں نوجوان طبقہ اپنی قابلیت اور ذہانت کے بل بوتے پر اپنی ذات کے لوہے کو منواتے؛ اس شعبہ زندگی میں کامیابی کے جھنڈے گاڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ شعبہ چاہے سیاست کا ہو یا معاشیات کا، علم کے میدان میں بطور استاد اپنے فرائض سر انجام دینا ہو یا ڈاکٹری کے پیشے سے منسلک ہو کر عوام کی بے لوث خدمت کرنا ہو، ہر شعبے میں نوجوان اپنی قابلیت کے بل بوتے پر کامیابیاں سمیٹتے دکھائی دیتے ہیں۔

موجودہ دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے نوجوان نسل کے لیے علم اور ہنر کی راہوں کو ہموار کیا ہے۔ وہی ہماری نوجوانوں نسل کا ایک بہت بڑا طبقہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال میں مبتلا ہے۔ یہ منفی استعمال نہ صرف ان کی ذہنی و جسمانی صحت پر اثرانداز ہو رہا ہے بلکہ معاشرے میں جرائم جیسے عناصر کے فروغ کی وجہ بھی بن رہا ہے۔ آئے دن لوٹ مار اور ڈکیتی کے واقعات میں کتنے ہی نوجوان نقاب تلے اپنے چہرے چھپاتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ تو ان جرائم کے دوران پولیس کے ہاتھوں موت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور کچھ ان جرائم کی پاداش میں جیل میں سزا کاٹتے دکھائی دیتے ہیں۔

آج کے نوجوان زندگی میں کامیابی کے حصول کے لیے آسان راستوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ وہ محنت و مشقت سے گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل آج بےراہ روی کا شکار ہے۔ معاشرے کے لیے ان کا وجود ناسور بن چکا ہے۔ اس کے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی رہنمائی نہیں کی جاتی۔ انہیں کس پیشے سے منسلک ہونا ہے، کس شعبہ زندگی میں وہ اپنے ہنر کو آزما سکتے ہیں؟ ان تمام باتوں کی جانب ہمارے معاشرے میں بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ اور نوجوان نسل صحیح رہنمائی نہ ملنے پر اپنی زندگی میں غلط راستوں پر چل پڑتی ہے۔ جس کی منزل سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ہوتی۔

جوانی درحقیقت انسانی زندگی کا وہ دور ہے جو سب سے زیادہ طاقت ور سمجھا جاتا ہے۔ اس میں انسان بلند حوصلوں سے لبریز ہوتا ہے۔ وہ بڑی سے بڑی مشکل کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتا۔ یہی وہ دور ہے کہ جس میں انسان میں خواہشات کی فراوانی بھی پائی جاتی ہیں۔ وہ اپنے بہت سے خوابوں کو پلک جھپکتے ہی تکمیل کے مراحل سے گزرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوتا ہے۔ جوانی بہت منہ زور ہوتی ہے۔ انسان بعض اوقات ان خواہشات کی تکمیل کی خاطر صحیح و غلط ، حلال و حرام کے فرق کو فراموش کر دیتا ہے۔ اس دور جوانی میں اگر نوجوانوں کی درست سمت کی جانب رہنمائی نہ کی جائیں تو وہ بےراہ روی کا شکار ہو کر معاشرتی برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

اس سب کے برعکس اگر یہی نوجوان طبقہ درست سمت کی جانب گامزن ہو جائے تو نہ صرف اپنے اہل و عیال کے لیے بلکہ ملک و قوم کے لیے بھی فخر کا باعث بن سکتا ہے۔ تاریخ کے سنہری اوراق میں ایسے بہت سے نوجوانوں کی بہادری کے قصے درج ہیں۔ جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہوئے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کیا۔ اپنی جواں مردی کے بل بوتے پر تاریخ اسلامی میں عظیم فتوحات کو اپنے نام کیا۔ محمد بن قاسم کا نام کسی تعریف کا محتاج نہیں ہے جنہوں نے محض 17 سال کی عمر میں سندھ کو فتح کر کے تمام عالم دنیا کو اپنی شجاعت، بہادری اور دلیری سے حیران کر دیا۔ تاریخ میں محمد بن قاسم جیسے بہت سے نوجوان ہے جنہوں نے عظیم معرکے لڑے اور فتوحات کو اپنے نام کرتے ماضی میں بہادری کی عظیم مثالیں رقم کیں۔

موجودہ دور میں ہمارے نوجوان طبقے کو ایک درست سمت کی جانب رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہیں ہنر مند بنانے کے لیے اور ان کی ذات میں چھپی صلاحیتوں کو باہر لانے کے لیے مختلف پروگرامز منعقد کیے جانے چاہیے۔ جن کے ذریعے وہ محتلف علم و فنون میں مہارت حاصل کر سکیں۔ شعبہ تعلیم میں بھی طلباء کی کاؤنسلنگ کے لیے مختلف ڈیپارٹمنٹس بنائے جانے چاہیے۔ طلباء کو تعلیم کے دوران روزگار کے مختلف مواقع فراہم کیے جانے چاہیے۔ تاکہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات آسانی سے ادا کر سکیں۔ اور ایک بڑا طبقہ ناخواندگی کے شکار سے بچ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر مختلف مہم چلائی جانی چاہیے جن میں نوجوانوں کو شامل کر کے ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا جانا چاہیے۔

نوجوان وہ سیڑھی ہے جس پر چل کر ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہیں۔ ملک میں امن و امان اور سلامتی کی فضا برقرار رہتی ہے۔ اس سیڑھی کو درست سمت کی جانب رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ اور اگر یہ مل جائیں تو اس ملک و قوم کا شمار نہ صرف ترقی یافتہ قوموں میں ہونے لگے بلکہ وہ ان کے بل بوتے پر آنے والے وقتوں ایک بہترین قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرے۔
تحریر/ مصنفہ مائرہ سعید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں