میرا گاؤں… میرا فخر، میرا درد✍️ از قلم: میمونہ شفقت
ایک زمانہ تھا…
جب ہمارا گاؤں سِہال محبت، خلوص اور زندگی سے بھرا ہوا تھا۔
یہ وہ سرزمین تھی جہاں صبح کی ہوا خوشبو لیے چلتی،
جہاں کھیتوں میں سبز لہریں جھومتی،
اور لوگ دل کے اتنے نرم تھے کہ ہر بات میں اپنائیت جھلکتی تھی۔
یہی وہ گاؤں تھا جو “کنواں سوئی والا” کے نام سے مشہور تھا —
وہ کنواں جس کے گرد صبح و شام رونق رہتی،
جہاں عورتیں بچے دن سے رات تک محنت کرنے اآتیں،
بچے کھیلتے، ہنسی کی گونج فضا میں بکھر جاتی۔
اور پھر تھا “لوٹا کنواں” —
گاؤں کا ایک اور نشانِ فخر۔
جہاں کی مٹی میں ہمارے باپ دادا کے پسینے کی خوشبو آج بھی بسی ہے۔
وہ جگہ جہاں محنت، غیرت، اور محبت ایک ساتھ سانس لیا کرتے تھے۔
یہ وہی سہال تھا،
جہاں کے لوگ دن رات کھیتوں میں محنت کرتے،
اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے،
اور رزقِ حلال کما کر سکون کی نیند سوتے۔
گاؤں کے اسکولوں کے نام ہی فخر سے لبریز تھے —
گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سِہال
اور بوائز ہائی اسکول سِہال۔
پھر وہی بچے آگے بڑھے،
کالج سیہال میں پہنچے،
اور اپنے خوابوں کو تعبیر دی۔
یہ گاؤں صرف مٹی کا نہیں،
بلکہ ایک خواب، ایک محبت، ایک تاریخ تھا۔
چھوٹے چھوٹے کلینک، جہاں ہمارے باپ دادا علاج کرواتے،
آج بھی قائم ہیں،
اور وہی شفا، وہی عزت آج بھی برقرار ہے۔
اور جب بات آئے مسجدوں کی —
تو ماشااللہ چار پانچ خوبصورت مساجد،
ہر ایک اپنے رنگ، اپنی روشنی میں منفرد۔
صوفی صاحب کی مسجد، بڑی مسجد، جامع مسجد،
اور دیگر مساجد —
جنہوں نے ہمیں اللہ سے جوڑنے کا ہنر سکھایا۔
یہ گاؤں کسی شہر سے کم نہ تھا۔
ہر ضرورت میسر، ہر دل مطمئن۔
یہ سب ہمارے بڑوں کی محنت،
ان کے خلوص اور محبتوں کا ثمر تھا۔
مگر پھر…
وقت بدلا۔
لوگ پڑھے لکھے، مگر دل خالی ہوتے گئے۔
گاؤں کے بچے تعلیم کے لیے شیروں کا رخ کرنے لگے اور آہستہ آہستہ وہی بس گے
مگر واپس نہ آئے۔
ماں باپ دروازوں پر نظریں جمائے رہ گئے،
بہنیں انتظار میں آنسو بہانے لگیں،
اور گاؤں کی رونقیں جیسے آہستہ آہستہ مٹنے لگیں۔
آج وہی سہال
جہاں کبھی محبت سانس لیتی تھی
اب خوف کی وادی بن چکا ہے۔
جہاں بیٹی اکیلی گھر میں محفوظ نہیں،
جہاں ماں اپنے بچوں کے ساتھ ڈرتی ہے،
جہاں جوان بیٹا باہر جانے سے ہچکچاتا ہے۔
وجہ؟
وہی لوگ جنہوں نے اپنے باپ دادا کی محنت کی قدر نہ کی،
جو ایمان اور غیرت کا مفہوم بھول گئے۔
دکھ اتنا ہے کہ لفظ کم پڑ جاتے ہیں،
اور آنسو بھی اجازت مانگتے ہیں۔
مگر کچھ لوگ آج بھی حوصلہ رکھتے ہیں،
جو اب بھی سچ کے لیے کھڑے ہیں،
جو اب بھی اپنے گاؤں کی مٹی،
اپنے باپ دادا کے خون اور پسینے کی لاج رکھتے ہیں۔
یہی اصل بہادری ہے۔
یہی وہ ماں کی تربیت ہے،
جو ایسے بیٹے پیدا کرتی ہے جو اپنے حق، اپنی مٹی، اور اپنے ایمان پر قربان ہو جاتے ہیں۔
یہ تحریر صرف ایک کہانی نہیں
بلکہ ایک صدا ہے!
ایک پکار ان سب کے لیے جو ابھی خاموش ہیں۔
اٹھو!
اپنے گاؤں کے لیے، اپنے بڑوں کی قربانیوں کے لیے۔
اپنی مٹی کی لاج رکھو،
ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ۔
اللہ سے دعا ہے:
اے اللہ! ہمارے سِہال گاؤں کو سلامت رکھ،
ہمارے بڑوں کی محنت اور قربانیوں کو قبول فرما،
ہمیں اتفاق، محبت اور ایمان کی راہ پر قائم رکھ،
اور ظالموں کو ہدایت یا عبرت دے۔
آمین یا رب العالمین۔
خوش رہو، آباد رہو،
یہی پیغام ہے میرے دل سے میرے گاؤں کے نام
میرا سِہال، میرا فخر، میرا درد۔