جی
پاک افغان تعلقات/تحریر/ڈاکٹر مفتی اویس پراچہ
پاکستان و افغانستان، دونوں مسلمان ملک ہیں اور دونوں کی حکومتیں مسلمان ہیں۔ ان کے مابین کسی لڑائی پر خوشی کے شادیانے نہیں بجائے جا سکتے۔ یہ درست ہے کہ ان میں سے ایک اگر دوسرے کے باغیوں کو سپورٹ کرے گا تو دوسرے کو اس کا کوئی نہ کوئی علاج کرنا ہوگا، لیکن وہ علاج بامر مجبوری ہوگا، بخوشی نہیں ہوگا۔
اللہ پاک کا قرآن کریم میں ارشاد ہے:
“اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف واپس لوٹ آئے۔ تو اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کروا دو۔ اور انصاف سے کام لیا کرو، بے شک اللہ انصآف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔” (الحجرات: 49)
جو کچھ آج پاکستان نے کیا اور شاید آئندہ بھی کرے، وہ ایک طویل سلسلے کی انتہائی کڑیوں میں سے ایک ہے۔ مذاکرات سے لے کر مطالبات تک بہت کچھ ہو چکا ہے اور کوئی اثر نہیں ہوا۔ لیکن جو پاکستان ابھی کر رہا ہے اسے بھی ہم مجبوری کی حد تک ہی لے سکتے ہیں اور اسی حد تک ساتھ دے سکتے ہیں۔ اس پر بغلیں بجانا اور چیلنج بھری پوسٹس کرنا نامناسب عمل ہے۔
یہاں “بھارت کو پانچ گھنٹوں میں فلاں فلاں کر دیا تو تم کیا ہو؟” جیسی پوسٹس کرنے سے قبل یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اللہ پاک کی مدد اس وقت آتی ہے جب مسلمان کا مقابلہ غیر مسلم سے ہو۔ مسلمان جب مسلمان کے مقابلے میں ہو تو بس اسی حد تک مدد کا وعدہ ہے جتنا ظلم ہوا ہو یا بغاوت ہو۔ اس کے بعد کچھ نہیں۔
سلطان بایزید کو اس کی تیز رفتار فتوحات کی وجہ سے یلدرم یعنی آسمانی بجلی کہا جاتا تھا اور تیمور لنگ وسط ایشیا سے ہند تک کا فاتح تھا۔ صلیبی لشکر ان دونوں سے ڈرتے تھے۔ لیکن جب دوںوں آپس میں لڑے تو دونوں سلطنتیں ختم ہونے میں صرف تین سال لگے۔ دونوں فوت ہو گئے اور قصہ پارینہ بن گئے۔ یہ طے ہے کہ مسلمان کی تلوار مسلمان کے خلاف کند ہو جاتی ہے یا ہمیشہ کا فتنہ پیدا کر جاتی ہے۔
0