ندیم نظر 0

پاکستان اور سعودی عرب!دلوں کی دھڑکن سے دفاعی عہد تک/تحریر/ندیم نظر

اگر ایک پر حملہ ہواتو دونوں پر تصور ہوگا
مشترکہ دفاعی معاہدہ، خطے میں طاقت کے توازن کا نیا رخ‘ناقابل شکست رفاقت

معاہدے میں فوجی تربیت، انٹیلیجنس شیئرنگ، مشترکہ آپریشنز اور دفاعی حکمت عملی کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق
بھارتی میڈیا نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے’’پاکستان کیلئے غیر معمولی اسٹریٹجک کامیابی‘‘ کے طور پر بیان کیا
فی الحال نیوکلیئر تعاون کا براہِ راست ذکر نہیںلیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ پہلو بھی شامل ہو سکتا ہے
بھارت کی ایک بڑی تشویش یہ ہے کہ مستقبل میں یہ دفاعی تعاون ٹیکنالوجی اور اسلحہ سازی کے شعبے تک بڑھ سکتا ہے

پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض دو ملکوں کا نہیں بلکہ دو دلوں کا، دو روحوں کا اور دو قوموں کے احساسات کا رشتہ ہے۔ یہ تعلق ان دنوں سے جڑا ہے جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا تو سب سے پہلے جس ہاتھ نے اس کے وجود کو تسلیم کیا، وہ سعودی عرب کا تھا۔ حرمین شریفین کی محبت اور کعبہ و مدینہ کی عقیدت نے دونوں ملکوں کو ایسی زنجیر میں باندھ رکھا ہے جسے وقت کے طوفان بھی کمزور نہ کر سکے۔پاکستانی عوام کے دلوں میں سعودی عرب کے لیے جو احترام ہے وہ صرف ایک ملک کا دوسرے ملک کے لیے نہیں بلکہ مقدس سرزمین کا وہ احترام ہے جس سے ایمان جڑا ہے۔ لاکھوں پاکستانی ہر سال حج اور عمرہ کے سفر پر نکلتے ہیں، ان کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کی سرزمین پر قدم رکھ رہے ہیں جو ان کے ایمان کی علامت ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب بھی پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب پاکستان معاشی مشکلات میں گھرتا ہے تو سب سے پہلے جس دروازے پر دستک دی جاتی ہے، وہ سعودی عرب کا ہوتا ہے اور یہ دروازہ ہمیشہ کھلا ملتا ہے۔

گزشتہ سات دہائیوں میں یہ رشتہ کئی آزمائشوں سے گزرا مگر ہر بار مزید مضبوط ہوا۔ کبھی یہ تعلق معاشی تعاون کی صورت میں نمایاں ہوا، کبھی لاکھوں پاکستانیوں کی صورت میں جو سعودی عرب میں محنت کر کے اپنے وطن کو سہارا دیتے ہیں اور کبھی یہ تعلق دفاعی میدان میں نمایاں ہوا جہاں پاکستانی فوجیوں نے سعودی عرب کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری جانا۔ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پاکستانی جوانوں کا کھڑا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ رشتہ محض الفاظ نہیں بلکہ قربانی اور عمل کا بھی تقاضا کرتا ہے۔

معاشی میدان میں سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ ستر کی دہائی کے بعد سے اب تک سعودی عرب نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور امداد فراہم کی، تیل کی فراہمی میں رعایتیں دیں اور جب کبھی پاکستان کو زرِ مبادلہ کی کمی کا سامنا ہوا تو سعودی قیادت نے آگے بڑھ کر سہارا دیا۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی محنت کشوں نے بھی اپنے وطن کے لیے ترسیلات زر کی شکل میں اربوں ڈالر بھیج کر معیشت کو سہارا دیا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسا جذبہ ہے جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو اور پختہ کیا۔دفاعی میدان میں پاکستان اور سعودی عرب کا تعاون سب سے نمایاں رہا ہے۔ پاکستانی افسران نے سعودی افواج کی تربیت اور تنظیمِ نو میں کردار ادا کیا، سعودی نوجوان افسران نے پاکستان کے عسکری اداروں سے تعلیم و تربیت حاصل کی اور دونوں ممالک کی افواج نے مشترکہ مشقوں کے ذریعے اپنے رشتے کو عملی بنیادوں پر استوار کیا۔ انسداد دہشت گردی میں بھی پاکستانی ماہرین نے سعودی عرب کی مدد کی اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے مل کر اقدامات کیے۔

یہی تعاون آج ایک نئے تاریخی موڑ پر پہنچا ہے۔ 17 ستمبر 2025ء کو پاکستان اور سعودی عرب نے ایک غیر معمولی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جسے دونوں ممالک کی تاریخ کا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا جائے تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق محض کاغذی الفاظ نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ مشکل کی گھڑی میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ معاہدے میں فوجی تربیت، انٹیلیجنس شیئرنگ، مشترکہ آپریشنز اور دفاعی حکمت عملی کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

یہ معاہدہ عالمی قانون کے تحت اجتماعی دفاع کے زمرے میں آتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہے۔ دونوں حکومتوں نے اس پر زور دیا ہے کہ یہ صرف دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے اور اس کا مقصد بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ اگرچہ بیشتر اسلامی ممالک نے اس اقدام کو اتحادِ امت اور خطے کے استحکام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے لیکن کچھ ممالک نے اس پر کھل کر تنقید بھی کی ہے۔ ان میں بھارت سرفہرست ہے۔بھارت نے اس معاہدے کو ’’خطے میں عسکری توازن بگاڑنے کی کوشش‘‘ قرار دیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر پاکستان اور سعودی عرب دفاعی اشتراک کو اس حد تک بڑھاتے ہیں کہ ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے تو یہ خلیج میں طاقت کے توازن پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔ بھارتی میڈیا نے بھی اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے’’پاکستان کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک کامیابی‘‘ کے طور پر بیان کیا، جس پر نئی دہلی کو تشویش ہے۔

بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان کو معاشی اور دفاعی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات بھارت کے خطے میں مفادات کے لیے بھی چیلنج بن سکتے ہیں۔ بھارت کی ایک بڑی تشویش یہ ہے کہ مستقبل میں یہ دفاعی تعاون ٹیکنالوجی اور اسلحہ سازی کے شعبے تک بڑھ سکتا ہے، جو پاکستان کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔بھارت کے علاوہ کچھ مغربی تجزیہ کاروں نے بھی اس معاہدے کو’’خطے میں نئے بلاک کی تشکیل‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ صرف دفاع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سیاسی و اقتصادی اثرات بھی مرتب کرے گا، جو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں نیا توازن پیدا کرے گا۔اس تنقید کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب دونوں نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے باہمی تحفظ اور خطے کے امن کے لیے ہے۔ تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے نے بھارت کو سب سے زیادہ بے چین کر دیا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ امریکہ نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی تفصیلات کا بغور جائزہ لیں گے۔

اس معاہدے کے مستقبل میں کئی پہلو نکل سکتے ہیں۔ دفاعی صنعت میں سعودی سرمایہ کاری، مشترکہ فوجی مشقوں میں اضافہ، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور خطے میں مشترکہ سکیورٹی منصوبے ایسے امکانات ہیں جو اب حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ اگرچہ فی الحال نیوکلیئر تعاون کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا لیکن بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ پہلو بھی دونوں ممالک کے باہمی اعتماد میں شامل ہو سکتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے جو محبت ہے وہ کسی بھی معاہدے سے بڑھ کر ہے۔ پاکستانی جانتے ہیں کہ اگر کبھی ان کے وطن پر کوئی مشکل آئی تو سعودی عرب ان کے ساتھ کھڑا ہوگا اور سعودی عوام کو یقین ہے کہ پاکستان کی فوج ہمیشہ ان کے لیے ڈھال بنے گی۔ یہی یقین دونوں قوموں کو قریب لاتا ہے، یہی اعتماد ان کے رشتے کو ناقابلِ شکست بناتا ہے۔یہ رشتہ اب ایک کہانی سے بڑھ کر تقدیر کا حصہ بن گیا ہے۔ 1947ء کے بعد سے لے کر آج تک جو سفر طے ہوا، وہ اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ وقتی ضرورت پر مبنی نہیں بلکہ دائمی ہے۔ اس میں وہ تقدس شامل ہے جو حرمین شریفین سے جڑا ہے، اس میں وہ قربانیاں شامل ہیں جو پاکستانی فوجیوں نے دی ہیں اور اس میں وہ اعتماد شامل ہے جو سعودی قیادت نے بار بار پاکستان پر ظاہر کیا ہے۔

آج کا دفاعی معاہدہ اس سفر کی تازہ کڑی ہے، ایک نیا باب ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اسلامی دنیا میں اتحاد ممکن ہے، بھائی چارہ زندہ ہے اور حرمین شریفین کی محبت میں جڑی یہ دو قومیں کسی بھی طوفان کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ یہ دن پاکستان اور سعودی عرب کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، ایک ایسا دن جسے پڑھتے وقت ہر پاکستانی اور ہر سعودی کے دل میں فخر کی لہر دوڑ جائے گی۔اس سب کے بعد اگر ایک عام پاکستانی کے دل کی آواز سننے کی کوشش کی جائے تو وہ یہی کہے گا کہ یہ رشتہ ہمارے ایمان، ہماری امید اور ہماری بقا کا ضامن ہے۔ سعودی عرب ہمارے لیے محض ایک دوست ملک نہیں بلکہ وہ سرزمین ہے جہاں ہمارے نبی ؐ آرام فرما ہیں اور پاکستان سعودی عوام کے لیے وہ ملک ہے جو ہر وقت ان کے دفاع کے لیے تیار کھڑا ہے۔ یہ رشتہ ایک دعا کی طرح ہے، ایک ایسے عہد کی طرح جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہے گا۔

جب میں پاکستان اور سعودی عرب کے رشتے کی یہ داستان دیکھتا ہوں تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا کی سیاست اور طاقت کے کھیل اپنی جگہ مگر کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو دلوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہ رشتہ ہے جس میں نہ کوئی حساب کتاب ہے نہ کوئی وقتی مصلحت بلکہ ایک عقیدت ہے، ایک محبت ہے اور ایک اعتماد ہے۔ آج کا دفاعی معاہدہ اس محبت کی عملی شکل ہے۔ میرا دل کہتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جب بھی تاریخ لکھی جائے گی، پاکستان اور سعودی عرب کا نام ایک ساتھ لکھا جائے گا۔ یہ رشتہ دھڑکن کی طرح ہے اور دھڑکن کبھی رکتی نہیں۔

لکھو کے ساتھ لکھو

ندیم نظر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں