مشن نور کی اصل حقیقتکالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
آج ہم بات کریں گے مشن نور کے نام، وقت، تاریخ اور قادیانیت سے مماثلت کی، یاد رہے، مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد جو پہلا خلیفہ بنا تھا وہ مولوی حکیم نورالدین تھا۔ اس نے قادیانیت کو سب سے زیادہ منظم اور دنیا بھر میں پھیلانے میں کردار ادا کیا۔ مولوی نورالدین نے اپنے ذیلی اجتماعات اور تبلیغی نیٹ ورکس کو نور مشن یا مشن نور کے نام سے منسوب کیا۔ آج بھی احمدیہ جماعت کے کئی ادارے اور تنظیمی نیٹ ورکس نور کے نام پر چلتے ہیں (مثلاً رسائل، ادارے، اسکول وغیرہ) اس لیے نورکی اصطلاح قادیانی مذہبی نیٹ ورک میں ایک تاریخی اور علامتی حوالہ رکھتی ہے۔ 20 ستمبر 1948ء کو قادیانی جماعت نے پاکستان میں اپنا پہلا مرکز ربوہ قائم کیا۔ یہ دن اُن کے لئے ایک سنگ میل اور اُن کی تبلیغی سرگرمیوں کی بنیاد ثابت ہوا۔ ربوہ آج بھی قادیانیت کے منظم اڈے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جہاں سے پوری دنیا میں اپنے عقائد کو پھیلایا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اچانک 20 ستمبر ہی کو مشن نور کے نام سے کیوں منسوب کیا تھا؟ اگر یہ ان سے محض اتفاقیہ غلطی سرزد ہو گئی تھی تو انہیں غلطی کو تسلیم کر لینا چاہئے تھا مگر یہ محض اتفاقیہ غلطی معلوم نہیں ہوتی اور پی ٹی آئی کو اچانک سے اذانیں دینے کا خیال ایسے نہیں آیا حالانکہ اس سے پہلے کئی قدرتی آفات شدید بارشیں، سیلاب، جنگ، دہشت گردی وغیرہ جیسے مسائل کے وقت پی ٹی آئی کی طرف سے اذانوں کا کوئی باضابطہ اہتمام نہیں کیا گیا اور اب آخر کیوں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے کیا سازش ہے؟ یہ سب ایک پلانگ کے تحت کیا گیا اور قادیانیوں کو پیغام دیا گیا ہم پہلے کی طرح آج بھی آپ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں لہذا اپنے خدمت گزار کی رہائی کے لیے کچھ کیا جائے۔ کئی حلقوں نے پی ٹی آئی کے مشن نور کو ایک گھناؤنی سازش قرار دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے اندر بھی تشویش موجود تھی، یہی وجہ ہے کہ کچھ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس مشن نور سے اعلان لا تعلقی کر دیا تھا اور توبہ تائب ہوتے ہوئے پہلے ٹویٹس بھی ڈیلیٹ کر دیئے جن میں سابق صدر عارف علوی اورحلیم عادل شیخ دونوں کھل کر اس مشن نور سے لاتعلقی کا اظہار کیا جو لائق تحسین ہیں۔ اگر ہم بات کریں اذانیں دینے کی تو الحمداللّه، پورے پاکستان کی مساجد میں پانچ وقت اذانوں کی آوازیں گونج رہی ہیں، ہم سب کو صحیح معنوں میں پکے سچے نمازی بننے کی ضرورت ہے۔ ہفتے کی رات پاکستانی قوم گولڈسمتھ ہاؤس کی چھت سے عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کی اذان دینے کی ویڈیو سامنے آنے کی شدید منتظر رہی مگر مایوسی ہوئی، اب قوم یوتھ سے یہ کوئی نا کہے کہ ایک کو یاد نہیں آ رہی تھی اور دوسرا اذان بھول گیا تھا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلامی ناموں والے قاسم اور سلیمان کا اذان و اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ اسلام مخالف اور یہودی ہیں۔ اللّه کریم ہم سب کو عقل سلیم دے، اندھی تقلید سے بچائے اور ملک پاکستان کی خیر فرمائے۔ آمین