ائمہ مساجد کا وظیفہ: خدمت دین یا ریاستی مداخلت؟/تحریر/عابد محمود عزامحکومتِ پنجاب کی جانب سے صوبے بھر کی 65 ہزار مساجد کے ائمہ کرام کو ماہانہ وظیفہ دینے کا فیصلہ یقیناً ایک تاریخی اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ بظاہر یہ اقدام دینی خدمات انجام دینے والے ائمہ کرام کی مالی معاونت اور دینی طبقے کے احترام کے اظہار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ امر اپنی جگہ مسلم ہے کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں دینی مراکز، مساجد اور مدارس کی سرپرستی بھی شامل ہے، کیونکہ ائمہ و مدرسین بھی اسی طرح قوم کی خدمت کر رہے ہیں جس طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی کے افراد کرتے ہیں۔ ان کی ضروریات پوری کرنا دراصل ریاست کی اخلاقی، دینی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی خیر و برکت کا ذریعہ ثابت ہوگا، یا اس کے پس پردہ کچھ ایسے عوامل موجود ہیں جو منبر و محراب کی آزادی کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں؟ اگر حکومت کا مقصد دینِ اسلام کی خدمت اور ائمہ کرام کی تکریم ہے تو یہ بلاشبہ ایک مبارک اور لائقِ ستائش قدم ہے۔ امامِ مسجد محض نماز پڑھانے والا فرد نہیں، بلکہ وہ قوم کے اخلاق، فکر اور روحانیت کا معمار ہوتا ہے۔ اس کی مالی کفالت کا انتظام دراصل ایک دینی فریضہ ہے، تاکہ وہ معاشی پریشانیوں سے آزاد ہو کر دین کی خدمت میں یکسو رہ سکے، لیکن اگر اس اقدام کے پس پردہ سیاسی مقاصد یا مذہبی طبقے کو سرکاری دائرۂ اثر میں لانے کی کوشش ہے تو یہ صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مذہب کو سیاست کے تابع کیا گیا تو دین کی روح کمزور پڑ گئی اور منبر و محراب سے صدائے حق کے بجائے حکمرانوں کی خوشامد کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 3 لاکھ 27 ہزار مساجد موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان میں سے صرف 65 ہزار کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا گیا؟ کیا یہ صرف محکمہ اوقاف کی زیرِ نگرانی مساجد ہیں یا پھر انتخاب میں مخصوص مسالک، علاقوں یا سیاسی وابستگیوں کو ترجیح دی گئی ہے؟ اگر اس عمل میں شفافیت برقرار نہ رکھی گئی تو یہ فیصلہ مساجد کے اتحاد کے بجائے اختلاف و انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ حکومت کے زیرِ انتظام ہونا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ رعایا پر معروف میں حاکم کی اطاعت شریعت کا حکم ہے، مگر جب اطاعت عقیدے یا فکر کے بجائے مالی مفاد کے تابع بن جائے تو یہی اطاعت ’’انحصار‘‘ میں بدل جاتی ہے اور انحصار کبھی آزادی نہیں دیتا۔ اگر مساجد کا نظام براہِ راست حکومت کے ماتحت آگیا تو خطرہ ہے کہ منبر و محراب سے وہی کچھ کہا جائے گا جو سرکار چاہے گی۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب منبر حکومت کے زیرِ اثر آتا ہے تو وہ قوموں کے بیدار ضمیر کے بجائے حکمرانوں کے ضمیر کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اگر حکومت واقعی ائمہ کرام کی معاونت کرنا چاہتی ہے تو پہلا قدم ملک کے نظام کو اسلامی خطوط پر استوار کرنا ہونا چاہیے۔ اسلامی قوانین پر عملداری ہو، شرعی فیصلوں کو ریاستی تحفظ حاصل ہو اور عدل و انصاف قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔
چند ہزار روپے ماہانہ دے کر اگر منبر و محراب کی آواز کو محدود یا خاموش کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ دین کے نام پر ایک خطرناک سودے بازی ہوگی۔ البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ بہت سے ائمہ کرام واقعی مالی مشکلات اور معاشی تنگی کا شکار ہیں۔ ان کے بھی اہلِ خانہ ہیں، ان کے بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ اخراجات کے تقاضے ہیں۔ اس لیے اگر حکومت نیک نیتی سے یہ بوجھ بانٹنا چاہتی ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، مگر شرط یہ ہے کہ مساجد کے نظام میں سرکاری مداخلت نہ ہو۔ شرپسندی کی روک تھام اگرچہ ضروری ہے، مگر ائمہ کرام کو اپنے دینی و فکری موقف کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل رہنی چاہیے۔ کسی مسلک یا جماعت کو دوسرے پر ترجیح نہ دی جائے اور یہ وظیفہ کسی سیاسی یا نظریاتی وابستگی سے مشروط نہ ہو۔ منبر و محراب کی آزادی محض ایک مذہبی نعرہ نہیں بلکہ دین کی بقا کی ضمانت ہے۔ حکومت اگر واقعی دین کی خادم بننا چاہتی ہے تو اسے علماء کرام کے پیغام کو آزادی دینی چاہیے۔ ائمہ کرام کو مالی سہولت دینا بلاشبہ ایک نیک عمل ہے، مگر اس کے ساتھ ان کی فکری و دینی آزادی کی حفاظت بھی لازمی ہے۔
حکومت کے ساتھ تعلق تب خیر کا ذریعہ بنتا ہے جب وہ تعلق دین کے تابع ہو، نہ کہ دین کو حکومت کے تابع کر دیا جائے۔ اگر یہ فیصلہ اسلامی شعور کو بیدار کرنے کے بجائے سیاسی تسکین کے لیے کیا گیا تو یہ منبر و محراب پر پہلا حملہ تصور ہوگا۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ائمہ کرام کی تکریم کے ساتھ ساتھ ملک میں اسلامی عدل و اخلاق کا نظام نافذ کرے اور ائمہ کرام کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ منبر و محراب کی عزت تب ہی باقی رہتی ہے جب ان کی زبان صرف اللہ کے حکم کی ترجمان ہو، نہ کہ کسی حکومت کی۔