0

سیرتِ مصطفی ﷺ کا بیان ذمہ دارانہ اسلوب کی ضرورت / تحریر /سمیع الحق ایبٹ آبادی

تحریر /سمیع الحق ایبٹ آبادی
تحریر /سمیع الحق ایبٹ آبادی

سیرتِ مصطفی ﷺ کا بیان ذمہ دارانہ اسلوب کی ضرورت
✍️سمیع الحق ایبٹ آبادی
ربیع الاول کا مبارک مہینہ اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ امتِ مسلمہ اس مہینے کی مناسبت سے حضور نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرتِ طیبہ کو پڑھتی، سنتی اور بیان کرتی ہے۔ یہ ایک عظیم سعادت اور شرف ہے کہ ہم اپنی زبان اور قلم سے نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو بیان کریں۔۔۔

لیکن یہاں ایک نہایت اہم اور نازک پہلو ہے جس کا خیال رکھنا لازم ہے سیرت طیبہ کو اس انداز سے بیان کیا جائے کہ دشمنانِ دین کو آپ ﷺ کی ذات پر اعتراضات کا کوئی موقع ہی نہ ملے۔

دشمنانِ دین کے چند اعتراضات
معترضین اپنی بدنیتی اور جہالت کی بنیاد پر حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت پر ایسے اعتراضات جڑتے ہیں، مثلاً:

آپ ﷺ کو اپنی والدہ نے دودھ نہ پلایا۔
غربت و افلاس کی وجہ سے کوئی آپ کو دودھ پلانے کے لیے تیار نہ تھا۔
آپ ﷺ کی والدہ نے خود پرورش نہ کی بلکہ مختلف عورتوں کے ذریعے کروائی۔
یہ اعتراضات حقیقت کے برخلاف ہیں اور صرف فتنہ انگیزی کے لیے بیان کیے جاتے ہیں۔۔۔
دشمنانِ دین کے یہ اعتراضات نمونے از خروارے ہیں وگرنہ کئی اعتراضات ہیں جو حضور نبی اکرم علیہ السلام کی ذات پر دشمنانِ دین کی جانب سے کیے جاتے ہیں اور کبھی کبھار بدقسمتی سے دشمنانِ دین کو ہمارے گھر سے ہی تائید مل جاتی ہے۔۔۔

درست تاریخی حقائق

سیرتِ طیبہ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ:
1. رضاعت کا رواج:
عرب کے قبائل میں یہ رواج تھا کہ نومولود بچوں کو صحرا کی عورتیں دودھ پلاتیں تاکہ بچے کی نشوونما صحت مند فضا میں ہو۔ یہ صرف حضور ﷺ کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ اشرافیہ کی یہ روایت سمجھی جاتی تھی۔ باقی سیرت نگاروں نے حضرت آمنہ کی حضور نبی اکرم علیہ السلام کو دودھ پلانے کی مدت بھی ذکر کی ہے۔
2. سیدہ آمنہؓ کا کردار:
سیدہ آمنہؓ نے اپنی حیثیت کے مطابق آپ ﷺ کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کی۔ آپ کی پیدائش سے قبل اور بعد کی تمام ضروریات پوری کیں۔
3. حلیمہ سعدیہؓ کا شرف:
اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اپنی خاص حکمت سے سیدہ حلیمہ سعدیہؓ کے سپرد کیا، اور وہ اس پر فخر کرتی رہیں کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کو دودھ پلانے کا شرف ملا۔ یہ افلاس نہیں بلکہ اللہ کی مشیت تھی کہ آپ ﷺ بچپن ہی سے مختلف ماحول دیکھیں اور وسیع تجربات حاصل کریں۔۔۔۔

سیرت کے بیان کا درست اسلوب
سیرتِ طیبہ کو بیان کرتے ہوئے ہمیشہ پس منظر اور تاریخی رواج کو سامنے رکھیں۔
ایسا انداز اختیار کریں کہ دشمن کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔
حضور ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر واقعہ حکمت و عظمت سے بھرا ہوا ہے، لہٰذا کمزور تعبیرات سے اجتناب کیا جائے۔

نبی اکرم ﷺ کی ذات ہر طرح کے اعتراضات سے بالاتر اور معصوم ہے۔
دشمنانِ دین کی جانب سے اٹھائے گئے شبہات حقیقت کے برعکس ہیں۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ سیرت کے واقعات کو اتنے مضبوط، جامع اور باوقار انداز میں پیش کریں کہ سامع یا قاری کے ذہن میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔۔۔۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیرتِ مصطفی ﷺ کا بیان امت کے لیے سعادت ہے لیکن یہ سعادت ذمہ داری بھی مانگتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو اس طرح بیان کریں کہ وہ آپ ﷺ کی عظمت کو اجاگر کرے اور دشمنانِ دین کے اعتراضات کا دروازہ بند کر دے۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں