0

بلوچستان کے معمار وطن:ایک ادھورے خواب کی تکمیل/تحریر/عبدالنافع

پروفیسر عبدالنافع
بلوچستان کے معمارِ وطن: ایک ادھورے خواب کی تکمیل
بلوچستان کی سنگلاخ پہاڑیوں اور پُر صعوبت وادیوں میں جب تعلیم کا چراغ جلتا ہے۔ تو یہ صرف روشنی نہیں دیتا، بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی منور کرتا ہے۔ یہی چراغ جلانے کے لیے حکومتِ بلوچستان کیڈٹ کالجز کے قیام کو اپنی اولین ترجیح بنا چکی ہے۔ یہ ادارے محض درسگاہیں نہیں، بلکہ وہ نرسریاں ہیں جہاں معصوم ذہنوں کو تراش کر باکردار، محنتی اور جری رہنما بنایا جاتا ہے۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے دو ہزار دو کے بعد بلوچستان میں کیڈٹ کالجز کے قیام کا جو خواب دیکھا، اُس کا بنیادی مقصد نہ صرف نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا، بلکہ اُن کی ہمہ جہت تربیت کرنا اور اُنہیں پاک فوج کی طرف راغب کرنا بھی تھا۔ اس وقت بلوچستان میں گیارہ فعال کیڈٹ کالجز موجود ہیں؛ جن میں مستونگ، قلعہ سیف اللہ، پشین، جعفر آباد، کوہلو، پنجگور، نوشکی، اورماڑا، خاران، لڑکیوں کا کیڈٹ کالج کوئٹہ اور لڑکیوں کا کیڈٹ کالج تربت شامل ہیں۔
حکومتِ بلوچستان مرحلہ وار صلاحیت سازی کے ذریعے ان اداروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ اگرچہ یہ سفر قدرے سست ضرور ہے، لیکن یہ پیش رفت بامعنی اور دیرپا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کالجز میں جدید ہاسٹل بلاکس، تدریسی عمارتیں، کھیلوں کے میدان، ہالز اور تربیتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کیڈٹ کالجز اپنی اصل روح کے مطابق طلبہ کی مکمل تربیت کر سکیں۔
سماجی رویے اور سوچ
بلوچستان کے سماجی و قبائلی حالات ان اداروں کے لیے ایک الگ چیلنج رہے ہیں۔ والدین اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں۔ کہ بچے کی تمام تر ذمہ داری اب ادارے پر ہے۔ زیادہ تر والدین کی خواہش یہی ہوتی ہے۔ کہ اُن کا بچہ میڈیکل یا انجینئرنگ میں جگہ بنائے، مگر ہمہ جہت تربیت، کھیلوں، ڈرل یا دیگر سرگرمیوں کو وہ غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ اس رویے نے کیڈٹ سسٹم کے اصل مقصد کو کمزور کیا۔
متنوع پس منظر سے آنے والے طلبہ ان اداروں میں شامل ہونے والے طلبہ مختلف سماجی، ثقافتی اور قبائلی پس منظر سے آتے ہیں۔ اُن کی ابتدائی تعلیم بھی مختلف نصاب اور مختلف زبانوں میں ہوئی ہوتی ہے۔ زیادہ تر کیڈٹس کمزور مالی پس منظر رکھتے ہیں، اور اُن کے خاندان میں کوئی ایسا رول ماڈل یا شخصیت نہیں ہوتی، جس سے متاثر ہو کر بڑے خواب دیکھ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارے اُن کے لیے روشنی کا ایک نیا دروازہ کھولتے ہیں۔
بلوچستان کے عام تعلیمی اداروں میں بدقسمتی سے نقل ایک عام رجحان ہے۔ اسی وجہ سے اکثر طلبہ اور اُن کے والدین کیڈٹ کالجز کو دسویں کے بعد چھوڑ دیتے ہیں تاکہ آسانی سے اچھے نمبروں کے ساتھ بورڈ کے امتحانات پاس کر سکیں۔ یہ رجحان ان اداروں کے اصل مقصد یعنی کردار سازی اور ہمہ جہت تربیت کے عمل کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔
بنیادی مسائل
ان اداروں کے سامنے چند بڑے مسائل ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ مثلاً:
فیکلٹی کی کمی اور ایڈہاک بنیادوں پر پالیسی۔
سیکیورٹی خدشات۔
اداروں کے اثر و رسوخ کے بارے میں غلط فہمیاں۔
والدین کی عدم شمولیت۔
طلبہ کا دسویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑ دینا۔
کلیدی چیلنجز:
پرانا نصاب: بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں رائج نصاب جدید تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔
درس و تدریس کی زبان: ذریعۂ تعلیم بھی طلبہ کے لیے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ جس سے پیچیدہ مضامین کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
معیاری اساتذہ کی کمی: اہل اور باصلاحیت اساتذہ کی کمی تعلیمی معیار کو متاثر کرتی ہے۔ بہترین تدریسی عملہ نہ صرف لانا بلکہ برقرار رکھنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔جس کی اہم وجہ پندرہ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ایکٹ کا اپرول نہ ہونا، جو لیکچررز آج سے 17 سال پہلے اپوائنٹمنٹ ہوئے ہیں۔ آج تک ترقی کے منتظر ہیں۔ اور اسی طرح کئی انتظامی مسائل کی وجہ سے اساتذہ کو جب بھی کئی اور ملازمت کا موقع ملتا ہے، وہ کیڈٹ کالج کی ملازمت چوڑ دیتا ہے۔ جس کا ادارے کی تدریسی عمل پر منفی اثر پڑتا ہے
مستقبل کی سمت:
اگر وسائل، جدید سہولتیں، والدین اور معاشرے کی شمولیت میسر آ جائے، تو بلوچستان کے یہ کیڈٹ کالجز صرف اسکول نہیں، بلکہ وہ چراغ ہوں گے؛ جو آنے والے وقتوں کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیں گے۔ یہاں سے نکلنے والے نوجوان نہ صرف بلوچستان کا سرمایہ ہوں گے بلکہ ملک کے ہر شعبے میں قیادت کا پرچم بلند کریں گے۔
یہ ادارے بلوچستان کے بنجر میدانوں میں اُگتے ہوئے ان پودوں کی مانند ہیں، جنھیں اگر پانی اور سایہ میسر آ جائے، تو وہ تناور درخت بن کر پورے معاشرے کو سایہ دار کر سکتے ہیں۔ حکومتِ بلوچستان کا عزم ہے، کہ یہ خواب ادھورا نہیں رہے گا، بلکہ حقیقت کا روپ دھار کر پورے پاکستان کے مستقبل کو روشن کرے گا۔
یوں بلوچستان کے کیڈٹ کالجز ایک ادھورے خواب کی تکمیل کی جانب بڑھتے ہوئے اُن معماروں کو تراش رہے ہیں جو کل اس سرزمین کے وقار، طاقت اور روشنی کا استعارہ بنیں گے۔
کیڈٹ کالجز بلوچستان کے بنجر میدانوں میں اُگتے وہ ننھے پودے ہیں، جو کل کو تناور درخت بن کر وطن کو سایہ دار کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں