72

نقشوں کی سرگوشیاں/تحریر/ محمد احمد شہباز

انسانوں نے اپنے گھر یعنی کرّۂ ارض کو سمجھنے، اس پر سیاسی اور طبعی طور پر نظر رکھنے کے لیے نقشوں کا سہارا لیا ہے۔ انہی نقشوں کی باہمی سرگوشیاں جس علم کا پتہ بتاتی ہیں وہ علم جغرافیہ (Geography) ہے۔ یہ یونانی زبان کا لفظ ہے، جس کے دو حصے ہیں: 1-جیو، اس کے معنی ہیں دنیا، اور 2-گرافی، اس کے معنی ہیں لکھنا، تشریح کرنا، یعنی جغرافیہ کا لغوی مفہوم ہے: زمین کے متعلق لکھنا اور تشریح کرنا۔ اصطلاح میں کہا جاسکتا ہے کہ زمین پر قدرتی نقوش(پہاڑ، سمندر و غیره) اور انسانی تصرفات (شہر، بستیاں وغیرہ) کا مطالعہ کرنا علم جغرافیہ ہے۔ اگر اس علم کی اہمیت اور فوائد کی بات کی جائے تو یہ علم ہمہ جہتی فوائد کا حامل ہے، اس کے علمی فوائد تو ہے ہیں، نظریاتی و صحافتی فوائد اور مہماتی فوائد بھی ہیں۔ سب کو مختصراً دیکھتے ہیں:(1)علمی فوائد: اس علم کے ذریعہ سے کائنات میں موجود چیزوں کی حقیقت کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے اور کائنات میں مختلف امور کی طبعی وجوہات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔(2) نظریاتی فوائد: علم جغرافیہ کی نظریاتی قدر و قیمت بہت بڑھ کر ہے۔ یہ علم اپنے گھر، وطن اور دنیا کے متعلق انسانی جذبات کی تعمیر و تشکیل کرتا ہے۔ نظریاتی افق کو وسیع کر کے عالمی سوچ، عالمی طرز فکر اور عالمی رجحان پیدا کرتا ہے۔ علاقائی یا لسانی نظر یات (نسلی تعصب و قوم پرستی) سے بچنے کی فکر پیدا کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جغرافیہ دان محبِّ وطن شہری ہوتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ حب الوطنی علم جغرافیہ کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ (3)صحافتی فوائد: اخبار یا رسالہ کا مطالہ کر نے کے لیے علم جغرافیہ شمع کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ امورِ رواں اور امور گزشتہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ روزانہ کا اخبار ایک قسم کی جغرافیہ کی کتاب ہے، جس کی خبروں کا پس منظر علم جغرافیہ ہی ہوتا ہے۔ یہ بات کافی حد تک مان لینے کے قابل ہے کہ علم جغرافیہ کا طالب علم بہترین اخباربین ہوتا ہے۔ وہ خبر سن کر اس کا تجزیہ و تحلیل کرتا ہے، خبرکے لبادے میں غلط فکر سمو کر اس کو گمراہ کرنا آسان نہیں۔ (4)مہماتی فوائد: اس علم کے مطالعہ سے دل میں دلچسپی اور ذہن میں تجسّس پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ دونوں مل کر جغرافیہ دان میں مہم جوئی کی ذہنیت پیدا کر تے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اسے شوق ابھر آتا ہے کہ کوئی عظیم کارنامہ کر جائے، کوئی معرکہ مار جائے، کسی پہاڑ کی چوٹی کو سَر کر جائے، کسی تاریک جنگل سے گزر جائے، لکڑی کی کشتی میں سمندر پار کر جائے وغیرہ۔ مختصر یہ کہ یہ علم اپنے قاری کو تُند و بہادر اور متحرک بناتا ہے۔(5)سیاحتی فوائد: یہ فائدہ تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ علم، سیاحت کی خواہش پیدا کرتا ہے۔جابجا پھیلی کائنات کی رنگینیوں کو دیکھنے کے لیے دل کی حسرت اور نگاہوں کا شوق بڑھ جاتا ہے۔ فوائد کے بعد، اگر علم جغرافیہ کی تفصیل میں جائیں تو ابتداءً چند اقسام سے واسطہ پڑتا ہے:1-پہلی قسم(طبعی جغرافیہ): زمین پر موجود قدرتی نقوش کا مطالعہ کرنا۔ جیسے: سمندروں، پہاڑوں، جھیلوں، جنگلوں اور صحراؤں کا مطالعہ کرنا۔ یہ قسم تمام اقسام کے لیے بنیاد اور اصل ہے۔2-دوسری قسم(سیاسی جغرافیہ): زمین کی سیاسی تقسیم کا مطالعہ کرنا۔ مثلاً: ملکوں، شہروں، ریاستوں کا مطالعہ کرنا۔3-تیسری قسم(قرآنی جغرافیہ): ارضِ قرآن کا مطالعہ یعنی قرآن کریم میں جن مقامات (ملک،شہر،پہاڑ،دریا،سمندر،چشمہ وغیرہ) کا تذکرہ آیا ہے، ان کے محل وقوع اور دیگر تفصیلات کی روشنی میں قرآن کریم کی نصیحت یا عبرت کو سمجھنا۔4-چوتھی قسم(تاریخی جغرافیہ): یعنی تاریخ میں جن مقامات کا تذکرہ آیا ہے ان کا مطالعہ کرنا۔ واضح رہے کہ ابتدائی دونوں قسمیں تمہیدی ہیں اور آخری دونوں قسمیں مقصودی ہیں۔ یعنی اصل مقصود تو صحیفۂ قرآنی کو سمجھنا ہے، اور چونکہ تہذیب و روایت کا تعلق تاریخ سے ہے اس لیے تاریخی جغرافیہ کا مطالعہ بھی مقصودی ہے۔ جہاں تک علم جغرافیہ کی غرض وغایت کا تعلق ہے، تو اس پر روشنی ڈالنے سے چند اہم امور سامنے آتے ہیں:• زمین پر بکھرے قدرتی مظاہر کی معرفت سے خدا تعالیٰ پر ایمان کی پختگی۔• عبادات و معاملات میں سہولت۔• علم تاریخ میں بصیرت۔ لہذا نقشوں کی سرگوشیاں سن نے کے واسطے ضروری ہے کہ ہمیں اس علم سے مناسبت ہو۔ اس فن میں مناسبت کے لیے یہ چند کتب دیکھی جا سکتی ہیں: کتاب الجغرافیہ (ابولبابہ صاحب)، اطلس القرآن، اطلس الحدیث اور اطلس الغزوات، نیز اس علم میں اتقان کے لیے سفر ناموں کا مطالعہ بڑا کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً شیخ الاسلام مفتی تقی صاحب کے سفر نامے، ایک تو ان میں ادب کی چاشنی کا بڑا سامان ہے اور پھر یہ سفر نامے تقریبا سارے کُرّہ کا ہی احاطہ کر جاتے ہیں؛ مشرق میں اس سرزمین سے ملوا جاتے ہیں جہاں آفتاب سب سے اول طلوع ہوتا ہے، اور مغرب میں وہاں تک لے جاتے ہیں جہاں رات کے بارہ بجے سورج کا نظارہ ہوتا ہے! آج کے مسلم نوجوان کو طاغوت کی مکر فریبیوں پر نظر رکھنے کے لیے جغرافیہ کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے سینوں کو اس علم کے لیے کھول دے، اور اس علم کا حاصل کرنا ہمارے لیے آسان ہوجاۓ۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں