0

ڈاک کا عالمی دن:خط و پیغام اور ہماری قومی پہچان/تحریر/محمد اویس شاہد

ڈاک کا عالمی دن: خط و پیغام اور ہماری قومی پہچان

محمد اویس شاہد

آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں جہاں ایک کلک پر دنیا کی معلومات ہتھیلی پر سمٹ آتی ہے، وہیں ہمیں ایک لمحہ ٹھہر کر اس دیرینہ نظام کی اہمیت کو یاد کرنا چاہیے، جس نے صدیوں تک دنیا کو جوڑے رکھا۔ دنیا کو جوڑنے اور آپسی پیغام رسانی میں منضبط رکھنے کا مؤثر ترین عمل ڈاک کا نظام رہا ہے۔ ہر سال 9 اکتوبر کو منایا جانے والا ڈاک کا عالمی دن (World Post Day) محض ایک رسمی تاریخ نہیں، بلکہ ایک یادگاری تہوار ہے جو خَطوں، سامان رسانی اور میل کے ذریعے رابطے کی اس عظیم میراث کا اعتراف ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح کاغذ سے بنا لفافہ اور اس کے اندر بند الفاظ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے انسانی جذبات اور ضروریات کو ان کے مقررہ مقام تک پہنچاتے رہے ہیں۔
ڈاک کے نظام کی تاریخ دراصل انسانی تہذیب کی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے۔ جب دنیا میں کوئی ٹیلی فون، انٹرنیٹ یا ای میل نہیں تھا، تو پیغام رسانی کے لیے قاصدوں اور ہرکاروں کا سہارا لیا جاتا تھا۔ چین کے ہان خاندان سے لے کر رومن سلطنت تک، اور پھر برصغیر میں شیر شاہ سوری کی قائم کردہ ڈاک چوکیوں تک، ڈاک ہمیشہ حکمرانوں کی طاقت اور رابطے کا بنیادی ذریعہ رہی ہے، لیکن جس جدید ڈاک کے نظام کو ہم آج جانتے ہیں، اس کی بنیاد انیسویں صدی میں پڑی، جب برطانیہ کے رولینڈ ہِل نے پینی پوسٹ کا تصور متعارف کرایا، جس نے ڈاک کو امیر اور غریب سب کے لیے سستا اور قابل رسائی بنا دیا۔ پھر اسی بنیاد پر 9 اکتوبر 1874ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک ایسا بین الاقوامی معاہدہ تھا جس نے مختلف ممالک کے ڈاک کے نظام کو ہم آہنگ کرنے، اشیاء کی شرح رسانی کو یکساں بنانے اور دنیا بھر میں بغیر کسی رکاوٹ کے خطوط کی ترسیل کو ممکن بنایا۔ اس سے پہلے ڈاک کی ترسیل میں بے شمار پیچیدگیاں تھیں، لیکن اس معاہدے نے دنیا کو ڈاک کے ایک نقشے اور نظام پر متحد کر دیا۔ بعد ازاں، 1969ء میں ٹوکیو، جاپان میں منعقدہ UPU کانگریس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر سال 9 اکتوبر کو دنیا بھر میں ڈاک کا عالمی دن منایا جائے گا، تاکہ اس ادارے کے عالمی کردار اور خدمات کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس تاریخ سے لے کر آج تک، ڈاک کا نظام دنیا کے کونے کونے میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہم کسی بھی پیغام کو سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا سکتے ہیں، تو یہ سوال اٹھنا فطری امر ہے کہ کیا ڈاک کے نظام کی ضرورت ماضی کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے؟ بلاشبہ، روایتی خط و کتابت کا شعبہ ای میل اور میسجنگ ایپس کے آنے سے محدود ہو گیا ہے۔ وہ دور گزر گیا جب لوگ برسوں پر محیط دوریوں پر بیٹھے اپنے پیاروں کو جذباتی خطوط بھیجنے کے لیے ہفتوں یا مہینوں انتظار کرتے تھے۔ ابلاغ کے اس روایتی کردار میں ڈاک کی اہمیت ضرور کم ہوئی ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی مجموعی ضرورت ہی ختم ہو گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاک نے اپنا کردار بدلا ہے، اور ایک نئے تناظر میں اس کی اہمیت نہ صرف برقرار ہے، بلکہ بعض شعبوں میں تو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
یہ بنیادی تبدیلی دراصل پیغام رسانی سے پارسل رسانی کی طرف ہوئی ہے۔ انٹرنیٹ نے جہاں ہمیں فوری ابلاغ کی سہولت دی ہے، وہیں اس نے ای کامرس کے ایک بہت بڑے انقلاب کو بھی جنم دیا ہے۔ جب ہم کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم سے کوئی کتاب، کپڑے، الیکٹرانکس یا کوئی دوسری چیز آرڈر کرتے ہیں، تو یہ بلا شبہ حسی سامان ہی ہوتا ہے، جسے ہم تک پہنچنا ضرور ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں آن لائن خریداری کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور اس تمام سامان کو صارفین تک پہنچانے کے لیے ایک وسیع، قابل اعتماد اور منظم لاجسٹکس نیٹ ورک کی ضرورت پڑتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاک کا نظام آج بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر روز جو لاکھوں پارسل دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتے ہیں، وہ اسی ترسیلی نظام کا حصہ ہیں، جسے ڈاک اور کورئیر سروسز ہی فعال رکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ، ڈاک کا نظام آج بھی حساس اور سرکاری دستاویزات کی ترسیل کے لیے ناگزیر ہے۔ بہت سے مالیاتی، قانونی اور انتظامی معاملات میں، جیسے کہ بینک چیک، عدالتی نوٹس، پاسپورٹ یا قومی شناختی کارڈ جیسے اہم کاغذات، کو قانونی تقاضوں کی وجہ سے ڈاک کے ذریعے ہی بھیجنا پڑتا ہے۔ مزید برآں، ترقی پذیر ممالک، جیسے کہ پاکستان میں، قومی ڈاک سروس آج بھی ایک عوامی خدمت کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف شہری علاقوں، بل کہ دور دراز کے دیہاتوں اور غیر منافع بخش علاقوں تک بھی پیغام و سامان رسائی کی سروسز فراہم کرتی ہے، جہاں کوئی پرائیویٹ کمپنی اپنی کاروباری لاگت کے خوف سے نہیں پہنچتی۔ قومی ڈاک سروس کی یہ آخری میل تک رسائی (Last-Mile Delivery) کی صلاحیت، اسے غریب اور متوسط طبقے کے لیے مالیاتی خدمات، پنشن کی ترسیل اور حکومتی سکیموں تک رسائی کا واحد قابل اعتماد ذریعہ بنائے ہوئے ہے۔ لہذا، یہ حقیقت ہے کہ خطوں کی تعداد شاید کم ہوئی ہو، مگر پارسلوں، قانونی کاغذات اور قومی خدمت کے بوجھ نے ڈاک کی مجموعی اہمیت کو نہ صرف برقرار رکھا ہے، بل کہ اسے ایک نئے معاشی ڈھانچے میں زیادہ طاقت ور اور اہم بنا دیا ہے۔

پاکستان میں، ہمارا قومی ڈاک سروس (Pakistan Post) اسی تاریخی روایت کا وارث ہے۔ ملک کے قیام کے بعد سے ہی یہ ادارہ نہ صرف ایک حکومتی شعبہ رہا ہے، بلکہ یہ پاکستان کے دور دراز علاقوں کو آپس میں جوڑنے والی ایک معاشی شہ رگ کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ آج کی رسدی مارکیٹ میں جہاں کئی پرائیویٹ کورئیر کمپنیاں سرگرم ہیں، وہاں ہم اکثر سہولت یا وقتی آسانی کی خاطر ان کا رخ کر لیتے ہیں۔ لیکن قومی ڈاک سروس یعنی پاکستان پوسٹ ہی وہ واحد نظام ہے جو ملک کے آخری کونے تک، جہاں کسی پرائیویٹ کمپنی کا پہنچنا کاروباری لحاظ سے غیر منافع بخش ہوتا ہے، وہاں بھی سرکاری ذمے داری کے تحت پیغام اور پارسل پہنچاتی ہے۔

پاکستان پوسٹ صرف خطوط اور پارسلوں کی ترسیل تک محدود نہیں ہے۔ یہ ہمارے غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک مالیاتی سہولت کار بھی ہے، جو بچت بینکوں، پنشن کی ادائیگیوں اور دیگر اہم حکومتی دستاویزات کی ترسیل کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سہارا دے رہی ہے۔ پرائیویٹ کمپنیاں صرف بڑے شہروں اور منافع بخش راستوں پر توجہ دیتی ہیں، جب کہ پاکستان پوسٹ قومی خدمت کا جذبہ لے کر کام کرتی ہے۔ جب ہم اپنی قومی ڈاک سروس کو استعمال کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے ملکی ادارے کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں، اس کے نیٹ ورک کو فعال رکھ رہے ہوتے ہیں، اور بالواسطہ طور پر ان ہزاروں ڈاک خانوں کو برقرار رکھنے میں مدد کر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں کی شناخت اور معاشی زندگی کا حصہ ہیں۔
آئیے، ڈاک کے اس عالمی دن پر یہ عہد کریں کہ ہم عارضی سہولت سے زیادہ قومی وفاداری اور استحکام کو اہمیت دیں گے۔ اپنے کاروباری اور ذاتی ضروریات کے لیے پاکستان پوسٹ کو ترجیح دیں، کیوں کہ یہ محض ترسیل کا ذریعہ نہیں، بل کہ یہ ہماری قومی ملکیت، ہماری تاریخ اور ہمارے عوامی رابطے کی ضمانت و میراث بھی ہے۔ ہماری چھوٹی سی کوشش ہماری قومی ڈاک سروس کو ڈیجیٹل چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں