82

آزادی/مصنفہ/نمرہ امین (لاہور)

آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔ ایسے جیسے ایک انسان کو نئی زندگی مل گئی ہو۔ اس کو قید سے رہائی مل گئی ہو۔ اس کے جینے کی وجہ بن گئی ہو۔
ایسی آزادی جو انسان، حیوان، چرند پرند کو جینے کی آرزو دے دیتی ہے۔
اللہ کا ایسا خاص تحفہ ہے ہم سب کے لیے آزادی کا جو ہمیں فخر سے جینا سیکھا دیتی ہے۔ ہماری اتنی انتھک کوششوں اور محنتوں سے جو حق کی آزادی ہمیں ملتی ہے وہ ہمیں اڑنا سیکھا دیتی ہے۔ ہمیں ہر قدم پر کامیابی کی راہ پر گامزن رکھتی ہے۔ یہ آزادی ہی ہے جو ہمیں اللہ کی یاد دلاتی رہتی ہے اس سے دعائیں مانگنا اور سچے دل سے عبادت کرتے رہنا سیکھاتی ہے۔ آزادی ہزاروں میں ایسی نعمت ہے جو انسان کو کسی کا محتاج نہیں کرتی ہے۔ اسے سر اٹھا کر دنیا میں اعلیٰ مقام پر پہنچانے کے قابل بنا دیتی ہے۔ والدین کی طرف سے آزادی دی جاتی ہے تاکہ ہم اپنی قابلیت پر اپنا اعلیٰ مرتبہ حاصل کر سکیں اور اللہ کی مرضی سے اس دی ہوئی آزادی سے مستفید ہو سکیں۔
حیوان، چرند، پرند جب قید سے آزادی حاصل کرتے ہیں وہ اس طرح اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں جیسے ان کو یہ آزادی یہ نئی زندگی ہی اللہ کا شکر کرنے کے لیے ملی ہے۔ آزادی کا مطلب ہی یہی ہے کہ انسان بھی اپنی زندگی اللہ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم کے راستے پر چلے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوارے نا کہ ایسی آزاد زندگی گزارتا رہے جس میں اللہ کی یاد ذکر نہ ہو اور بس برائی کے کام کر کے اپنی دنیا و آخرت کو خراب کیا جائے۔ آزادی کو ایک حد تک اگر مثبت طریقے سے اپنا کر گزارا جائے تو اس میں انسان کو سکون و اطمینان، خوشی میسر ہوتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمیں اس آزادی میں اتنی نعمتیں عطا کی گئی ہیں کہ ہمیں ہر سانس کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے اور اپنی زندگی اچھے اور بہترین انداز کے ساتھ عزت، محبت، شفقت سے گزارنی چاہیے تاکہ ہم اس آزادی کی زندگی کا مطلب اور حق ادا کر سکیں اور ہماری وجہ سے سب کو سکھ چین، خوشیاں اطمینان و سکون کی زندگی مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں