68

استوائے حنانہ اور محبتِ رسولﷺ/تحریر/فاطمہ بنتِ انتظام

اللہ تبارک وتعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت نبی کریمﷺ کی محبت ہیں ۔ آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے نبی کریمﷺ کی ذات اقدس ہے ہی اس قدر رحیم،شفیق وحلیم ہے کہ آپ سے تمام مخلوقات ہی محبت کرتی ہے اس ضمن میں احادیث اور سیرت کی کتب میں بے شمار واقعات ملتے ہیں جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ کے وقت ایک درخت یا کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک انصاری نے پیش کش کی : اے اللہ کے رسول !کیاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک منبر نہ بنادیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے آپ کی مرضی۔انصاری عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک منبر بنوا دیا۔ جمعہ کا دن آیاتو آپ ﷺ منبر پر تشریف فرماہوئے تو وہ تنا بچے کی طرح چیخ چیخ کررونے لگا۔ نبی ﷺ منبر سے اترے اوراس تنے کو آغوش میں لے لیاتووہ اس بچے کی طرح ہچکیاں لینے لگاجسے بہلا کر چپ کرایاجارہاہو۔ تنے کارونا ، فراق رسولﷺ اورذکر اللہ سے محرومی کی بناپر تھاجسے وہ پہلے قریب سے سنا کرتاتھا۔(صحیح بخاری :2095(یہ ستون رسول الله ﷺ سے جدائی کے غم میں اس طرح رویا جیسے اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے کھو جانے پر روتا ہے ۔ اونٹ کے بچے کے اس طرح رونے کو عربی میں “حنانہ “کہتے ہیں ۔ اس رونے کی آواز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی سنی مگر وہ حیران تھے کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے ۔ رسول اللهﷺ نے جب اس کھجور کے تنے پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور وعدہ فرمایا کہ وہ جنت میں ان کے ساتھ ہو گا تو اسے قرار آیا ۔
اس ستون کو ‘ استوانہ مخلقۂ ‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کے وجہ یہ ہے کہ اس مبارک مقام پر ایک مرتبہ کسی شخص نے لا علمی میں تھوک دیا تھا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس عمل کو ناپسند فرمایا تھا اس کے بعد خطبے کے اس تنے کو صاف کر کے بے انتہا خوشبو لگائی گئی جس کی وجہ سے اسے” استوانہ مخلقۂ” بھی کہا جاتا ہے ۔ عربی میں ‘ مخلقۂ ‘ خوشبو کو کہتے ہیں ۔ یہ ستون مسجد نبوی کے ‘ ریاض الجنۃ ‘ میں محراب رسول صلی الله علیہ وسلم سے لگا ہوا ہے۔
یہ ستون آج بھی مسجد نبوی میں اسی نام سے موجود ہے جو محبت رسول کی یاد دلاتا ہے۔ کجھور کی ایک لکڑی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر محبت تھی لیکن ہم ان کے امتی کہلانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر کتنا عمل پیرا ہیں۔
خدا شاہد ہے کہ ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل ہو نہیں سکتا جب تک نبی کریمﷺ ہمیں اپنے ماں باپ ،اولاد،مال اور اپنی جان سے عزیز نہ ہو جائے جیسا کہ مشہور شاعر اسمعیل میرٹھی نے کیا خوب کہا ہے :
محمد ؐ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
یہ ایک دلچسپ واقعہ ہے ۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے دلوں میں حضورﷺ کی ایسی محبت پیدا فرمائے جیسا کہ کھجور کے تنے کو تھی ۔بروز قیامت جب ہماری ملاقات نبی کریمﷺ سے ہو تو ہماری محبت بھی مقبول ہوجائے جیسا کہ استوائے حنانہ کی ہوگئی۔ہمیں آپﷺ کی سنتوں پر چلنے والا بنا دےاور جنت میں آپﷺ کا پڑوس نصیب فرما دےالہی آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں