دینِ اسلام آسمانی ہدایت اور خداوندِ عالی کے فرامین کا مجموعہ (شریعت) ہے- یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے- یہ کوئی جدید اصطلاح نہیں ہے نہ ہی یہ کسی ردِعمل کا معاملہ ہے،
یہ تو خالق کی خلق کی ہوئی دنیا میں اسی کے احکامات کے مطابق زندگی کا گزارنا ہے- یہ نظامِ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ یہ عالم جن و انس۔
اسلام اپنے ماننے والوں سے مکمل شمولیت کا تقاضا کرتا ہے اور اس امر کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اسی ضابطہ کو اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں اس انداز سے بیان فرماتے ہیں:
’’اے ایمان والو! دین میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ‘‘
(البقرة)
ایک اور آیت بھی دین کی کاملیت اور قطعیت پر واضح دلیل ہے:
’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل فرمادیااور تم پر اپنی نعمت پوری فرمادی اور تمہارے لیے دینِ اسلام پر راضی ہوا۔ ‘‘
(المائدہ:۳)
اله اپنی ملکیت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا هے،
اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو ۔ : سورة الأعراف – آیت ۔10
مزید اپنے حق ملکیت میں تصرف کی اجازت دیتے ہوئے کہتا ہے’
“یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں ، آپ فرما دیجئے! کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی ہیں سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو” : سورة الأنفال -ایت ۔1
اور اس بخشش پر پھر احسان جتاکر اپنی ملکیت کی وضاحت کرتا ہے،
” اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے کمزور شمار کئے جاتے تھے ۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں ، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو” ۔
: سورة الأنفال – آیت 26
پھر اپنی ان بخششوں پر ملکیت کی وجہ سے ان کا انصاف پر مبنی استعمال کا سبق دیتا ہے
“اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول ( کے حقوق ) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خیانت مت کرو” ۔ : سورة الأنفال – آیت 27
اور ایک دفعہ پھر اپنی ملکیت پر زور دیتا ہے،
“اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو تیری پیروی کر رہے ہیں” ۔ : سورة الأنفال – آیت ۔64
اگر وقت اور مقدار کی قید نہ ہو تو الله خالق واحد کی کامل ملکیت پر خود اس کے کلام سے اتنی چیزیں لکھی جاسکتی ہیں کہ بات کبھی ختم نہ ہو-
اس کے علاوہ ہر معاملے میں ہماری اپنی بیچارگی اور بے مائیگی ہر شے پر الله کی کامل ملکیت کا منہ بولتا ثبوت ہے جو بعض کم عقلوں کے لئے زیادہ اہم ہوسکتا ہے-
انگریزی میں دولت یعنی wealth سے مراد سونا چاندی، سکے، زیور، فرنیچر اور دیگر مادی اشیا لی جاتی ہیں۔
معاشیات میں دولت سے مراد وہ تمام چیزیں بھی ہیں جو بلاواسطہ یا بالواسطہ انسانی احتیاجات کو تسکین دے سکیں مثلآ محبت، صحت اور
حب الوطنی بھی شامل ہے-
اسلام کا منبع قرآن عربی ہے اور عربی میں دولت کے لفظی معنی ثروت نہیں بلکہ حکومت یا ریاست ہوتا ہے۔ پاکستانی کرنسی نوٹوں پر لکھے ہوئے جملے “بینک دولت پاکستان” کا مطلب ہے “حکومت پاکستان کا بینک”۔ اسی طرح “دولت عثمانیہ” کا اردو میں مطلب ہے “ریاستِ عثمانیہ”۔ پس اسلام میں دولت wealth کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتی –
اسلام میں جس کے احکامات قرآن عربی میں آئے لفظ دولت نہیں زر استعمال ہوئے ہیں- موجودہ مغربی نظامِ معیشت بھی زر کے گرد گھومتا ہے-
مغرب میں حکومت کو یہ کھلا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شے کو ‘‘زر ’’ Money قرار دے سکتی ہے مثلاً حکومت اگر کہے کہ گائے “زر” ہے تو ہے اور اگر کہے کاغذی نوٹ ‘‘زر” ہے تو سب کو ماننا پڑے گا اور اگر کہے کہ پلاسٹک سے بنے کارڈ ‘‘زر’ ’ہے تو سب کو ماننا پڑے گا۔
لہٰذا دنیا کے تمام ممالک کے آئین اور دستور میں یہ بات درج ہے کہ کاغذی نوٹ ‘‘زر’’ ہے اور اِسے چھاپنے والے صرف مرکزی بینک ہوں گے-
جس ‘‘زر’’کے پیچھے حکومت کا قانون کارفرما ہو اُسے ‘‘زرِ قانونی” کہاجاتا ہے اور انگریزی میں اُسے “Legal Tender” یا ‘‘کرنسی’ (Currency) کہا جاتا ہے۔ یہ زر ناپنے کے پیمانے ہیں- مثلآ روپیہ، ڈالر، روبل، یوان، یورو، ین، پاؤنڈ وغیرہ-
اسلام میں کوئی ‘‘زرِ قانونی’ ’نہیں ہے۔ کوئی بھی اسلامی حکومت عوام پر بزور کوئی ‘‘زر’’ نافذ نہیں کر سکتی بلکہ یہ عوام کی منشا پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ کوئی بھی چیز آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔
امام مالک ؒ نے ‘‘زر’ ’کی تعریف یوں کی ہے کہ،
“ہر وہ جنس جو عوام آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال کرنا قبول کرے اُسے ‘‘زر” (Money) کہا جائے گا۔
مغربی نظامِ معیشت میں ‘‘زر’’ کی قیمت اس کے اندر بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی مثلاً سونے اور چاندی کے سکوّں کو بھی بطورِ زر استعمال کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ کاغذی نوٹ، پلاسٹک کارڈ وغیرہ بھی ‘‘زر’’ (Money) کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اسلامی نظامِ معیشت میں ‘‘زر’’ کی قدر اس کے اندر ہونی چاہیے، چاہے وہ کوئی بھی جنس ہو مثلاً سونا، چاندی، گندم، کھجور وغیرہ۔
رسیدوں کو بطورِ ‘‘زر’’استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
لہٰذا اسلامی معاشی نظام میں کاغذی کرنسی، پلاسٹک کرنسی، برقی کرنسی (Digital Currency) مکمل طور پر حرام ہے جس کی اسلام میں ممانعت ہے۔
رسید اگر دو بندوں کے درمیان نجی معاملہ ہو تو وہاں تو حلال ہے لیکن اس کو تیسرے اور چوتھے بندے پر بیچ نہیں سکتے ہیں جب تک اس مال پر قبضہ نہ کیا جائے جس کی یہ رسید نمائندگی کرتی ہے۔
حدیث۔
“امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم کے عہد حکومت میں لوگوں کو جار (بازار کا نام) کے غلّے کی رسیدیں (سندیں) ملیں۔ لوگوں نے رسیدوں کو بیچا ایک دوسرے کے ہاتھ قبل اس بات کے کہ غلہ اپنے قبضہ میں لائے تو زید بن ثابت اور ایک اور صحابی (ابو ہریرہ) مروان کے پاس گئے اور کہا، کیا تو ربا کو درست جانتا ہے؟ اے مروان!
مروان نے کہا، معاذاللہ کیا کہتے ہو۔
انہوں نے کہا کہ رسیدیں جن کو لوگوں نے خریدا، پھر خرید کر دوبارہ بیچا قبل غلّہ لینے کے۔
مروان نے چوکیداروں کو بھیجا کہ وہ رسیدیں لوگوں سے چھین کر رسید والوں (مالکان) کے حوالے کر دیں۔ “
مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ رسیدوں میں تجارت کو حرام سمجھتے تھے۔
1840ء میں خلافت عثمانیہ میں سب سے پہلے کاغذی نوٹوں کی ابتدا ہوئی،
جس کے خلاف اس وقت کے سب علما نے فتوی دیا۔ لہٰذا اس پر پابندی لگائی گئی۔
اس سب کا نچوڑ کچھ یوں ہوا، الله خود کو ہر چیز کا خالق اور رب بتا رہا ہے اور اگر ہم اسلام پر یقین رکھتے ہیں تو ہمارا الله پر بھی کامل یقین ہے- چونکہ وہ کل کا خالق اور رب ہے اس لئے وہ ان کا مالک بھی ہے-
یعنی ملکیت صرف الله کی ہے-
دنیا کا نظام چلانے کے لئے اس نے اپنی ایک ذی شعور تَخلیق انسان کو خلیفہ مقرر کرکے کچھ اختیارات بعض شرائط کے ساتھ تفویض کئے-
الله نے ان نظاموں میں ایک اہم نظام زر (دولت) کا بنایا جو انسان کے استعمال میں آنے والی اشیا کے لین دین کا نظام ہے – اس نظام زر کے تمام اصول خود الله نے بنائے اور انسان کو بتائے – اس نظام کی ملکیت الله ہی کی ہے لیکن اسے چلانے کے تفویض کردہ اختیارات انسان کے ہیں- اس کو متنبہ کیا کہ اس نظام میں کمی بیشی نہ کرنا ورنہ مسلمان نہ رہوگے-
یعنی الله مالک کل، تمام دولت (زر) الله کی مگر انسان کو سہولت دینے کے لئے دولت کا ایک مقرر نظام جس کے تحت انسان دولت کا استعمال کرسکتا ہے مگر بے انتہا احتیاطوں کے ساتھ-
دولت کی وہی حرمت بتائی گئی ہے جو عورت کی عفت کی-
155
اچھی تحریر ہے معلومات میں اضافے کا سبب بنی