قدیم زمانہ جہالت میں خواتین کو ایک کھلونا سے تعبیر کیا جاتا تھا۔اس کے ساتھ ہر طرح کے کھیل کھیلے جاتے تھے۔جنسی استحسال ایک معمول بنا ہوا تھا۔عرب ممالک کے جہالیی دور میں عورتوں کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا تھا۔لڑکیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا۔عورتوں کو بازاروں کی زینت بنایا جاتا تھا۔پھر دنیا میں اسلام کا ظہور نمایا ہونے کے بعد پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق تعین کردی? جس سے عورتوں کو عزت کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگے۔اسلام نے عورتوں کو سماج میں ایک اہم ستون بن کر پیش کر دیا۔جس سے سماج میں شعوربیدار ہونے لگا۔عورتوں کے عزت وآبرو کی حفاظت سماج کے ہرطبقے پر عائد کر دی گء۔اسلام نے عورت کو سماج میں ایک وقار کا مقام عطا کیا۔دنیا کو بھی عورتوں کے تعیں احساس جاگنے لگا۔دنیا کے مختلف ممالک نے اسلام کے اس اقدام کو سراہا اور عورتوں کو بااختار بنانے میں اپنا رول ادا کیا۔قرآن مجید میں عورت کی اہمیت اور مقام کے بارے میں کئی ایک آیات موجود ہیں۔عورت خواہ ماں ہو یا بہن ہو،بیوی ہو یا بیٹی اسلام نے ان میں سے ہر ایک کے حقوق وفرائض کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ ماں کا شکر ادا کرنا،اس کے ساتھ نیکی سے پیش آنا اور خدمت کرنا ان کے اہم ترین حقوق میں سے ہے۔حسن سلوک اور اچھے اخلاق سے پیش آنے کے سلسلے میں ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے،کیونکہ بچے کی پیدائش اور تربیت کے سلسلے میں ماں کو زیادہ تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور اسلام نے ان تمام تکالیف کو سامنے رکھتے ہوئے ماں کو زیادہ حسن سلوک کا مستحق قرار دیا،جو اسلام کا عورت پر بہت بڑا احسان ہے۔ظہور اسلام اور اس کی مخصوص تعلیمات کے ساتھ عورت کی زندگی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی جو زمانہ جاہلیت سے بہت مختلف تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک عرصہ? دراز سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی۔ یونان، مصر، عراق، ہند، چین غرض ہرقوم میں ہر خطہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی، جہاں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں۔ لوگ اسے اپنے عیش وعشرت کی غرض سے خریدوفروخت کرتے ان کے ساتھ حیوانوں سے بھی بُرا سلوک کیاجاتاتھا۔ حتی کہ اہلِ عرب عورت کے وجود کو موجبِ عار سمجھتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ عورتوں کو با اختار بنانے کے سلسلے میں پچھلے مہینے مودی سرکار نے بھارت کے ایوان میں خواتین کے ل? ہر شعبے میں ریزرویشن کا بل پاس کرکے بھارت میں خواتین کو با اختیار بنانے کا ایک تاریخی اقدام قرار دیا جاتا ہے۔بھارت میں خواتین کے ریزرویشن بل کو دنیا کے مختلف ممالک نے خیر مقدم کیا۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھارت میں خواتین کے ریزرویشن بل کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت ملک کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ ہوں گی۔ یہ تاریخی اقدام آئینی طور پر پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنائے گا اور ہندوستان میں خواتین کی شرکت کے حق اور صنفی مساوات کے دفاع میں ایک گیم بدلنے والا قدم ہوگا۔ اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی ترجمان روینہ شمداسانی کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے دنیا بھر کے اراکین پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون سازی کے اقدامات کو اپنائیں، جن میں جہاں ضروری ہو، صنفی کوٹہ شامل ہو تاکہ خواتین کی آواز کو مرکز میں رکھا جا سکے۔ اقوام کی سیاسی گفتگو میں مکمل برابری شامل ہو۔ اس بل کو کم از کم 50 فیصد ریاستوں سے توثیق درکار ہے اور ہم ان کی فوری حمایت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہائی کمشنر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد نئے نظام کو نافذ کرے ساتھ ہی ساتھ ‘شیڈولڈ کاسٹ’ اور ‘شیڈول ٹرائب’ کے لیے موجودہ ریزرویشن بھی نافذ کرے۔ ”ہم عوامی زندگی میں تمام پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کی شرکت کے لیے ایک سازگار ماحول کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں – جس کے مجموعی طور پر معاشرے کے لیے گہرے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ہندوستان کی ذمہ داریوں کے نفاذ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔مودی سرکار کے خواتین کے بارے اس اقدام سے سماج میں عورتوں کے ہو رہے امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوگا اور عورت بھی سماج میں اپنے آپ کو طاقتور محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے حق کے لے لڑنے کے اہل ہونگے
68
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل