86

اصل دہشت گرد کون ہے ؟/تحریر/نجیب اللّٰہ مہترزئی

آج کل ہم پرنٹ میڈیا ،الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھتے اور سنتے ہیں کہ فلاں جگہ دہشت گردی ہورہی ہے فلاں جگہ دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے آج دہشت گردوں نے اتنے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اتنے لوگوں کی جانیں ضائع ہوگئیں ،اتنے املاک برباد ہوگئے ،ان سارے جرائم کا مجرم اسلام اور اسلام کے نام لیواؤں کو قرار دیا جاتا ہے۔
اصل میں دہشت گرد کون ہیں پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والے کون ہیں ۔دنیا کے امن وامان اور چین وسکون کو چھیننے والے کون ہیں روئے زمین کے باشندوں کے نیند کس نے حرام کی ہیں ۔کیا اس کے ملزم واقعتا اسلام اور اسلام کے نام لیوا ہیں ۔
اسلامی تاریخ کے مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ اسلام نے ہمیشہ امن و شانتی کی دعوت دی ہے صلح وآشتی کی دعوت دی ہے آپسی محبت و الفت کی دعوت دی ہے اخوت و بھائی چارگی کی دعوت دی ہے میل ملاپ وخیر سگالی کی دعوت دی ہے ۔
ظلم وزیادتی سے روکا ہے فتنہ وفساد سے روکا ہے حق تلفی اور حق مارنے سے روکا ہے ۔
اسلام کےعدل وانصاف اور دعوت امن و شانتی کا اندازہ لگانے کیلئے ضروری ہے قبل اسلام کے حالات سے واقف ہو کہ اسلام سے پہلے دنیا کیسے کیسے حالات سے گزر رہی تھی ،
چھٹی صدی عیسوی میں دنیا بڑی اضطرابی اور بے قراری کی حالت میں لمحات گزاررہی تھی ہر طرف فتنہ وفساد پھیلا ہوا تھا دوسروں پر ظلم وزیادتی کرنے کو اپنے بڑائی کی دلیل سمجھی جاتی تھی دوسروں کے حقوق کو دبانا ایک قابل فخر کارنامہ سمجھا جاتا تھا غریب ونادار اور معزز لوگوں کو معاف تک نہیں کیا جاتا تھا قیصر و کسریٰ کی تاریخ کسے معلوم نہیں ،روم وایران کی ویرانی کسے یاد نہیں بخت نصر کے قتل عام سے کون واقف نہیں جنگ کلاب کے بے دردی سے کون آشنا نہیں
الغرض پوری دنیا میں فساد ہی فساد پھیلا ہوا تھا روم ہو یا ایران پاکستان ہو یا ہندوستان یورپ ہویا ایشیاء ،روئے زمین کا کوئی خطہ ایسا نہیں تھا جہاں لوگ امن و شانتی کی زندگی بسر کررہے ہو ۔
اسی حالت کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے کہا ہے ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس ۔
ایسے خطرناک اور تاریک ترین حالات میں اسلام کا ظہور ہوتا ہےاور اس مضطر اور پریشان دنیا کو حقوق انسانی کا پیغام سناتا ہے ۔
اسلام کہتا ہے صلح جنگ سے بہتر ہے چاہے جھک کر ہو صلح حدیبیہ کی تاریخ کسے یاد نہیں مسلمانوں کو کس طرح اثناء سفر میں روکا کیا
قرآن کہتا ہے ناجائز کسی کو قتل کرنا جائز نہیں ،کسی کے املاک کو ہلاک کرنا جائز نہیں کسی پر ظلم وزیادتی کرنا فساد اور دہشت گردی ہے اور اللہ تعالیٰ فساد اور دہشت گردی کرنا پسند نہیں کرتا ،قرآن کریم کی آیات امن کی دعوت دیتی ہے اور دہشت گردی سے روکتی ہے ۔
لیکن آج اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئ اسے دنیا والوں کے سامنے بدنام کیا گیا ،اسلام کے ماننے والوں کو دہشت گرد کہا گیا اور مسلمان کو جاہل ،بیوقوف اور وحشی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ،جوامن کا داعی تھا اسے دنیا کے سامنے مجرم بنا کر پیش کیا گیا لوگوں کو اس سے نفرت دلائی گئی ۔
شاعر نے خوب کہا ہے ۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہئے آپ کا حسن کرشمہ ساز کردے
لیکن دوسری طرف جنہوں نے فلسطینیوں پرظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیئے ،نفرت ورسوائی ،حقارت وفضیحتی ،ذلت ورسوائی اور قتل وغارت گری کا گھناؤنا کھیل کھیلنے والوں کو امن پسند ،معصوم اور مظلوم دکھا یا گیا ،جنہوں نے سر زمین فلسطین کا چپہ چپہ گوشہ گوشہ مسلمانوں کے خون سے رنگین کیا ،لاکھوں عورتوں کی عفت وعصمت پامال کیا ،کروڑوں بچے یتیم کئے ،ہزاروں مائیں بیوہ کئے لاکھوں گھروں کو ویران کیا، فلسطینیوں کے زمینیں ناحق قبض کئے ، اس کے باوجود مغربی میڈیا نے ان دہشت گردوں کو امن پسند ،انسانیت پسند قرار دیااور مغربی ذرائع ابلاغ پوری قوت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلسطینی دہشت گرد ہیں ۔
حالانکہ فلسطینی دنیاکی مظلوم ترین اقوام میں سے ہیں جن کو بد ترین وحشیانہ اسرائلی مظالم سہتے ہوئے پون صدی ہونے کو ہے اور آج تک فلسطینی مسلمانوں کا تذلیل اسرائیلی فوجیوں کا روزمرہ کا معمول ہے اور فلسطینی شہریوں کی املاک لوٹنے میں مصروف ہیں ،غزہ کی بجلی مکمل طور پر منقطع کردی ہے تمام راستے مسدود کئے اور انٹرنیٹ بھی بند کیا تاکہ غزہ مواصلاتی طور پر تمام دنیا سے کٹ جائے اور دنیا ان کی حالت سے بے خبر رہے ۔۔۔۔۔
گزشتہ کئی روز سے اسرائیل غزہ کا مکمل محاصرہ کرکے شدید بمباری کررہا ہے ان گنت جدید ترین بم برسا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان معصوم بچوں سمیت شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں محاصرے کی وجہ سے غزہ میں خوراک اور پانی کا قطرہ پہنچنے نہیں دیا جارہا،لاکھوں فلسطینیوں کو گھروں سے نکال دیاتعلیمی اسکول ،یونیورسٹیز اور ہسپتالوں کو بمبار کردیا صحافی حضرات کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا اور قتل عام جاری ہے شہروں کے شہر تباہ کر دئیےیہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی یہودیوں کی آتش نفرت سرد نہ ہوسکی ، خون میں لتھڑے ہوئے معصوم بچوں کو گلیوں اور سڑکوں پر تڑپنے کیلئے چھوڑ دیا تاکہ ان کی مائیں آہ و بکا کرتی رہیں ،
ہسپتالوں میں زخمیوں کے علاج کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہے نہ مرہم پٹی ہے نہ کوئی میڈیسن ،زخمی تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں ۔
نام نہاد امن قائم کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،اقوام متحدہ سے صرف لفظی بیانات آرہے ہیں عملی اقدامات کوئی نہیں اٹھارہا ۔۔۔۔۔۔
مغربی میڈیا پر کھبی یہ نہیں کہا جاتا کہ ان پر ظلم وزیادتی ہورہاہے ان کے حقوق پامال ہورہے ہیں اسرائیلیوں کے لعاب دہن کی قیمت ہے فلسطینی مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس پر ظلم بالائے ظلم یہ ہے کہ میڈیا میں اسے مجرم و خطاکاراور دہشت گرد بنا کر پیش کیا جارہا ہے ۔
لہذا پہلے یہ بات طے کر لینا چاہیے کہ دہشت گردی کسے کہتے ہیں کیا جان ومال کی حفاظت کرنے کا نام دہشت گردی ہے عزت وآبرو کی حفاظت کرنے کا نام دہشت گردی ہے ،اپنے وطن سے محبت کرنے کا نام دہشت گردی ہے،اپنے وطن پر قربان ہونے کا نام دہشت گردی ہے ،ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھانے کا نام دہشت گردی ہے دنیا میں عدل وانصاف قائم کرنے کا نام دہشت گردی ہے مقبوضہ علاقوں کی واپسی کیلئے جدوجہد کرنا دہشت گردی ہے ۔
اگر نام نہاد امن قائم کرنے والے، انسانی حقوق کی باتیں کرنے والے ادارے اس کو دہشت گردی کہتے ہیں تو فلسطینی مسلمان ببانگ دہل کہہ رہا ہے کہ ہم دہشت گرد تھے ہیں اور رہیں گے ۔شاعر کہتا ہے ۔

کتاب سادہ رہے گی کب تک کھبی تو آغاز باب ہوگا

جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کھبی تو ان کا حساب ہوگا

وہ دن اور تھے جب ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کر خوش تھے

اب جو گولی چلے گی راکٹ اس کا جواب دے گا

پتھر مارو دار پہ کھینچو مرنے سے انکار نہیں
یہ بھی سن لو حق کی آخر جیت ہی ہوگی ہار نہیں ۔

لیکن دہشت گردی اسے نہیں کہا جاتا بلکہ کسی کی حریت و آزادی سلب کرنے کانام دہشت گردی ہے کسی کے انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا نام دہشت گردی ہے ،دوسروں کی عزت وآبرو ریزی کرنا دہشت گردی ہے کسی کے امن وسکون کو چھیننے کا نام دہشت گردی ہےدوسروں کے زمینوں پر قبضہ کرنادہشت گردی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں