92

انسانیت سے ماورا انسان/تحریر/اختر عباس اختر سدھار (فیصل آباد)

دنیا میں انسانوں کا ایک سمندر ہے انسانوں کا ایک ہجوم انسان تو سب ہی ہیں مگر سب میں انسانیت نہیں ہے انسان انسانیت سے ماورا ہے، قرآن کریم کے مطابق؛ یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے
بقول اقبال! فرشتوں سے بہتر ہے انسان ہونا، مگر اس پہ لگتی ہے محنت زیادہ
انسان نے ترقی کی منازل کو اتنی تیزی سے طے کیا ہے کہ خود انسان حیران ہے اس نے نہ سمندر کی گہرائیاں پوشیدہ ہیں نہ ہی ا ٓسمان کی بلندیاں حضرت انسان نے چاند پر جانے کے بعد اب ستاروں رہائش پذیر ہونے کا سوچنے لگا ہے اس نے نہ صرف ہزاروں کلو وزنی لوہا ہوا میں آڑا دیا ہے بلکہ لاکھوں ٹن وزن کو پانی پر اور پانی کی تہہ میں اتار دیا ہے زیر زمین دنیا بسانا شروع کر دی اور پہاڑوں کو روئی کی طرح ہوا میں اڑاتا ہوا دکھائی دیتا ہے صرف موبائل کی ایجاد پر بات کر لی جائے تو انسان کی بہترین ایجاد کہی جا سکتی ہے کہ جس میں دنیا سمیٹ دی گئی ہے چند دھاتوں سے بنا چند گرام وزنی یہ آلہ آپ کو دنیا سے ملائے ہوئے ہے لاکھوں میل دور بیٹھے جس انسان کا نمبر ڈائل کرتے ہیں اسی انسان سے آپ آڈیو یا ویڈیو بات کر لیتے ہیں انسان کی بہترین اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایجادات میں شاید موبائل ہی ہے جو دنیا میں تقریبا ہر انسان استعمال کرتا ہے اگر اس کے جدید طرین ماڈل کی بات کی جائے تو وہ مالیت لاکھوں روپے انسان کی ایجاد کی ہوئی چیز یعنی موبائل لیٹ ٹیسٹ ماڈل خریدنے کے بعد ہم اسکی بہت زیادہ حفاظت کرتے ہیں اس پرخراش نہ آ جائے وہ ٹوٹ نہ جائے گر نا جائے اور جسے اللہ تبارک تعالیٰ کہ رہا ہے، یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے،اس انسان کے ساتھ ہم کیا سلوک کر رہے ہیں اسے ہم مار رہے ہیں آئے روز واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انسان انسان کو کیسے بے دردری سے قتل کر رہا ہے کیسے نقصان پہنچا رہا ہے اچھا جب انسان کو خلق کیا گیا تو فرشتوں نے کہا کہ یہ زمین پر جا کر فساد کرے گا اب انسان زمین پر ابھی آیا نہیں اور فرشتوں کو کیسے پتا چل گیا کہ یہ زمین پر جا کر فساد برپا کرے گا اصل میں انسان جن چار چیزوں سے بنا ہے ان چار چیزوں کی آپس میں نہیں بنتی۔ہوا،مٹی،آگ اور پانی اب سوچیں ان سب چیزوں کی آپس میں بھلا کب بنتی ہے اس کے بوجود اگر انسان انسان بنے تو اس سے اچھی کوئی مخلوق ہو نہیں سکتی مخلوقات میں خطرناک مخلوقات بھی ہیں جیسے جنات انسانوں کے لئے خطرناک ثابت ہوتے ہیں لیکن جنوں کے لئے نہیں حیوانوں میں شیر،چیتا بھیڑیا اور دیگر ایسے جانور ہیں جو جنگل کے جانوروں کے لئے خطرناک مگر ہم جنس کے لئے نہیں سانپ سے سانپ کو کوئی خوف نہیں نہ شیر کو شیر سے کوئی ڈر ہے بھیڑیا خطرناک جانور ہے مگر دیگر بھیڑیوں کے لئے نہیں انسان وہ واحد جانور ہے جو انسانوں اور حیوانوں دونوں کے لئے خطرناک ہے معاف کیجئے گا میں انسان کی بات کی ہے انسانیت سے ماوارا انسان کی جس سے نہ انسان محفوظ ہیں نہ ہی حیوان نہ بچے نہ ہی بوڑھے نہ رشتوں کا تقدس محفوظ ہے نہ ہی عزتیں معصوم بچوں کی زندگیاں محفوظ ہیں نہ کسی کا ایمان محفوظ ہے نہ مسلمان محفوظ ہیں اس شر پسند انسان سے نہ ہے غیر مسلم یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے پھر بھی اس قدر نافرمان ہو چکا ہے کہ انسانیت ہی بھول چکا ہے ایک یہودی نے حضرت علی سے سوال کیا کہ مسلمان کا ایمان ہے اللہ تعالی سب کچھ دیکھ رہا ہے تو کوئی ایسی چیز ہے جو اللہ تعالی نہ دیکھ سکتا ہو،آپ نے فرمایا جی ہاں ایک چیز ہے جو اللہ تعالی کی پاک ذات نہیں دیکھ سکتی پوچھا گیا وہ کیا،فرمایا اللہ خواب نہیں دیکھ سکتا،اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند مطلب وہ تو ہر وقت بیدار ہے سب دیکھ رہا ہے اور اپنی بنائی سب سے بہترین مخلوق کو دیکھ رہا اس کے باوجود انسان لوگوں کے گھر جلا رہا ہے ان کی عبادت گاہیں مسمار کر رہا ہے بچوں کو درندگی کا نشانہ بنا رہا ہے معصوم بہنوں اور بیٹیوں کو ہوس کا نشانہ بناتا جا رہا اس انسان سے معصوم بچے تک محفوظ نہیں ہیں آخری نبی کا امتی ہونے کا دعوے دار حضرت انسان دودھ بھی کیمکل سے تیار کرنے لگا ہے فروٹ کو سکرین کے انجیکشن لگا کر میٹھا اور کیمکل کلر سے ان کے رنگ تبدیل کر کے اپنے انسانوں کو فروخت کر رہا ہے حضرت انسان انسانوں کی سمگلنگ بھی کرتا ہے اور انسانوں کے اعضا نکال کر فروخت بھی،ہوا کی بیٹوں کو عصمت دری پر مجبور بھی کر تا ان کے سودے بھی اور ان کوہوس کا نشانہ بھی بنا دیتا ہے حضرت انسان سے مسجد بچی ہے نہ مندر نہ گرجا گھر نہ کوئی بارگاہ یہ عبادت گاہوں میں گناہ کبیرہ و صغیرہ کا مرتکب بھی ہو رہا ہے اور عبادت گاہوں کو اپنی بنائی ہوئی ایجادات بم،بارود سے نشانہ بھی بنا رہا ہے یہ پیسے کی خاطر انسانوں کو اغوا بھی کر رہا ہے اور اسلحہ کے ذور پر چوری و ڈیکتی کی واردات بھی حضرت انسان فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے بھی لگا رہا ہے اور ایک دوسرے کو گولیوں کا نشانہ بھی،حضرت انسان جنت کا طلب گار بھی ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان بھی،محسن انسانیت کے امتی ہونے کے دعوے دار حضرت انسان کو زمین پر انسانوں کی طرح رہنا نہیں آیا انسان میں سب کچھ ہے سوائے انسانیت کے گذشتہ روز فیصل آباد کی ایک مسجد کا واقع ہے جہاں پر نماز ظہر کی ادائیگی کے لئے پندرہ کے قریب مسلمان موجود تھے دوران نماز ہی چھ افراد کی جیبوں سے نقدی و موبائل فون نکال لئے گئے نماز ہے فوری بعد پتا چلا ہے اللہ کی عبادت کے لئے آئے نمازیوں کی جیبوں کا صفایا حضرت انسان نے ہی کر دیا ہے گذشتہ دنوں سندھ میں پیش آنے والے واقع جہاں ایک پیر صاحب کی حویلی میں معصوم بچی کا قتل ہوا جس کی پوسٹ مارٹم رپوٹ پڑھ کر انسانیت شرما جائے انسان نما حیوان کا کردار اف خدایا انسانیت ہے کہاں کیا ایسے افراد انسان کہلوانے کے بھی لائق ہیں،قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی حضرت انسان زرا اپنے آپ پر نظر تو ڈال تو ہی ہے جو سب سے افضل مخلوق ہے جسے فرشتوں سے افضل ہونے کا اعزاز حاصل ہے تو پھر اے ابن آدم انسان بن اور انسانیت بھی سیکھ حیوانیت کے خول سے باہر آ اور انسانوں کی بستیوں میں انسان بن کے رہنا سیکھ ایسا انسان جس سے دوسرے انسان محفوظ ہوں اپنے آپ کو انسانوں کی صف میں شامل کرنے کے لئے اپنے ضمیر سے سوال کر اور پھر اپنے آپ کو انسانیت کے دائرے میں لا اور انسان بن اپنی دنیا اور آخرت خراب مت کر اللہ تعالی ہمیں انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں