لفظ” اپنے ” ایک مٹھاس بھرا لفظ ہے لفظ “اپنوں “سے مراد ہمارے بہن،بھائی ،تایا،چاچو اور عزیزوں واقارب ہیں
اپنوں کی محبت اور اپنائیت سے ہمیں معاشرے میں پہچان ملتی ہے معاشرہ ہمیں عزت اور وقار دیتا ہے
لیکن آجکل کے دور میں اپنوں کی محبت کہی کھو گی ہے لوگ پیسہ کمانے کی مشن بن گے ہیں اور زندگی کے خوبصورت لمحات وہ ایسے ہی گزار دیتے ہیں
اس پیسہ کمانے کے چکر میں وہ اپنے بیوی بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا حصہ نہیں بن سکتے ۔
پیسہ زندگی میں اہم ہے کیونکہ ہم اپنی ضروریاتِ زندگی اسی سے پوری کرتے ہیں لیکن ہمیں پیسے کمانے کی مشن نہیں بننا چاہیے
ہم پیسہ کمانے کے چکر میں اپنوں وقت ہی نہیں دیے پاتے ،رشتے عزت اور وقت مانگتے ہیں اور اپنوں کی محبت ہی تو ہمارے جینے کی وجہ ہوتی ہے ۔۔
اس پیسے نے اپنوں میں بہت فاصلے پیدا کر دیے ہیں اپنے اپنوں سے دُور ہونے لگے ہیں
جب ماں باپ بوڑھے ہو جائے انہوں اولاد کے وقت کی بہت ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ان کے پاس بیھٹے ان سے باتیں کرئے لیکن اولاد کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ، ماں باپ سارا دن بیٹے کا انتظار کرتے ہیں بیٹا آئے گا تو باتیں کرئے گے لیکن بیٹا کام کر کے تھکا ہارا آتا ہے اور آتے ہی سو جاتا ہے میں یہ نہیں کہتی کہ محنت نا کرو کام نا کرو
کرو لیکن اپنے وقت میں سے اپنے والدین اور بیوی بچوں کو بھی وقت دو ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھو
ہم پیسے کمانے کی ڈور میں اپنوں کو احساسِ کمتری کا شکار بنا دیتے ہیں
اپنوں کے ساتھ وقت گزارو ان کو اپنے ہونے کا احساس دلاؤ تھوڑا کما لو لیکن اپنی چھوٹی خوشیوں میں شامل رہو کیونکہ یہ زندگی بہت چھوٹی ہے کم ختم ہو جائے پتہ ہی نہیں ۔۔
اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
57