
✍️ عبدالصبور شاکر فاروقی
رات کا آخری پہر تھا۔ سارا نیومیکسیکو سو رہا تھا، البتہ ’’ٹرینٹی سائٹ‘‘ کے قریب کچھ لوگ ابھی تک جاگ رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے انہیں کسی کا شدت سے انتظار ہے۔ اچانک ایک بیوک کار آتی دکھائی دی۔ گلی میں کھڑے تمام آدمیوں کے چہرے کھل اٹھے۔ ان میں سے ایک Robert Oppenheimer تھا جو ان سب کا افسر تھا۔ جوں ہی کار قریب آ کر رکی، رابرٹ آگے بڑھا اور کار کی ڈگی کھول دی۔ اس ڈگی میں کوئی خاص چیز رکھی تھی۔ اس چیز کی شکل راکٹ سے ملتی جلتی تھی۔ یہ بہت ہی اہم چیز تھی، اسے اٹھانے والے بھی بہت خاص لوگ تھے۔ آج دنیا کو بدل دینے والی ایک چیز کا تجربہ ہونے والا تھا۔ ایک ایسی چیز کا تجربہ جس کی کامیابی کے بعد طاقت کا توازن آنا فانا تبدیل ہو جاتا۔ دنیا دو حصوں میں تقسیم تھی، اتحادی بلاک اور جرمن بلاک۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا تو طاقت کا پلڑا اتحادی بلاک کی جانب جھک جاتا، بصورت دیگر جرمن تعصب ساری دنیا کا حکمران ہوتا۔
16جولائی 1945کی ایک نسبتا گرم صبح مقامی وقت کے مطابق 5بج کر 25منٹ پر ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ شہر کے در و دیوار ہل کر رہ گئے۔ ایک مخصوص دھواں Mushroom Cloud اٹھتا دکھائی دیا۔ چمک اتنی بڑھی کہ اندھیرے منہ دوپہر کے وقت کا گمان ہونے لگا۔ 20ٹی این ٹی کی طاقت رکھنے والے مواد نے زمین لرزا دی۔ سوتے لوگ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے اور بھاگنے لگے کہ شاید قیامت آ گئی ہے۔ یہ ایٹم بم کا پہلا تجربہ تھا جس میں پلوٹونیم کا استعمال کیا گیا تھا۔(اس کے بعد تمام تجربات میں یورینیم استعمال کی گئی)۔ تجرباتی دھماکے نے تمام حاضرین کے چہروں پر رونق دوڑا دی۔ مبارک باد کی صدائیں بلند ہوئیں۔ حالاں کہ ابھی کچھ دیر پہلے تک تمام لوگ گومگو کی کیفیت میں تھے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ کے مطابق کچھ لوگ خوش تھے، کچھ رو رہے تھے جب کہ کچھ بالکل چپ چاپ گم صم کھڑے تھے۔ امریکی صدر ہیری ٹرومین تک پل پل کی رپورٹ پہنچ رہی تھی۔ ان کے سٹاف میں سے کسی نے زور سے نعرہ لگایا ’’اب میں موت بن گیا ہوں، دریاؤں کو تباہ کرنے والی موت۔‘‘
یہ ایٹم بم کا پہلا تجربہ تھا، جس پر دو بلین ڈالر خرچ ہوئے۔ اس کے بعد عملا پہل بھی امریکہ نے ہی کی، جب 22دن بعد اگست میں ہیروشیما پر بم برسایا گیا اور آن کی آن میں لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا۔ پھر تجربات کا یہ سلسلہ چل نکلا۔ اب تک 2 ہزار کے قریب ایٹمی تجربات ہو چکے ہیں۔ امریکا کے بعد کئی ممالک اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔ سوویت یونین نے 1949 میں پہلا تجربہ قازقستان کے صحراؤں میں کیا اور اکتوبر 1961 میں یہ تجربہ کامیاب ہو گیا۔ اب تک روس 8ہزار ایٹم بموں کا مالک ہے۔ امریکا نے اپنی طاقت میں مزید اضافہ کیا اور 7300بموں کا مالک بن بیٹھا۔ فرانس 1960 میں ایٹمی طاقت بن گیا، اب اس کے پاس 300بم ہیں۔ چین نے 1964 میں دنیا کو اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا ثبوت فراہم کیا، اب تک 250کے قریب بم ذخیرہ کر چکا ہے۔ برطانیہ 1952 میں ایٹمی طاقت بنا ، اب اس کے پاس 225ایٹم بم ہیں۔ بھارت نے 1974 میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا، اب 110ایٹم بموں کا مالک ہے۔ پاکستان نے 1998 میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور اس کے پاس 120ایٹم بم ہیں۔ ان کے علاوہ اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس بھی جوہری ہتھیار ہیں لیکن ان کی تعداد کا اندازا لگانا مشکل ہے، کیوں کہ ان ممالک نے اپنا پروگرام اب تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا ہے۔
ایٹم بموں کی بڑھتی تعداد دیکھ کرنظریہ ایٹم بم کا مصور، سائنس دان البرٹ آئن سٹائن بھی پریشان ہو گیا۔ اس نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ’’ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے رجحان نے ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جس کی دوسری جانب صرف ہلاکت ہے۔‘‘ اسے اس بات پر افسوس تھا کہ اس نے امریکی صدر روز ویلٹ کو یہ خط کیوں لکھا کہ’’جرمن ایٹم بم بنانے کے قریب ہیں، آپ بھی اس جانب توجہ دیں۔‘‘ اقوام متحدہ بھی اس رجحان کو خطرہ سمجھتی ہے۔ چناں چہ چند ممالک نے مل کر 1963 میں LTBTمعاہدہ کی بنیاد رکھی تاکہ ایٹمی دھماکوں کے تجربات کو روکا جا سکے۔ 1996 میں ایک بار پھر ایک نئے معاہدے کا سنگ بنیاد رکھا گیا جسے CTBTکہا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کئی ممالک خفیہ یا اعلانیہ اپنے پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کی اپنی مجبوریاں بھی ہیں جیسے پاکستان۔ کہ اس کا دشمن انتہائی چالاک اور پرلے درجے کا کمینہ ہے۔ جسے ڈنڈے کے سوا کوئی زبان سمجھ نہیں آتی۔ لہذا مجبورا پاکستان کو اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنا پڑ رہا ہے۔البتہ بعض ممالک محض اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے دن بدن اسے بڑھاوا دے رہے ہیں جیسے بھارت وغیرہ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کیا واقعی امریکا نے سب سے پہلے ایٹمی تجربہ کیا؟ یا اس سے پہلے بھی کسی نے ایسی کوئی چیز ایجاد کی تھی؟ اس بارے میں مختلف نظریات ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں جرمن امریکا سے بہت پہلے بم بنا چکے تھے لیکن انہوں نے کوئی تجربہ نہیں کیا تھا۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ انسان ہزاروں سال پہلے اس بم کا نہ صرف تجربہ کر چکا ہے بلکہ اس تجربے کے نتائج بھی بھگت چکا ہے ۔ اس خیال کے اثبات میں ایک دو شواہد پیش کیے جاتے ہیں مثلا ایٹمی تجربہ کے بعد خاص قسم کے شیشے کے ٹکڑے علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ ٹکڑے لیبیا اور مصر کی سرحد پر دس مربع کلومیٹر کے علاقے میں پائے گئے ہیں۔ میساچوسٹس یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق ان ٹکڑوں کی عمر 2کروڑ 60لاکھ سال بتائی جاتی ہے۔ یہی Cilica Glass چین اور منگولیا سے بھی ملے ہیں جو 2کروڑ 80لاکھ سال پرانے ہیں۔ روس اور سکاٹ لینڈ میں کروڑوں سال قدیم پگھلی ہوئی دیواریں دریافت ہوئی ہیں جو اس بات کی غماز ہیں کہ یہ ایٹم بم کے حملے کی وجہ سے پگھلی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ شواہد بتاتے ہیں کہ انسان نے کروڑوں سال پہلے اپنی ان نالائقیوں کے سبب اپنی تہذیب ختم کر دی تھی۔
اگر ماہرین درست کہہ رہے ہیں تو ہمیں مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہیں ہم بھی اپنی تہذیب کو تباہی کی جانب نہیں لے جارہے؟ کہیں ایسا نہ ہو، کروڑوں سال بعد آنے والے لوگ کہیں ’’آج سے دو کروڑ سال پہلے امریکا، برطانیہ یا فرانس نامی علاقوں میں لوگ رہا کرتے تھے جو اپنے ہی تیار شدہ ہتھیاروں کے سبب صفحہ ہستی سے نابود ہو گئے۔‘‘