زندگی دائرہ در دائرہ ایک سفر ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے دائرے میں رواں دواں۔ اس سفر سے کسی کو مفر نہیں۔ جب کسی کے دائرے میں حبس بڑھنے لگتا ہے تو وہ اپنے چھوٹے دائرے سے نکل کر ایک بڑے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ ان بھول بھلیوں میں نہ منزل کا نشاں ملتا ہے نہ تشنگی کا درماں۔
کیا تم نے کبھی سوچا ہے ان دائروں کی خاصیت کیا ہے؟ کیا تم نے کبھی جانا ہے کہ یہاں جو چیز جس مقام سے شروع ہوتی ہے وہیں پر اختتام پذیر بھی ہوتی ہے یعنی ہر شے کا نقطئہ آغاز اور اختتام ایک ہی ہے۔ ہر دائرے کی ایک حد ہے اور ہر حد سے پرے مقامِ ابتداء۔ جو آخری حد کو چھو لیتا ہے وہ اپنے آغاز کی جانب لوٹ جاتا ہے۔ مکمل چھا جانے کے بعد عروج زوال میں ڈھلنے لگتا ہے۔ رات جب مکمل تاریک ہوجاتی ہے تو اندھیرا چھٹنے لگتا ہے۔ کسی کی جدائی دل میں رخنہ ڈالتی ہے، یادیں گھیرے میں لے لیتی ہیں، مگر ایک خاص حد سے آگے کوئی کسی کو یاد نہیں کر سکتا۔ محبت میں حد سے گزر جانے والےایک مقام پر دل کو محبت سے خالی محسوس کرتے ہیں۔ ہر چیز جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں پر ختم ہو جاتی ہے اور ہر چیز جہاں ختم ہو رہی ہوتی ہے وہیں پھر سے شروع ہو جاتی ہے۔ خوف ایک مرحلے پہ آ کر انسان کو نڈر اور بے خوف کر دیتا ہے۔ درد ایک نکتے پہ پہنچ کر مزید محسوس نہیں ہوتا۔ مشکلیں حد سے بڑھ جائیں تو آسان ہوجاتی ہیں۔ گویا زندگی ایک دائرے میں چلتی ہے۔ پانی کا اپنا ایک دائرہ ہے۔ نائٹروجن، ہائیڈروجن اور دیگر عناصر اپنے اپنے دائرے کو مکمل کرتے ہیں۔ یوں کائنات چھوٹے بڑے بے شمار دائروں کے تسلسل سے وجود میں آتی ہے۔ جو اس تسلسل کو توڑتا ہے بے معنی ہوجاتا ہے۔
کیا تم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے ان دائروں سے پرے کیا ہے؟
دائروں کے اس تسلسل سے اکتا کر انسان ان کی حدوں سے باہر نکل جانا چاہتا ہے مگر ان سے پرے فقط بے معنویت ہے۔ ہر دائرے کی اپنی ایک کشش ہے جو انسان کو کہیں جانے نہیں دیتی۔ کیا تمہیں معلوم ہے جو دائرے سے نکل جاتا ہے وہ اس کشش سے آزاد ہو جاتا ہے۔
ایک راز کی بات بتاؤں؟ کائنات کا راز جاننے کے لیے دائرے کی کشش سے آزاد ہونا شرطِ اول ہے کیونکہ دائروں سے پرے بہت سے راز پوشیدہ ہیں۔ دائروں کی حدوں سے پرے اس بے معنویت کے اپنے معانی ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے خود بے معنی ہونا بہت ضروری ہے۔ محبت کے دائرے سے باہر، محبوب کی کشش سے پرے، زندگی کا راز پنہاں ہے۔ زمین کے دائرے سے نکلو، کششِ ثقل کے اس پار خلاؤں کے راز پوشیدہ ہیں۔ کچھ عجب نہیں انسان وقت کے دائرے سے نکل کر کسی بہت بڑے راز کو جان لے سو روحِ من! اپنی بقا کے راز کو پا لینے کی تمنا ہے تو دائرے سے نکل کر خطِ مستقیم پہ چلنا سیکھو۔ یہ خطِ مستقیم ہی تمہیں کسی منزل تک پہنچائے گا۔ دائروں کی کشش سے نکل کر سوچنے کی جرأت کرو تو تمہیں اپنے دل و دماغ ایک نکتے پر محسوس ہوں گے۔
جان لو، جب دل اور دماغ ایک مرکز پر آجائیں، جب روح و قلب یکجا ہو جائیں تو ہر شے نئے معانی بتاتی ہے گویا معانی و مطالب کا ایک نیا جہان آباد ہوتا ہے۔ تو ہر قسم کی کشش سے آزاد ہو کر سوچو۔ تمام دائروں سے باہر نکل کر دیکھو کئی راز تم پہ منکشف ہونے کو بیتاب ہیں۔
74