87

بادشاہ اور کسان/تحریر/روحی امجد(جدہ)

گھر میں تینوں بچے احسن ، بلال اور مریم بہت خوش اور پرجوش نظر
آرہے تھے، آخر کیوں نہ ہوتے، آج ان کے کتابی چاچا جو آرہے تھے۔ وہ جب بھی آتے ،بچوں کے لئے رنگ برنگی کتابوں کا تحفہ لاتے اور ایک سبق آموز کہانی بھی سناتے۔ان کی کتابوں سے محبت کی وجہ سے بچے انہیں کتابی چاچا کہنےلگے تھے۔
بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور چاچا کی
آمد ہوئ۔ان کے ہاتھ میں کتابوں کا ایک پیکٹ بھی تھا۔
بچوں نے با آواز بلند سلام کیا،” اسلام علیکم چاچا”
کتابی چاچا،
“وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ, کیا حال ہیں میرے پیارے بچوں”؟
“الحمدللہ ، ہم ٹھیک ہیں”
احسن، ” چاچا آپ اس بار بہت دنوں بعد آ ئے۔”
مریم، ” ہم آپ کا کتنا انتظار
کر رہے تھے.”
چاچا،” ہاں بچوں کچھ مصروفیت رہی، لیکن میں بھی آپ لوگوں کو بہت یاد کرتا رہا ۔”
امی جان شربت لے کر
آئیں
“اسلام علیکم بھائ، کیسے ہیں آپ؟ یہ بچے آپ کی آمد کے لئے ہمیشہ بہت پرجوش رہتے ہیں۔”
“وعلیکم السلام بھابی جان،میں بھی ان سے ملنے کے لئے بے چین رہتا ہوں۔”
امی، ” اچھا بھائ آپ ان بچوں سے فارغ ہولیں پھر میں کھانا لگاتی ہوں۔”
کتابی چاچا، ” بچوں آج میں آپ کو ایک بہت زبردست کہانی سنانے والا ہوں۔”
بلال،” بس جلدی سے سنائیں چاچا، اب انتظار نہیں ہورہا”
چاچا،” ہاں تو بچوں یہ کہانی ایک کسان اور بادشاہ کی ہے۔ پرانے زمانے کا ذکر ہے، اس وقت بادشاہوں کا راج ہوا کرتا تھا۔ تو کسی گاؤں میں ایک کسان کا بیٹا بیمار ہوگیا۔وہ بہت پریشان ہوا۔ اس زمانے میں آجکل جیسی سہولیات تو میسر نہیں ہوتی تھیں کہ محلے میں ہی ڈاکٹر مل جائے۔وہ بے چارہ اپنے بچے کودوسرے گاؤں میں ایک حکیم صاحب کے پاس لے کر گیا۔ انہوں نے
اسے دیکھا اورکہا،
“بچے کے لئے دوا تو میں بنادوں گا، دوا بنانے کے لئے جو اجزاء درکار ہیں ،وہ سب میرے پاس موجود ہیں سوائے شہد کے۔ تم کہیں سے مجھے تھوڑا شہد لادو تو میں دوا بنا دیتا ہوں ۔
ان شاءاللہ تمہارا بچہ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گا۔”
کسان نے اپنے بچے کو گھر واپس چھوڑا اور ایک چھوٹی سی ڈبیہ لے کر شہد کی تلاش میں نکلا۔ گاؤں میں سب سے پوچھا لیکن اتفاق سے شہد کسی کے پاس بھی نہ ملا ۔
اسے کسی نے مشورہ دیا کہ بادشاہ کے دربار میں جاؤ۔ہمارا بادشاہ بہت نیک اور ضرورت مندوں کےکام
آنے والا انسان ہے۔
وہاں ضرور تمہیں شہد مل جائے گا۔
اب کسان ڈبیہ لے کر بادشاہ کے دربار میں پہنچااور اپنی حاجت بیان کی اور ڈبیہ بھی دکھائی کہ اس میں دوا بنانے کے لئےتھوڑا سا شہد چاہئے۔
بادشاہ سلامت ڈبیہ دیکھ کر مسکرائے ،ڈبیہ لے کر اپنے
پاس رکھ لی اور وزیر کو حکم دیاکہ کسان کو ایک مرتبان شہد اور کچھ اشرفیاں بھی دے دی جائیں۔
وزیر نے حکم کی تعمیل کی کسان خوشی خوشی دربار سے بادشاہ کو دعائیں دیتے ہوئےرخصت ہوا اور اپنے بچے کے علاج کے لئے دوا بنوائ۔
ادھر کسان کے واپس جانے
کے بعد وزیر نے بادشاہ سے پوچھاکہ،
” بادشاہ سلامت کسان کی
ضرورت تو تھوڑا سا شہد تھا، وہ چھوٹی سی ڈبیہ لے کر آیا تھا لیکن آپ نے اسے پورا مرتبان دیا اور ساتھ اشرفیاں بھی دیں، ایسا کیوں؟”
بادشاہ سلامت بولے،
” کسان غریب آدمی ہے، اس نے ہم سے اپنی ضرورت اور حیثیت کے مطابق سوال کیا لیکن ہم بادشاہ ہیں ہم نے اپنےرتبہ کے حساب سے اس کے مطالبے سے بڑھ کر اسےنوازا۔ جب اللہ نے ہم پر کرم کیا ہے تو ہم دوسروں پہ مہربان کیوں نہ ہوں۔ تم نے دیکھا وہ کتنا خوش ہوا اور کتنی دعائیں دیں۔”
وزیر، ” جی حضور میں سمجھ گیا۔”
کتابی چاچا، ” بچوں کہانی تو ختم ہوگئ، آپ یہ بتائیں
کہ آپ نے اس سے کیا سیکھا؟”
مریم،” یہ کہ ہم سے جب بھی کوئ ، کسی بھی معاملے میں مدد مانگے تو ہم
آ گے بڑھ کراس کی مدد کریں اور اپنی طرف سے زیادہ بہتر سلوک کریں۔”
چاچا، جی بچوں اسے کہتے ہیں احسان کا رویہ۔ اللہ تعالیٰ بھی محسنین کو پسند کرتے ہیں اور قرآن پاک میں ایسے لوگوں کے لئےخوشخبریاں ہیں۔اب آپ لوگ اپنی کتابیں لے لیں اور امی جان کو بتادیں کہ ہماری کہانی ختم ہوگئ۔”
تینوں بچےخوشی خوشی اپنی کتابیں دیکھنے لگے اور
کہا، “شکریہ چاچا”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں