68

تن کے اجلے، من کے کالے/تحریر/رفیع صحراٸی

پاکستان کی ایک پرانی پنجابی فلم چڑھدا سورج کا ایک گیت جسے نسیم بیگم نے گایا تھا آج رہ رہ کر یاد آ رہا ہے۔ سجن سوہنا نہ ملے نا سہی ملے تے غیرت والا نیبھاویں ہووے رنگ دا کالا نی(محبوب خوب صورت نہ ملے تو پروا نہیں، لیکن وہ غیرت مند ہونا چاہٸے، بے شک رنگ کا کالا ہو)بلا شبہ غیرت مند ہونا ایک ایسی خوبی ہے جو انسانی عیبوں کو چھپا لیتی ہے۔ علامہ اقبال کیا خوب فرما گٸے ہیں۔غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میںپہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارادنیا میں وہی قومیں عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہیں جن میں غیرت ہوتی ہے۔ کیونکہ غیرت انہیں کسی کے آگے جھکنے نہیں دیتی۔ وہ سر اٹھا کر جیتی ہیں۔ وہ قومیں اپنے مسٸلے خود حل کرتی ہیں، کسی نبی ، پیغمبر یا مسیحا کا انتظاہر نہیں کرتیں۔ قوموں کو غیرت ان کی لیڈر شپ عطا کرتی ہے۔ غیور لیڈرشپ کبھی وساٸل کا رونا نہیں روتی بلکہ اس کی توجہ مساٸل کو حل کرنے پر ہوتی ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کو سبز باغ دکھانے کی بجاٸے پودے لگا کر ان کی آبیاری کرتا ہے اور ان پودوں کو سبز باغ بنا کر دکھا دیتا ہے۔ ہمارے پڑوس میں افغانستان ہی کو دیکھ لیجٸے۔ سوپر پاورز روس اور امریکہ نے یکے بعد دیگرے اس ملک کو کھنڈر بنا دیا۔ خوش قسمتی سے اس ملک کو غیور لیڈرشپ مل گٸی جس نے اپنا رہن سہن عام آدمی جیسا رکھا، پروٹوکول کو مسترد کر دیا۔ ملک کی تعمیر و ترقی پر کمر کس لی اور آج یہ عالم ہے کہ دو سال کے قلیل عرصے میں اس کی معیشت اپنے پاٶں پر کھڑی ہو گٸی ہے۔ اس کی واحد وجہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بروقت فراہمی ہے جس نے عوام کو اپنی حکومت پر اعتماد دلایا ہے۔ بنگلہ دیش 1971 میں ہم سے علٰحدہ ہوا اور آج اس نے ہمیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہمارا ہمسایہ بھارت ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا تھا۔ وہ چاند پر پہنچ گیا ہے اور ہم اپنے پرچم پر چاند کی تصویر بنا کر اسی پر اکتفا کٸے بیٹھے ہیں۔ بدقسمتی سےہمیں قاٸد اعظم کے بعد گزشتہ 75 سالوں میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے سوہنے اور خوب صورت سجن تو بہت ملے ہیں مگر کوٸی کالے رنگ کا غیرت مند سجن نہ مل سکا جو ہمیں ایک قوم بنا سکتا۔ ہمیں قوم کہنا بھی قوم کی توہین ہے کہ ہم ایک ایسا بکھرا ہوا ہجوم بن چکے ہیں جو مختلف ٹولیوں میں بٹا ہوا ہے۔ کہیں مذہب اور کہیں سیاست کے نام پر ہمیں نفرتوں کی بھینٹ چڑھایا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ہم لوگ نفرتوں میں خود کفیل اور محبتوں سے عاری ایک وحشی معاشرہ بن چکے ہیں۔ قوم ہی نہ رہی تو قومی غیرت کہاں سے آٸے۔ قوم کو بے پناہ مہنگاٸی کی چکی میں باریک پیسنے اور کفایت شعاری کا درس دینے والی شہباز شریف حکومت جاتے جاتے الوداعی کھانے کی صورت میں قومی خزانے کو سات کروڑ کا ٹیکہ لگا گٸی۔ عوام کے لٸے خزانہ خالی اور ملکی ڈیفالٹ کے خطرے کا بھاشن جبکہ اشرافیہ کی عیاشیوں میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سجن سوہنا نہ ملے نہ سہیملے تے غیرت والا نیبھاویں ہووے رنگ دا کالا نیآٸیے! قومی غیرت کا ایک واقعہ پڑھتے جاٸیے۔بنگلہ دیش کا سب سے طویل پل بننا تھا۔ ورلڈ بینک نے 1.2 ارب ڈالر کا وعدہ کیا تھا مگر پھر الزام لگا دیا گیا کہ بنگلہ دیشی کرپٹ ہیں اور قرضہ کینسل کر دیا۔حسینہ واجد کی حکومت نے اپنے ذرائع سے پیسہ اکٹھا کر کے چھ کلومیٹر سے زیادہ طویل پل دریائے پدما پر بنا دیا۔ یہ 6.51 کلومیٹر (4.04 میل) طویل پل تقریباﹰ 3.6 بلین امریکی ڈالر کے برابر لاگت سے تعمیر کیا گیا۔ اتوار کی صبح 6 بجے سے عام ٹریفک کے لیے کھولے جانے کے بعد سے پدما پل پر پہلے آٹھ گھنٹوں میں کل 82,19,050 روپے جمع کیے گئے ۔ اگلے آٹھ گھنٹوں میں پل کے زجیرہ پوائنٹ پر 35,29,500 روپے اور ماوا پوائنٹ سے 46,89,550 روپے جمع ہوئے۔ ایک ہی وقت میں، 15,200 گاڑیاں دونوں سروں سے گزریں اور آج صرف یہ ایک منصوبہ ہی بنگلہ دیشی معیشت میں سالانہ 1.3 فیصد منافع کا حامل ہے۔گزشتہ سال اس کا افتتاح ہونے کے بعد جب حسینہ واجد کی ورلڈ بینک کے سربراہ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پدما پل کی ایک فریم شدہ تصویر اسے تحفے میں پیش کی۔ شاید یہی حقیقی آزادی کی ایک جھلک تھی۔ قومیں اسی طرح بنتی ہیں۔ در در کشکول لے کر بھیک مانگنے سے ترقی نہیں ہوتی۔ہم “دشمن” ہندوستان سے تو نہیں سیکھ پا رہے ہیں کم از کم اپنے پرانے حصے اور “بھائی” بنگلہ دیش سے تو سبق حاصل کرسکتے ہیں جو کبھی میرے ملک کا حصہ تھا۔ 1971 میں وہ ہم سے علٰحدہ ہوا اور آج 50 سال بعد بنگلہ دیش ہم سے کتنا آگے نکل گیا اور ہم 76سال بعد بھی ایک سے دوسری دلدل میں پھنستے اور دھنستے چلے جا رہے ہیں۔20 برس پہلے پاکستانی روپے کے پونے دو ٹکے ملتے تھے۔ آج پاکستانی روپیہ آدھے ٹکے سے بھی کم ہے۔بنگلہ دیش کے خزانے میں 38 بلین ڈالر اور ہمارے خزانے میں 9 بلین ڈالر ہیں۔بنگلہ دیش کو جب ورلڈ بنک نے للکارا تو اس نے 4 بلین ڈالر لگا کر پل بنا کر دکھا دیا اور ہم آج اس بات پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے کہ آئی ایم ایف سے تین بلین ڈالر کی ڈیل ہو گٸی ہے۔سجن سوہنا نہ ملے نہ سہیملے تے غیرت والا نیبھاویں ہووے رنگ دا کالا نی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں