کیا جانور قربان کر دینا قربانی ہے ؟
کیا قربانی کو معنوی طور پر نفس کی قربانی کا استعارہ قرار دینا قربانی ہے ؟
کیا اپنی خواہشات کو فنا کر دینا قربانی ہے ؟
کیا اپنی انا کو پس پشت ڈالنا قربانی ہے ؟
حقیقی قربانی کیا ہے اور کیوں ہے ؟؟
قربانی کے فلسفہ کو دیکھتے ہوئے اور اسلامی شریعت کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی قربانی ہے اپنی محبوب ترین شے کو اپنے سے دور کر دینا ۔۔۔
قربانی کے فلسفہ کو بنظر غائر دیکھیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی محبوب ترین ہستی کو اللہ کے سامنے قربان کیا ( مینڈھے کا انہیں علم نہ تھا ، چھری تو انہوں نے اپنے بیٹے پر ہی چلائی تھی) ۔۔۔
آ ج کے دور میں ظاہری طور پر دیکھیں تو مال اور معنوی طور پر دیکھیں تو نفس ، انسان کی محبوب ترین اشیاء ہیں ۔۔۔۔ اور ان دونوں کی قربانی کا ملاپ ہی قربانی کی روح ہے اور اس کے فلسفہ کا مقصد ہے اور یہی حقیقی قربانی ہے۔۔۔
لیکن اس سے بڑھ کر بھی ایک شے ہے جسے قربان کرنا آ ج کے دور میں بسنے والے انسان کے لیے قریب قریب ناممکنات میں سے ہی ہے۔۔۔۔ بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس قربانی پر پورا اترتا ہیں اور وہ ہے صرف اور صرف اللّٰہ کے لیے انسان کے بنائے رسم و رواج کو چھوڑ کر اسلامی اصولوں پر زندگی گزارنا۔۔۔۔
ہم اگر صرف اپنی ذات پر ہی تھوڑا سا غور کر لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کتنے فیصد اس قربانی پر پورا اترے۔۔۔۔
ہم اپنی خوشی غمی کی رسومات کا ہی ایک جائزہ لے لیں تو بات واضح ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ ہماری روز مرہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے سینکڑوں اعمال ہیں جو اپنی قربانی کے منتظر ہیں۔
چھوٹی سی مثال ہم میں سے کتنے ہی افراد دن بھر میں جھوٹ سے بچے ۔۔۔ کتنے ہی افراد چھوٹی سے چھوٹی بات پر دھوکہ دہی سے بچے ۔۔۔۔ کتنے افراد نے اپنے فرائض میں کوتاہی کی (جانتے بوجھتے) ۔۔۔ کتنے افراد نے کسی کا حق مارا ۔۔۔ ہر گھر اور تقریباً ہر شخص نےکتنی دفعہ اپنی روزمرہ گفتگو میں غیبت و چغلی سے اپنے نفس کو تسکین دی۔۔۔۔
یہ بظاہر معمولی باتیں ہیں لیکن انہیں قربان کرنا ہی حقیقی قربانی یے۔۔۔۔ غور کریں تو نفس کی قربانی بھی یہی ہے اور مال کی قربانی بھی یہی ہے۔۔۔۔ ہم جانور ذبح کرنے سے پہلے یہ تو دیکھ لیتے ہیں کہ اس کے خواص شریعت کے مطابق ہیں یا نہیں تاہم یہ نہیں دیکھتے کہ اس جانور کو ذبح کرانے والے کے خواص شریعت کے مطابق ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔
تو صرف جانور ذبح کر دینا ہی کافی نہیں اس عمل کے پیچھے موجود فلسفہ اور پھر اس فلسفے پر عمل ہی حقیقی قربانی ہے جو آج کے دور میں (مجھ سمیت) افراد میں ناپید ہے۔۔۔۔
کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے اعمال کو بھی شریعت کی کسوٹی پر جانچیں اور پھر جب قربانی کریں تو وہ ظاہری اور معنوی دونوں طرح حقیقی کہلائے جانے کے قابل ہو۔۔۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے ۔ آ مین۔
84