موضوع: ختم نبوت
نام: سیدہ فاطمہ طارق
حضرات انبیاء کرامؑ اللّہ تعالٰی کے پاک اور برگزیدہ بندے ہیں جنکو اللّہ تعالٰی نے مخلوق کی رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا۔ تاکہ ہمکو سیدھے راستے کی طرف بلاسکیں اور برائی سے روک سکیں۔ جو سیدھے رستے کی طرف آجائے اسکو جنت کی جوشخبری سنائیں اور جو گناہوں میں مبتلا رہے اسکو دوزخ کی وعید سنائیں۔ انبیاء کرامؑ کا اس دنیا میں آنا مخلوق کے لئے باعثِ رحمت ہے۔ کیونکہ انہی کی وجہ سے ہم انسان خدا کی معرفت کو پہچانتے ہیں اور کیسے اللّہ ہم سے راضی رہے یہ انبیاء ہی نے ہمکو بتلایا ہے۔ نہ صرف یہ کہ انبیاء کرامؑ مخلوق کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہیں بلکہ انکے لئے ہدایت کی دعا بھی کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے:
اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون
ترجمہ: اے اللّہ میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نہیں جانتی۔
نبوت و رسالت محض موہبتِ خداوندی اور عطیہ الٰہی ہے اللّہ جسکو چاہتا ہے خلعتِ نبوت سے سرفراز فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:
واللّہ یختص برحمتہ من یشاء
ترجمہ: اللّہ جسکو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص فرما لیتا ہے۔
نبوت کوئی اکتسابی شے نہیں جو مجاہدہ اور ریاضت سے حاصل ہو یا خاص قابلیت اور استعداد حاصل ہو جانے سے نبی ہو جاتا ہو، نبوت حق تعالٰی شانہ کی خلافت اور نیابت ہے اور خدا اور بندوں کے درمیان سفارت ہے جب تک بادشاہ کسی کو اپنا نائب اور سفیر نہ بنائے اس وقت تک کوئی شخص محض اپنی قابلیت سے سفیر نہیں بن سکتا۔
اسی طرح تمام انبیاء کرامؑ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر کسی ایک نبی پر بھی ایمان نہیں لایا تو وہ گویا ایسا ہے جیسا کہ سارے نبیوں کو جھٹلایا۔ اللّہ تعالٰی نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا جنمیں حضرت آدمؑ سب سے پہلے پیغمبر ہیں اور آپؑ سب سے آخری پیغمبر ہیں۔ اللّہ تعالٰی نے آپؑ کی پیغمبری سے دین کو مکمل کردیا۔ اب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:
ولکن رسول اللّہ وخاتم النبیین
قرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی نے تمام انبیاء کرامؑ سے اس بات کا عہد لیا کہ اگر محمدؐ کا زمانہ پائو تو ان پر ایمان ضرور لانا۔ اسی طرح آپؑ نے خود ارشاد فرمایا:
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
ترجمہ: میں آخری پیغمبر ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
ایک اور حدیث میں ہے آپؑ نے فرمایا کہ اللّہ تعالٰی نے مجھکو تمام انبیاء پر چھ چیزوں کے ذریعہ فضیلت دی ہےاول یہ کہ مجھکو جوامع الکلم عطا کیے گئے یعنی ایسے کلمات جامعہ جن کے الفاظ تو بہت مختصر ہوں مگر بے شمار علوم اور معارف کے جامع ہوں۔ دوسرے یہ کہ ایک مہینے کی مسافت تک رہنے والے کافروں کے دل میں بلا سبب ظاہری میرا رعب ڈال دیا گیا ہے۔ تیسرے یہ کہ مال غنیمت میری امت کے لئے حلال کر دیا گیا ہے جو پہلی امتوں کے لئے حلال نہ تھا۔ چوتھے یہ کہ مجھکو تمام اولین و آخرین کی شفاعت کا مرتبہ عطا ہوا کہ قیامت کے دن تمام اولین و آخرین اور تمام انبیاء و مرسلین مجھ سے شفاعت کی درخواست کرینگے اور میں شفاعت کے لئے کھڑا ہونگا اسی مقام شفاعت کا نام مقام محمود ہے۔ پانچویں یہ کہ مجھ سے پہلے ہر نبی ایک خاص قوم کے لئے مبعوث ہوتا تھا اور میں قیامت تک کے لئے تمام عالم کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ چھٹے یہ کہ مجھ پر نبوت ختم ہو گئی اور ترمذی کی حدیث میں ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
اذا کان یومالقیامة کنت امام النبیین
ترجمہ: قیامت کے دن تمام انبیاء کا امام اور پیشوا ہونگا۔
دنیا میں سب سے پہلا کفر ہی یہ ہوا تھا کہ نبی کو نہیں مانا اور انکے آگے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کیا۔ شیطان اللّہ تعالٰی کی توحید وربوبیت کا منکر نہیں تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
رب بما اغویتنی
شیطان نبی کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں ہوا اسی لئے ملعون و مردود ہوا۔ اس لئے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو نبی کے وجود کو باوجود حجت کے نہ مانے وہ شیطان کا بھائی ہے۔
اس زمانے کے گمراہ ترین فرقوں میں سے ایک فرقہ قادیانیہ اور مرزائیہ ہے۔ جو کہ اس بات سے انکار کرتا ہے کہ آپؑ آخری نبی ہیں۔ مرزا غلام احمد ساکن جو کہ قصبہ قادیاں ضلع گورداسپور کا پیرو تھا اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں آخری نبی ہوں (معاذآللّہ) وہ کہتا کہ میں مسیح موعود اور مہدی منتظر ہوں اور نہایت ڈھٹائی سے یہ کہتا کہ میں وہی رسول ہوں جسکا ذکر قرآن میں ہے۔ جیسا کہ خود اسکا قول ہے:
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
جب مرزا نے یہ دعوٰی کیا کہ میں نبی ہوں تو لوگوں نے سوال کیا کہ اگر تم نبی ہو تو نبیوں کی معجزے بھی دکھائو تو کہتا کہ نبیوں کو جو معجزے دیے گئے وہ سب مسمریزم ہے اور میں اسکو نہیں مانتا۔
اے مسلمانو! عہد رسالت سے لیکر اس وقت تک سینکڑوں مدعی نبوت و رسالت اور مدعی عیسویت اور مہدویت گزرچکے ہیں سب کافر اور مرتد اور ملعون تھے۔ الامان الحفیظ
92