نام علی،کنیت ابوالحسن اور ابوتراب،والد ابوطالب اور والدہ فاطمہ بنت اسد اور دادا کا نام عبدالمطلب تھا۔آپ کے والد کا نکاح چچا کی لڑکی سے ہوا تھا اس وجہ سے آپ جانب الطرفین ہاشمی تھے اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور حقیقی چچا زاد بھائی تھے۔ آپ کی ولادت آمنہ کے لخت جگر،تاجدارمدینہ،خاتم الانبیاء کی بعثت سے دس برس قبل ہوئی۔ابوطالب نے آپنے چاند سے مکھڑے کا نام علی ابن ابی طالب رکھا۔
حضرت امیر کے والد مکہ کے بااثر بزرگ تھے۔آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم والدہ اور اپنے انتہائی مشفق وشفیق دادا کی وفات کے بعد اپنے چچا ابوطالب اور چچی فاطمہ بنت اسد کی آغوش میں بڑھے پلے اور انہیں کی گود میں مزید تربیت پائی۔رب کائنات کی طرف سے حاصل ہونے والی نبوت کے بعد انہی کے زیرحمایت کفرستان میں کلمہ حق کا تہلکہ مچایا۔ابوطالب نے ہرموقع پر سرور کائنات کو کفار کے ظلم وستم سے محفوظ رکھا۔اپنے بھائی کے لخت جگر کی حمایت کرنے پر کفرستان کے باشندوں کی طرف سے ملنے والی طرح طرح کی آزمائشیوں کے باوجود بھی اس نیک طبعیت بزرگ نے آخری لمحات تک اپنے عزیز بھتیجے کے سرمبارک سے دست شفقت نہ اٹھایا۔جب ابوطالب قحط سالی جیسی مشکل میں مبتلا ہوئے تو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے فرمایا کہ ہم کو چچا کی اس مصیبت میں ہاتھ بٹانا چاہیئے۔چنانچہ حضرت عباس نے ابوطالب کے بڑے بیٹے جعفر کی کفالت کا ذمہ اٹھایا اور آقا علیہ السلام کی نظر حضرت امیر کے معصوم چہرے پر جم گئی یوں حضرت علی آقا علیہ السلام کی کفالت میں آگئے۔
حضرت امیر نے جب عمر کے دسویں سال کی سیڑھی چھڑی تو رسول اللہ کو نبوت کا خلقت عطاء ہوا۔حضرت امیر چونکہ حضور کی معیت میں رہتے تھے اس لیئے انکو اسلام کے مذہبی مناظر سب سے پہلے نظر آئے۔ایک دن سرور کائنات اور ام المومنین سیدہ خدیجہ مصروف عبادت تھے تو وہاں علی المرتضی نے دونوں حضرات کو دیکھ لیا اور دریافت فرمایا یہ آپ کیا کررہے تھے تو رسول اللہ نے نبوت کے منصب کی دعوت دی۔حضور کی پرورش سے فطرت سنور چکی تھی زیادہ سوچ وپچار کی ضرورت محسوس نہ ہوئی یوں دوسرے دن دربار نبوت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوگئے۔
نبوت کا منصب نوازنے کے بعد تاجدار رسالت،حرم کے پاسباں تقریبا کم وپیش تیرہ سال کے طویل عرضے میں مکہ کے نشیب وفراز اور دشوار گھاٹیوں میں کلمہ حق کا پرچار کرتے رہے لیکن جب فدایان محمد پر مکہ کے دجالوں،غنڈوں،اور اوباشوں نے ظلم کے مظالم کی انتہاء کردی تو انھیں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم صادر فرمایا۔حکم کے پاتے ہی اصحاب رسول مدینہ ہجرت کرنے شروع ہوگئے اور چند نفوس قدسیہ کے علاوہ مکہ خالی ہونے لگا تو بالاخر ایک دن رسول اللہ کو بھی ہجرت کر جانے کا پروانہ جاری ہوا۔اس کفار اس خطرے سے دوچار تھے کہ کہیں مسلمان مضبوط ہوکر ہم سے انتقام نہ لیں اس خطرے نے انھیں رسول اللہ کی جان کا دشمن بنادیا اور آقا کےقتل کے در پہ آگئے۔چنانچہ ادھر مشیت الہی کچھ اور فیصلہ کرچکی تھی۔آپ نے بائیس تئیس سالی نوجوان کو بلایا اور اپنی چارپائی پر لیٹ جانے اور اگلی صبح اصحاب مکہ کی امانتیں لوٹا کر مدینہ آجانے کا حکم فرمایا اور خود بیت ابن ابی قحافہ کی طرف روانہ ہوگئے۔وہ خوبرونوجوان آقا کا حکم سن کر آقا کی چارپائی پر خواب وخرگوش کے مزے لوٹنے لگا۔ادھر ابلیس لعین کے چیلے عبداللہ کے دریتیم کو سوتا ہوا دیکھ کر بےفکر ہوگئے۔پر صبح ابن ابی طالب کو سوتا دیکھ کر سرپیٹتے رہ گئے۔حضرت علی اگلے دو تین دن مکہ میں امانتیں مالکوں کو پہنچا کر مدینہ کی طرف کوچ کرگئے۔
حضرت امیر تواضع اور سادگی کی انمول مثال تھے۔سادگی اور تواضع ابن ابی طالب کی دستار کا سب سے انمول اور خشنما طرہ ہے۔اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کو پسند کرتے،مزاج میں بےتکلفی اتنی کہ فرش خاک پر سوجاتے ایک بار خاتون جنت کے بابا،تاجدارحرم آپ کو تلاش کرتے حرم میں تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ فرش خاک پر سورہے ہیں اور جسم پر گردوغبار کا کندن دمک رہا ہے۔آقا نے اپنے دست اقدس سے علی المرتضی کا بدن صاف کیا اور فرمایا”اجلس یا اباتراب”زبان نبوت سے حاصل کی گئی کنیت سے اتنی محبت ہوتی تھی جب کوئی اس سے پکارتا تو چہرے پر خوشی کی لہرڈور آتی۔
تواضع وانکساری کے علاوہ علی المرتضی میدان شجاعت میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔میدان جنگ کے اندر بھی علی المرتضی کے مقابلہ کا کوئی ثانی نہ تھا۔تمام غزوات میں شرکت فرمائی سوائے تبوک کےجو ۹ھ کو پیش آئی کیونکہ آقا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو اہل بیت اور اہل مدینہ کی حفاظت کےلئیے چھوڑ گئے تھے۔تبوک کے علاوہ بدر،احد،خندق اور خیبر کے جنگی میدانوں میں داستاں شجاعت اور بہادری کی وہ مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گیں۔آج کی صدی کے بڑے بزرگ بھی اپنے بال بچوں کو شجاعت حیدری اور ذوالفقار علوی کی مثالیں دیتے نظر آتے ہیں۔
دیگرازیں آپ اچھے صاحب الرائے بھی تھے۔آپ کی رائے پر عہدنبوی سے ہی اعتماد کیا جاتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ میں بہترین جج علی المرتضی ہیں۔دور نبوی کے بعد دورصدیقی اور فاروقی میں آپ قاضی تھے۔ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں انصارومہاجرین کی شوری بنائی گئی تو حضرت امیر بھی اس شوری کے رکن رہے۔دور صدیقی کے بعد عہدفاروقی میں بھی جو امیرالمومنین نے کہا کریں مہاجرین کی شوری بنائی اس میں علی المرتضی رضی اللہ عنہ یقینا شامل ہونگے۔کیونکہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو آپ پر اتنا اعتماد تھا کہ ایک فیصلہ کے موقع پر فرمایا
“لولا علی لھلک عمر” اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔علاوہ ازیں معرکہ نہاوند میں بھی فیصلہ آپ کی رائے پر کیا گیا۔دورفاروقی کے بعد عہدعثمانی میں بھی بے پناہ آپ کی خدمات میسر ہیں۔جب عہدعثمانی میں دور فتنہ و فساد کا آغاز ہوا تو امیر المومنین کو بے پناہ قیمتی مشوروں سے نوازا۔
شہادت عثمان بن عفان رض کے بعد تین دن مسندخلافت خالی رہی بالاخر تین دن بعد یعنی ۲۱ذی الحجہ دوشنبہ کے دن مسجد نبوی میں مسلمانوں نے نئے جانشین کےلیئے آپ کے ہاتھ پر بیعت کےلیئے ہاتھ بڑھائے۔
مسندخلافت سنبھالنے کے بعد حضرت امیر کو اندرونی شورشوں اور خانگی جھگڑوں کے دہانے سے اتنی فرصت نہ ملی کہ وہ فتوحات کے دور کو آگے بڑھاسکے۔البتہ بیرونی امور سے غافل نہ رہے چنانچہ سیتان اور کابل کی سمت بعض عرب خودمختار ہوگئے ان کو قابو کرکے قدم آگے بڑھایا۔اور 38ھ میں بعض مسلمانوں کو بحری راستے کے ذریعے ہندوستان پر حملہ کرنے کی اجازت دی۔
خیر رفتہ رفتہ زمانہ کایا پلٹتا رہا،مہینے سالوں میں بدلتے رہے،کئی خزائیں اور بہاریں آئی،بالاخر 20 رمضان المبارک 40ھ کی فجر کی نماز میں عبدالرحمن ابن بلجم نے تلوار کے ذریعے پیٹھ پر کاری وار لگایا
اور تلوار زہر میں بچھی ہوئی تھی اس لیئے نہایت تیزی سے اس کا اثر تمام بدن میں سرایت کرگیا بالاخر 21رمضان 40ھ کو یہ فضل وکمال اور رشدوہدایت کا آفتاب اور آقا مدنی کی گود میں پلا بڑھا یہ پھول ہمیشہ کےلیئے گل ہوگیا ۔حضرت امام حسن ابن علی رض نے آپنے ہاتھ سے تجہیزوتکفین کی آپ کو کافی میں سپردخاک کیا گیا۔
67