تقسیم شروع ہوئی، بلا تفریق تقسیم۔۔۔مالکِ کل کی جانب سے اعلان ہوگیا، آؤ، آ جاؤ، تم سبھی آ جاؤ۔۔۔اپنے اپنے ڈونگے، برتن لے کر آ جاؤ، برتن کتنا بڑا ہو، کس شکل کا ہو، کتنا گہرا ہو، اس کی کوئی شرط نہیں، سوائے یہ۔۔۔کہ پاک ہو، صاف ہو۔
میں بھی مالک کل کے اس اعلان پر خوش ہوا، دل باغ باغ ہوا کہ اس بار تو اس موقع سے خوب خوب فائدہ اٹھاوں گا،اور میں خوش کیوں نہ ہوتاکہ میں سالوں، مہینوں سے برتن جمع کرتا آ رہا ہوں، سو خوش تھا کہ سبھی بھروا لوں گا کہ زندگی کے اس سفر اور اگلے سفر کے لیے زاد ِ راہ بھرپور ساتھ ہو اوراِس کی کمی کے سبب سفری مشکلات بالخصوص چیک پوسٹس اور ٹال پلازوں پر کسی مشکل، رکاوٹ یا احتساب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میں خوش تھا کہ میرے پاس برتن بھی اب بے بہا ہیں، چھوٹے، بڑے اور بہت بڑے، کئی ایک کافی گہرے پیندے والے بھی ہیں۔ اس لئے مجھے یقین تھا کہ اب کی بار تو میں اتنا زادِ راہ وصول کر پاؤں گا کہ سفر پر کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
اب جب خوشی خوشی اور اس اطمینان کے ساتھ میں اپنے برتن نکالنے کو پہنچاتو میری انگلیاں میرے منہ کو آ گئیں، میں ہزارتلاش کے باوجود ایک بھی خالی برتن نہ پاسکا۔ ۵، ۶ فٹ کایہ جسم جو یقینا صحرائی وسعت اور سمندری گہرائی کا حامل ہے،بقولِ حضرت سلطان باہُو:
دل دریا، سمندروں ڈونگھے کون دِلاں دیاں جانے ہُو
وچّے بیڑے، وچّے جھِیرے، وچّے ونجھ مُہانے ہُو
چودا ں طبق دلے دے اندر، تنبو وانگوں تانے ہُو
باوجودتلاش کے اس میں مجھے کوئی ایک خالی برتن نہ مل سکا۔ کوئی برتن نافرمانی سے بھرا ہوا تھا، کسی میں سستی تھی، کوئی غفلت سے اٹا تھا۔ اپنی اس تلاش مں مجھے ایک خالی برتن بھی مل گیا۔۔۔وہ ظرف کا برتن تھا اورتھا بھی اتنا تنگ، چھوٹا اور اسپاٹ کہ اس میں بھی اپنے حصے کی وصولی سے عاجز رہا۔
اب میری پریشانی بڑھی، روح تڑپنے لگی، میرے بدن کے اِک اِک بال اور اس کا ہر ہر عضو اِضطراب زدہ ہونے لگا، کیا کروں گا؟ کیوں کر طے کر پاؤں گا اپنا پیش رو سفر؟ چیک پوسٹس پر کیا دکھاؤں گا، ٹال پلازوں سے کراسنگ کیسے ہو سکے گی۔ اسی تذبذب میں دل کے آنگن میں ایک طرف کو نظر پڑی، وہاں چند ایک برتن رکھے تھے، ارے یہ تو کافی بڑے بڑے برتن ہیں،اِن میں تو مَیں مناسب زادِ راہ حاصل کر پاؤں گا!! میں نے خود کلامی کی۔
امید ایک بار پھر امڈ آئی تھی۔دل کے نہاں خانوں میں خوشی بھی عود آئی کہ مبادا اَب بچ جاؤں، سفر باحسن کٹ جائے،منزل حاصل ہو اور بامُراد ٹہروں مگر ایک اَنجانا خوف۔۔۔اور کیوں نہ ہوتا یہ خوف۔۔۔کہ زندگی کے اس سفر پر میں ایک لمبا سفر طے کرچکا تھا، اور اپنے تئیں کامیابی کے رستے پر تھا۔مگراِس موڑ پر ایک معمولی سا چیک درپیش ہوا تو خود کے پاس نافرمانی، سستی اور غفلت سے اَٹے برتنوں کے سوا کچھ نہ پایاسو یہ خوف فطری تھا، خیر میں اس خوف کو ایک خیال غلط کی طرح جھٹک کر آگے بڑھا کہ میرا کُل اثاثہ صرف یہی اَٹے برتن ہی تھوڑی ہیں، دل کی اُس طرف یہ جو برتن رکھے نظر آ رہے ہیں، آخر یہ بھی تو ہیں۔
اُمید اور خوف کی اِس مِلی جُلی کیفیت میں تیز مگر بوجھل قدموں کے ساتھ، مَیں ان برتنوں کی جانب بڑھا،ابھی کچھ فاصلے پر ہی تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ یہ برتن خالی ہیں، میں خوش ہونیلگا کہ اب بچ جاؤں گا، مناسب سامان سفر حاصل کر لوں گا، سفر بخیر مکمل ہو جائے گا،اورمنزل پا لوں گا، اِسی احساس کے ساتھ میں اِن برتنوں کے پاس پہنچ جاتاہوں۔۔۔اورمیں اپنے گٹھنوں پر آ رہا۔ نہیں! بل کہ گِر گیا کہ یہ بڑے بڑے برتن خالی ضرور تھے، مگر صاف نہیں تھے، پاک نہیں تھے اور ظاہر ہے کہ باری تعالیٰ کی جانب سے جاری اِ س سیل و سبیل سے فائدہ اٹھانے، اپنے برتن بھرنے کے لئے اِن کا پاک ہونا بھی ضروری تھا کہ یہ بھی ایک بنیادی شرط تھی اور مناسب بھی۔
میرے اِن بڑے بڑے برتنوں میں کسی میں نفرت تھی، کسی میں بغض تھا، کوئی کینے سے بھرا ہوا تھا، کہیں حسد سے تو کہیں تعصب۔اور کسی میں حق تلفیوں اور دل آزاریوں کی بو تھی۔ کوئی برتن بد نگاہی سے اٹا تھاتو کوئی بد زبانی سے۔کوئی بے حیائی سے بدبودار ہو رہا تھا اورکہیں خلوتوں کی گندگی تہ در تہ تھی۔
میری آنکھیں بھر آئیں،میں خالی ہاتھ ہوں، مجھے یقین ہو گیا اور ہلاکت میرے سامنے ہے۔اب میرے پَلّے یاس و ناامیدی کے سوا کچھ نہ تھا، اب مجھے خود سے گھن آ رہی تھی، پورا مہینہ رحمت کی بارش برستی رہی، انوار تواتر سے دن رات نازل ہوتے رہے، لوگ اپنے اپنے ظرف کے مطابق ان برکات کو سمیٹتے رہے، اپنے برتن بھرتے رہے۔مگر میں اپنے نفس کے شیطان کا ہی مقید رہا۔ ؎ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
میرے دل کے اندرمیرے اِ ن گندگی زدہ برتنوں کی بدبو اب مجھے انتہائی پریشان کر رہی تھی، قریب تھاکہ اِس پشیمانی اور تاسف میں مَیں اپنا کوئی اور نقصان کر لیتا کہ یکا یک میرا ذہن ”لبیک“ میں جنابِ ممتاز مفتی اور ضنابِ قدرت اللہ شہاب کے درمیان ہونے والی ایکگفتگو کی جانب چلا گیا:
”۔۔۔۔۔اور مجھے اپنے آپ سے بدبو آنے لگی۔
اب بھی آ رہی ہے، سونگھ لو چاہے تم۔
”مجھے تو نہیں آ تی“۔ قدرت نے کہا
”مجھے تو آ رہی ہے“۔
”اچھا یہ تو بہت بڑا کرم ہو گیا آپ پر“۔ قدرت نے کہا
”کیا کہا مجھے از سرِنو غصہ آ گیا“، ”کرم یا ظلم“۔
”اونہوں، بہت بڑا کرم۔ظلم نہیں ِِ۔ قدرت بولے ”اپنے آپ سے بدبو آنا۔ اپنی گندگی کا احساس ہونابہت بڑا کرم ہے۔ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں اپنے سے بو نہیں آتی۔ دوسروں سے آتی ہے۔اگر آپ کا خود سے بو آنے لگی ہے تو یہ (حطیم کا)کرم ہے“۔“
پھر یاد آیا کہ خود اُس نے بھی تو بھی کہا:
لَا تَقنَطُومِن رَّحمتہِ اللہ
خوف کو اُمید نے دامن گیر کر لیا، وہ صرف نیکو کاروں کا نہیں۔۔۔مجھ رِند کا بھی رب ہے، اُس نے تو مجھ گنہ گار کو ”اپنا بندہ“ کہ کمال شفقت اور پیار سے مخاطب کیا:
یا عِبادی!
اے میرے بندے
اَلّذِینَ اَسرَفوا
جو اپنے آپ پر زیادتی کر چکے ہو۔
لَا تَقنَطُومِن رَّحمتہِ اللہ
میری رحمت سے مایوس نہ ہونا۔
اِس یاد کے آتے ہی میں نے ہمّت کی، ڈرتے ڈرتے اور لرزتے، کانپتے بدن کے ساتھ تیز قدموں کے ساتھ مسجد کی جانب چلا، گویا دوڑ لگا دی، مالک! میں آ گیا ہوں، اتنے لمبے سفر کے بعد بھی خالی ہاتھ۔ مَولا! میرے پَلّے کچھ نہیں، پر جاؤں تو کہاں جاؤں، تیرے دَر کے سِوا کوئی اُمید کی جا بھی تو نہیں
مالک! مَیں نے اپنی گردن تیرے سامنے جھکا دی ہے، اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دیا ہے۔ مَولا! میری کل متاع اپنے خالی ہونے، اور تیری بڑائی، تیری ربوبیّت کا احساس اور یہ سجدہ ہے:
یا رب العالمین!
یا رَبِّ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم!
یا غفور!
یا ارحم الرٰحمین!
الھم اِنّک عفوُُتُحِبُّ العَفوَ فاعفُ عَنِّی
اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ پس مجھے بھی معاف فرما۔
201