115

دعا امید کا راستہ/صدف جاوید

دعا امید کا راستہ/تحریر/صدف جاوید/کراچی
انسان اپنی زیست کو سنوارنے اور بہتر طرز زندگی کے لیے کئی تدبیریں کرتا ہے، لیکن اگر مقدر ہی ساتھ نہ دے تو تمام عمر کی تدابیر بھی رائیگاں ہے،کیونکہ لوح محفوظ میں جو کچھ ہمارے مقدر لکھ دیا گیا ہے، وہ اٹل ہے ۔بدل نہیں سکتا ۔
مگر ہم اس میں کچھ تبدیلی کے خواہاں ہیں تو اس کےلیے ذات بااختیار نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے ہمیں ایک تدبیر بتائی ہے ۔اس تدبیر تک پہچنے کا رستہ بھی مالک تقدیر نے ہی دیا ہے ۔جس پر چلتے ہوئے قدم دین کے ستون تک پہنچے ۔ستون دین کو قائم کیا تو یہ معلوم ہوا کہ وہ تدبیر عبادت کے جوہر میں پوشیدہ ہے ۔جس کے ذریعے دربار الہی میں درخواست داخل کی جا سکتی ہے ۔داخل عرضی کے اس عمل کا نام “دعا ” ہے ۔
دنیا کے تمام مذاہب میں دعا کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ہندو کی پراتھنا ہو یا عیسائیوں کی چرچ سروس، یہودیوں کا دیوار گریہ سے لگ کر آہ و زاری کرنا یا ارواح پرستوں کا اپنے بزرگوں کی روحوں سے مدد مانگنا، ان سب کی عبادت دعا پر ہی ختم ہوتی ہے ۔
دنیا میں بسنے والے 8ارب سے زیادہ انسانوں کی مانگے جانے والی دعائیں جو ایک دوسرے سے بالکل جدا اور متضاد ہیں ۔
گرمی کی شدت سے بےتاب شہری بارش کی دعا کر رہا ہے تو اس کے برعکس کسان اپنی تیار فصل کو محفوظ رکھنے کے لیے برسات نہ ہونے کی دعا مانگتا ہے ۔اگر رب العالمین سب کی دعاءوں کو سند قبولیت بخش دے تو دنیا کا نظام اور روز مرہ کی زندگی سب درہم برہم ہو کر انتشار و ابتری کا شکار ہو جائے گی ۔
یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری دعائیں مقبول نہیں ہو رہیں ہیں اور ناامید ہو کر ہم دعا مانگنا چھوڑ دیتے ہیں ۔
دعائیں مشیت ایزدی کے نظام میں تبدیلی نہیں لا سکتیں مگر امید کے دروازے کھولتی ہیں ۔اسی لیے بحیثیت مسلم ہمیں اپنی دعاؤں کی قبولیت کا یقین ہونا چاہیے ۔
حدیث نبوی ہے کہ
“اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے دعا کرو ۔اللہ تعالی بے پروا اور غافل دل سے نکلی ہوئی دعا قبول نہیں کرتا ۔
(ترمذی )
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ
“مجھے دعا قبول ہونے کی فکر نہیں ہے ۔فکر صرف دعا مانگنے کی ہے ۔جب مجھے دعا مانگنے کی توفیق ہو گئی تو قبولیت بھی اس کے ساتھ حاصل ہو جائے گی ۔”
بزرگان دین کے عمل سے یہ ثابت ہوا کہ انسان کا کام دعا مانگتے رہنا ہے، باقی رب العالمین کی منشاء پر منحصر ہے ۔اس نے اپنے در سے کسی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا ۔
انسانی عقل و فراست میں وہ نگاہ بصیرت نہیں جو حکمت الہی کا ادراک کرسکیں ۔
بظاہر مقبول نہ ہونے والی ہماری دعائیں حیات ابدی کے لیے محفوظ کر لی جاتی ہیں ۔لیکن اس کے ثمرات دوسری صورت میں دنیاوی زندگی میں بھی ملتے ہیں ۔اسی لیے دعا مانگتے رہنا چاہیے،کیونکہ اسے ترک کرنا آفتوں اور پریشانیوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
“دعا ” کی اہمیت و فضیلت کے پیش نظر قرآن مجید میں متعدد بار اس کی تاکید کی گئی ہے ۔
“اور اے رسول! جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو بتا دیجئے کہ میں ان سے قریب ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو اس کی دعا قبول کرتا ہوں، لہذا انہیں میری دعوت قبول کرنی چاہیے اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ راہ راست پر چلیں۔”
(سورہ البقرہ آیت 184)
آئیے! دعا کریں اس ذات واحد سے جو عبادت کا تنہا حقدار ہے، جس کے پاس حاجت روائی و مشکل کشائی کا سارا اختیار ہے ۔چونکہ اللہ تعالی کی بابرکت و مطہر ہستی زیادہ توبہ کرنے والے اور پاک صاف رہنے والے بندوں کو محبوب رکھتی ہے ۔اسی لیے وقت دعا ظاہری آداب طہارت و پاکیزگی کا پورا اہتمام کریں ۔قلب و ذہن کو بھی پاک خیالات و جذبات سے مزین رکھیں ۔
رب سے وہی کچھ مانگیں جو پاک و حلال ہو ۔حرام اور ناجائز خواہشوں اور کاموں کے لیے اللہ تعالی کے سامنے ہاتھ پھیلانا انتہائی درجے کی بے حیائی، گستاخی و بے ادبی اور شان خداوندی کی سراسر توہین ہے ۔خدا تعالی کی طرف سے ازلی طور پر طے فرما دی گئی باتوں کے لیے بھی دعا کرنا لا حاصل ہے ۔
جیسے کوئی کالا گورا ہونے کی دعا کرے یا کوئی ہمیشہ جوان رہنے کی دعا مانگے ۔ایسی دعائیں بارگاہ رب میں پہچنے سے پہلے ہی رد کر دی جاتی ہیں
لہذا عاجزی و زاری سے اپنی ضرورتوں اور نیک خواہشوں کی درخواست باری تعالی کے حضور اچھے کردار، گہرے اخلاص اور پاکیزہ جذبات کے ساتھ پیش کریں ۔
ارشاد باری تعالی ہے کہ
“ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک اسی طرف رکھو اور اسی کو پکارو، اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے ۔”
(سورہ اعراف آیت 29)
لوازم دعا کے ساتھ اس نیت سے مانگیں کہ پروردگار نے مانگنے کی توفیق دی ۔پہلے اپنے لیے پھر دوسروں کے لیے دعا کریں، یہی سنت الانبیاء ہے ۔
“اے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی ۔پروردگار میری دعا قبول فرما اور میرے والدین اور سارے مسلمانوں کو اس دن معاف فرما دے جبکہ حساب قائم ہوگا ۔”
(سورہ ابراہیم )
اللہ تعالی کا ذکر کرنے اور دعا مانگنے کے لیے وقت کی قید نہیں ۔سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کام کاج کے دوران ہر آن ہر گھڑی دعا مانگتے رہیں ۔البتہ کچھ مخصوص حالات اور خاص اوقات ایسے ہیں جن میں دعائیں خصوصیت کے ساتھ شرف قبولیت پاتی ہیں ۔
رمضان المبارک اللہ تعالی کا ماہ بابرکت جس میں وہ اپنی شفقتوں اور رحمتوں کا نزول خاص فرماتے ہیں ۔خطاءوں کی بخشش ملتی ہے اور دعا مقبول ہوتی ہے ۔
آئیے! اس ماہ مقدس کے روح پرور ایام میں وقت سحر و افطار، خلوت تہجد کے لمحات، حالت سجدہ و شب قدر کی پرکیف ساعات میں اپنے رب کی رحمتوں اور نوازشوں کے طلبگار ہوں ۔
ان لمحات میں اپنے لیے اور اپنے پیاروں کے لیے عافیت مانگ لیں ۔چمن کی ہریالی کے لیے شادابیت و سکینت کی دعا کریں ۔دین و ملت کی سر بلندی کے لیے جزا مانگیں ۔
دعا امید کا راستہ ہے، جس کے ذریعے گناہوں کے سارے داغ دھو کر مقدر سنوارا جا سکتا ہے ۔اس سے پہلے کہ رحمت خداوندی کہ یہ خاص پل رخصت ہو جائیں، آءو!دعا کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں