69

دوسروں پر بھروسہ مت کریں/مصنفہ/نمرہ امین (لاہور)

انسان کی نیت تو پل بھر میں بدل جاتی ہے وہ اپنے مطلب اور لالچ میں آ کر دوسروں کا بھروسہ، یقین امید سب توڑ دیتا ہے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن واحد اللہ کی ذات ہے جو اپنے بندوں کو تھام لیتا ہے ان کی آس، امید کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا ان کی دعائیں قبول کرتا ہے تو کیوں نا ہم صرف اپنے اللہ پر سچے دل سے یقین اعتماد اور بھروسہ کریں اور اسی سے مدد طلب کرتے رہیں۔ بے شک ! “وہ بہترین سے ہمیں نوازتا ہے۔” دعائیں تو تقدیر کو بدل دیتی ہیں تو کیوں نا ہم اللہ سے دعائیں مانگتے رہیں اس امید کے ساتھ کہ ہمارا رب ہمیں بہتر وقت میں بہترین سے بہترین نوازے گا۔

انسان اس معاملے میں بہت جذباتی، حساس اور لاپرواہ ہوجاتا ہے کہ ہر ایک پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنے لگ جاتا ہے۔ اس کا دل اتنا نرم ہوتا ہے کہ وہ سب کی بنائی ہوئی باتوں پر اس حد تک یقین کرتا ہے کہ اس کے بچھائے ہوئے ہر جال میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ اس کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیسے اس انسان پر اندھا اعتماد و بھروسہ کر رہا ہے اور وہ کس دلدل میں گر رہا ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں ہوتا اور اگر بد قسمتی سے نکل بھی جائے تو کس طرح اس کے یقین اور بھروسے کو ٹھیس پہنچتی ہے. اس کا نازک دل کانچ کی طرح ٹوٹ کے بکھر جاتا ہے۔ اس کی ہر امید ٹوٹ جاتی ہے جس امید سے اس نے کسی پر یقین اور بھروسہ کیا تھا۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ اگر اس پر کوئی بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کے بھروسہ کرنے کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور اس سے اپنے مفاد اور مطلب پورا کرنے کے لیے تب تک ساتھ رہتا ہے جب اسے اپنا وہ مقام نہ مل جائے جس کے حصول کے لیے وہ ایک پر اعتماد انسان کا یقین توڑ رہا ہے۔ جو اس پر بہت بھروسہ کرتا ہے۔
لیکن اس بات سے اپنے پرائے کی پہچان واضح طور پر دکھائی دیتی ہے کہ کون سچ، جھوٹ کے سہارے ایک دوسرے کا ساتھ دے رہا ہے اور لوگوں کے بھروسے کا مان رکھ رہا ہے۔ ہر بات سے پردہ اٹھ جاتا ہے اور سب عیاں ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی اس قابل ہے بھی یا نہیں جو کسی پر اندھا اعتماد یقین و بھروسہ کیا جا سکے اور وہ اس بھروسے یقین کی لاج رکھ سکے۔ انسان دنیا داری میں اتنا مصروف ہے کہ بس لوگوں سے اتنی امیدیں وابستہ کر لیتا ہے اور ایسے ان پر بھروسہ کرتا ہے جیسے سب کچھ اس کو انہی انسانوں سے مل جانا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ہمارا رب ہے جو پوری کائنات کا مالک ہے۔ اسی نے یہ دنیا بنائی ہے اور اسی سے ہر امید کر کے دعائیں کر کے انسان نے اپنی دنیا و آخرت سنوارنی ہے۔ وہ لوگوں سے امیدیں لگا کر اس پاک ذات کو ہی بھولے بیٹھا ہے کہ اللہ پاک سے دعائیں کر کے مجھے سکون و اطمینان اور خوشیوں والی زندگی مل سکتی ہے۔
انسان کی نیت تو پل بھر میں بدل جاتی ہے وہ اپنے مطلب اور لالچ میں آ کر دوسروں کا بھروسہ، یقین امید سب توڑ دیتا ہے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن واحد اللہ کی ذات ہے جو اپنے بندوں کو تھام لیتا ہے ان کی آس، امید کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا ان کی دعائیں قبول کرتا ہے تو کیوں نا ہم صرف اپنے اللہ پر سچے دل سے یقین اعتماد اور بھروسہ کریں اور اسی سے مدد طلب کرتے رہیں۔ بے شک ! “وہ بہترین سے ہمیں نوازتا ہے۔” دعائیں تو تقدیر کو بدل دیتی ہیں تو کیوں نا ہم اللہ سے دعائیں مانگتے رہیں اس امید کے ساتھ کہ ہمارا رب ہمیں بہتر وقت میں بہترین سے بہترین نوازے گا۔
لوگوں سے امیدیں کر کے بھروسہ کر کے دل ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ انسان خود کو کمزور اور بے بس محسوس کرتا ہے۔ اس میں وہ طاقت نہیں رہتی کہ دوبارہ کسی پر بھروسہ کر سکے۔ اس کی ہمت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا وجود ختم ہونے کو ہوتا ہے۔ لیکن اللہ پر یقین بھروسہ اور امید ایک انسان میں زندگی جینے کی امنگ پیدا کرتا ہے اور صحیح راستہ دیکھاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں