پہلے جمیعت علمائے اسلام کے رہنماء حافظ حمد اللّٰه صاحب پر حملہ، کچھ دن قبل مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب کی شھادت، کل ولادتِ مصطفیٰ کی ریلی میں بلاسٹنگ، کبھی دیوبندی، کبھی بریلوی تو کبھی اھلِ حدیث، ہر بار سنیت ہی کیوں دھشتگردی کا شکار ہوتی ہے ہر دوسرے تیسرے دن خبر آتی ہے کہ آج فلاں محفل میں، فلاں پروگرام میں دھماکہ ہوگیا فلاں عالم دین شھید ہوگئے مگر ہم ابھی بھی آپس کے اختلافات اور ایک دوسروں کے اوپر فتوے لگانے سے باز نہیں آرہے، جب کہ ہم اللّٰه پر، جناب نبی اکرم ﷺ پر، صحابہ کرامؓ پر، اھل بیت اطہارؓ پر، ہم سب مسلمانوں کا اتفاق ہے اور یہ سب ہمارے ایمان کا حصہ ہیں!سب سے بڑی چیز جو دشمن کے لیے مفید ثابت ہورہی ہے وہ ہیں ہمارے آپس کے اختلافات. مثلاً: (حاضِر ناظِر کا اختلاف، نور و بشر کا اختلاف، علم الغیب کا اختلاف، رفع الیدین کا اختلاف، مقلد غیر مقلد کا اختلاف، ایک دوسروں کو گستاخ، مشرک، بدعتی اور وہابی جیسے القابات سے پکارنا وغیرہ وغیرہ) ان سب چیزوں ہی کی وجہ سے دشمن کو کھل کر موقعہ مل رہا ہے حملے کرنے کا اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب کو اِن تمام آپس کے اختلافات سے نِکل کر اب ایک ہونا ہوگا ورنہ اسی طرح اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے اور دفناتے اور چیختے چلاتے رہیں گے اور دشمن ہم پر غالب آجائیں گے_!!ابھی بھی وقت ہے تھوڑا نہیں بلکہ پورا سوچیں…
83
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل