اکثر اوقات کیا بلکہ عموما ہی یہ بات سنی سمجھی
اور کہی جاتی ہے کہ چھوٹے ہمیشہ بڑوں سے سیکھتے ہیں اور یہ بات قابل قبول بھی ہے کیونکہ یہی سچ ہے اب یہ بات کہاں پر اور کس کس پر صادق آتی ہے ہر ایک کا اپنا اپنا تجربہ اور تجزیہ ہے۔ فی الحال میرے ذہن میں یہ بات دو چار دن پہلے آنے والی اس خبر سے آئی۔ ایف آئی اے امیگریشن کی ملتان ایئرپورٹ پر بڑی کاروائی، عمرے کی آڑ میں سعودی عرب جانے والے بھکاریوں کے گروہ کو آف لوڈ کر دیا۔
امیگریشن کے دوران معلوم ہوا کہ مسافر بھیک مانگنے کے لیے عمرہ ویزہ پر سعودی عربیہ جا رہے تھے اور دوران تفتیش مسافروں نے انکشاف کیا کہ وہ ایجنٹوں کی ملی بھگت سے سعودی عریبیہ جا رہے تھے جہاں انہیں پاکستانی ایجنٹوں نے وصول کرنا تھا۔ ان مسافروں میں پانچ مرد تین خواتین اور بچے شامل تھے۔ان مسافروں نے مزید انکشاف کیا کہ بھیک سے حاصل کردہ ادھی رقم ایجنٹ کے حوالے کرنا تھی۔ عمرہ ویزہ مدت پوری ہونے کے بعد مسافروں نے واپس پاکستان انا تھا۔
اب اس سارے واقعہ سے بہت سی باتیں دماغ میں گڑ مڈ ہو رہی ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کس بات کا سرا کہاں سے پکڑے اور کس سے ملائیں؟
ویسے اپ لوگوں کے ذہن میں کوئی سوال نہیں آیا اس بات سے۔
خیر مجھے تو پہلا خیال یہی ایا کہ کوئی بات نہیں یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے پاکستان سے اور بھی بہت سارے بڑے بڑے با اختیار باعزت بڑے سوٹ بوٹ والے اور بڑی پر وقار شخصیت و حیثیت رکھنے والے بھی تو جاتے ہیں امداد لینے، انہوں نے بھی یہی کیا بس تھوڑا سا فرق ہے وہ حلیے سے مانگنے والے نہیں لگتے اور بھیک کا متبادل لفظ امداد استعمال کرتے ہیں اور یہ بیچارے بس حلیے سے مانگنے والے لگ رہے تھے اس لیے پکڑے گئے، نہیں تو ان کی کوئی خاص غلطی مجھے نظر نہیں آتی۔ پچھلے پہچترسالوں سے جو وہ دیکھ رہے تھے سیکھ رہے تھے بس انہوں نے وہی کیا۔ بس انہیں لگا وہ بھی اپنے گھر کے بال بچوں کو اسی طرح سنبھال سکتے ہیں مانگ کر چاہے وہ بھیک کے نام پر ہو یا امداد کے نام پر،کیونکہ یہ بات تو ثابت شدہ ہے کہ بہت سی چیزیں وراثت سے ملتی ہیں جس میں سوچ، خداری، بے ایمانی، ناانصافی، خودغرضی، اگر تھوڑا سا دماغ کی کھڑکیوں کو کھول کر دیکھیں تو 75 سالوں میں یہ منتقل تو ہونا تھا۔بس وہ بیچارے کسی غلط فہمی میں مارے گئے ایک تو یہ کہ اگر ہم پکڑے گئے تو کیا ہوگا ہمیں کون سی کھانسی ہو جائے گی اصل مجرم تو کوئی اور ہے یعنی ایجنٹ وغیرہ،انہی سے پوچھا جائے گا اور دوسری یہ کہ انہیں جدید طریقہ برائے امداد و بھیک معلوم نہیں تھا کہ اس کے لیے تھوڑا حلیے لباس، انداز، اور نقل و حرکت کے طریقے بھی اپنانے پڑتے ہیں۔
بہرحال اس سارے واقعہ سے یہ سب دماغ میں آنا معاشرے کے ظلم اور ناانصافی میں لپٹنے والے اس طبقے کی تلخی کی وجہ سے تھا۔ لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی تہذیب و اقدار یہی سکھاتی ہیں کیا، جان جائے پرعزت نہ جائے ہمارے گھروں میں کوئی بات ہو جائے تو اس گھر کی عزت بچانے کے لیے ہم کچھ بھی کرتے ہیں تو یہ جو اس طرح کے واقعات سے ہماری انٹرنیشنل عزت افزائی ہو رہی ہے اس بارے میں کیا خیال ہے، کیا یہ ملک یہ پاکستان ہماری عزت نہیں اس کے نام سے ہمارا نام نہیں ہے؟ اس کی عزت سے ہماری عزت نہیں ہے؟اگر ہے تو پھر ذمہ دار کون ہے؟ کون مداوا کرے گا اس سب کا؟ اور یہ سب کیوں؟اور یہ سب کون سوچے گا؟اور کب سوچے گا؟
یہ میرا یا چند لوگوں کے سوچنے کی نہیں اب ہم سب کو اس کے بارے میں سوچنا پڑے گا کیونکہ سعودیہ کے علاوہ ایران اور بحرین والوں نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ ہماری جیلیں بھر گئی ہیں پاکستان بھکاریوں سے۔
سوچیے گا ضرور اگر خود کو زندہ و جاوید قوم اور خوددار قوموں میں تصور کرتے ہیں تو۔
کیونکہ یہ واقعہ صرف اس سب کو ہی نہیں بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے نا انصافی، بے روزگاری، طبقاتی تقسیم، ظلم، بے روزگاری،بھوک، تعلیمی پسماندگی، اور ان سب کی وجہ سے ذہنی طور پر بیمارقوم، اور یہ چیزیں آگے چل کر کہیں ہماری نسلوں کو بھکاری ہی نہ بنا دے
امیگریشن کے دوران معلوم ہوا کہ مسافر بھیک مانگنے کے لیے عمرہ ویزہ پر سعودی عربیہ جا رہے تھے اور دوران تفتیش مسافروں نے انکشاف کیا کہ وہ ایجنٹوں کی ملی بھگت سے سعودی عریبیہ جا رہے تھے جہاں انہیں پاکستانی ایجنٹوں نے وصول کرنا تھا۔ ان مسافروں میں پانچ مرد تین خواتین اور بچے شامل تھے۔ان مسافروں نے مزید انکشاف کیا کہ بھیک سے حاصل کردہ ادھی رقم ایجنٹ کے حوالے کرنا تھی۔ عمرہ ویزہ مدت پوری ہونے کے بعد مسافروں نے واپس پاکستان انا تھا۔
اب اس سارے واقعہ سے بہت سی باتیں دماغ میں گڑ مڈ ہو رہی ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کس بات کا سرا کہاں سے پکڑے اور کس سے ملائیں؟
ویسے اپ لوگوں کے ذہن میں کوئی سوال نہیں آیا اس بات سے۔
خیر مجھے تو پہلا خیال یہی ایا کہ کوئی بات نہیں یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے پاکستان سے اور بھی بہت سارے بڑے بڑے با اختیار باعزت بڑے سوٹ بوٹ والے اور بڑی پر وقار شخصیت و حیثیت رکھنے والے بھی تو جاتے ہیں امداد لینے، انہوں نے بھی یہی کیا بس تھوڑا سا فرق ہے وہ حلیے سے مانگنے والے نہیں لگتے اور بھیک کا متبادل لفظ امداد استعمال کرتے ہیں اور یہ بیچارے بس حلیے سے مانگنے والے لگ رہے تھے اس لیے پکڑے گئے، نہیں تو ان کی کوئی خاص غلطی مجھے نظر نہیں آتی۔ پچھلے پہچترسالوں سے جو وہ دیکھ رہے تھے سیکھ رہے تھے بس انہوں نے وہی کیا۔ بس انہیں لگا وہ بھی اپنے گھر کے بال بچوں کو اسی طرح سنبھال سکتے ہیں مانگ کر چاہے وہ بھیک کے نام پر ہو یا امداد کے نام پر،کیونکہ یہ بات تو ثابت شدہ ہے کہ بہت سی چیزیں وراثت سے ملتی ہیں جس میں سوچ، خداری، بے ایمانی، ناانصافی، خودغرضی، اگر تھوڑا سا دماغ کی کھڑکیوں کو کھول کر دیکھیں تو 75 سالوں میں یہ منتقل تو ہونا تھا۔بس وہ بیچارے کسی غلط فہمی میں مارے گئے ایک تو یہ کہ اگر ہم پکڑے گئے تو کیا ہوگا ہمیں کون سی کھانسی ہو جائے گی اصل مجرم تو کوئی اور ہے یعنی ایجنٹ وغیرہ،انہی سے پوچھا جائے گا اور دوسری یہ کہ انہیں جدید طریقہ برائے امداد و بھیک معلوم نہیں تھا کہ اس کے لیے تھوڑا حلیے لباس، انداز، اور نقل و حرکت کے طریقے بھی اپنانے پڑتے ہیں۔
بہرحال اس سارے واقعہ سے یہ سب دماغ میں آنا معاشرے کے ظلم اور ناانصافی میں لپٹنے والے اس طبقے کی تلخی کی وجہ سے تھا۔ لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی تہذیب و اقدار یہی سکھاتی ہیں کیا، جان جائے پرعزت نہ جائے ہمارے گھروں میں کوئی بات ہو جائے تو اس گھر کی عزت بچانے کے لیے ہم کچھ بھی کرتے ہیں تو یہ جو اس طرح کے واقعات سے ہماری انٹرنیشنل عزت افزائی ہو رہی ہے اس بارے میں کیا خیال ہے، کیا یہ ملک یہ پاکستان ہماری عزت نہیں اس کے نام سے ہمارا نام نہیں ہے؟ اس کی عزت سے ہماری عزت نہیں ہے؟اگر ہے تو پھر ذمہ دار کون ہے؟ کون مداوا کرے گا اس سب کا؟ اور یہ سب کیوں؟اور یہ سب کون سوچے گا؟اور کب سوچے گا؟
یہ میرا یا چند لوگوں کے سوچنے کی نہیں اب ہم سب کو اس کے بارے میں سوچنا پڑے گا کیونکہ سعودیہ کے علاوہ ایران اور بحرین والوں نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ ہماری جیلیں بھر گئی ہیں پاکستان بھکاریوں سے۔
سوچیے گا ضرور اگر خود کو زندہ و جاوید قوم اور خوددار قوموں میں تصور کرتے ہیں تو۔
کیونکہ یہ واقعہ صرف اس سب کو ہی نہیں بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے نا انصافی، بے روزگاری، طبقاتی تقسیم، ظلم، بے روزگاری،بھوک، تعلیمی پسماندگی، اور ان سب کی وجہ سے ذہنی طور پر بیمارقوم، اور یہ چیزیں آگے چل کر کہیں ہماری نسلوں کو بھکاری ہی نہ بنا دے