69

رجوع الی اللہ/تحریر/عثمان غنی رانا

یہ کوٸی دس سال پہلے کی بات ہے۔ ایک صاحب سے اکثر فجر کی نماز کے بعد دوران واک ملاقات ہوتی تھی۔ وہ کبھی کبھار ہماری مسجد میں نماز پڑھنے بھی آتے تھے، انکا نام اے جے بلوچ صاحب تھا، وہ محکمہ آبپاشی میں اعلیٰ عہدےپر فاٸز تھے، پہلے کچھ عرصہ تو فقط گزرتے ہوۓ سلام کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ایک صبح ہمارے واک والے راستے کے گرد پانی جمع تھا کیونکہ رات کو اچھی خاصی بارش ہوچکی تھی۔ تو میں اپنے خیال میں مگن چلتا جارہاتھا۔ اچانک ایک تیز رفتار کار میرے ساتھ گزری، اچانک بریکوں کے چرچراہٹ کی آواز آٸی، میں نے پلٹ کر دیکھا بلوچ صاحب کیچڑ میں لت پت کھڑے ہیں، کار والا انہیں کراس کرتے ہوۓ کیچڑ زدہ کرگیا تھا۔ میں پلٹ کر واپس ان کےپاس آیا۔انکا چہرہ، عینک، پینٹ شرٹ سب کچھ گندے پانی سے تر با تر تھے۔ وہ بالکل مبہوت دکھاٸی دیے، بالکل ساکت بت بنے کھڑے تھے۔ اتفاق سے اس دن میرے کندھے پر رومال تھا۔ جو کبھی کبھی میں سر پر باندھ کر نماز کیلیے جاتاتھا۔میں نے وہ اتارا بلوچ صاحب کو دیا، انہوں نے تردد کیا تو میں نے آگے بڑھ کر انکا چہرہ صاف کردیا اور عینک بھی صاف کردی۔پھر ہم دونوں قدرے فاصلے پر موجود پانی کے نلکوں پر گٸے۔ میں نے نلکا چلایا اور انہوں نے منہ ہاتھ دھوۓ ،پھرانہوں نے شرٹ نکال کے دھوٸی اور نچوڑکرپہن لی۔ پھر میں نے اپنا رومال دھو لیا۔ اس دوران تقریباً دس منٹ لگے۔ میں نے نوٹ کیا بلوچ صاحب بالکل خاموش رہے انہوں نے کوٸی بات نہیں کی۔ لیکن ایک ہلکی سی غیر نمایاں قسم کی مسکراہٹ انکے چہرے پر تھی۔ اس سے قبل جب بھی انہیں دیکھا بڑا سپاٹ چہرہ ہوتا تھا، لیکن اب وہ ایسے دکھاٸی دیتاتھا جیسے مسکراہٹ کو بزور روکے ہوٸے ہیں۔خیر جب ہم صفاٸی ستھراٸی سے فارغ ہوۓ تو میں نے انہیں سلام کیا اور چل پڑا۔ میں ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ بلوچ صاحب کی آواز آٸی” مولوی صاحب ناشتہ میرے ساتھ کرلیں“میں نے پلٹ کر انہیں معزرت کی اور پھر کبھی کا مل بیٹھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ وہ بولے” دعوت قبول کرنے کے بارے میں کیا ارشاد نبوی وارد ہے آپ نے پڑھا ہی ہوگا“اب میرے ذہن میں نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ کامفہوم جاری ہوگیا۔ حدیث مبارکہ نقل کردیتاہوںحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ،پوچھا گیا، اے اللہ کے رسول ﷺوہ کون سے حقوق ہیں،آپ نے فرمایا: جب تم کسی مسلمان سے ملو، تو اس کو سلام کرو، جب وہ تم کو دعوت دے، تو اس کی دعوت قبول کرو،جب وہ تم سے نصیحت (خیرخواہی،مشورہ )طلب کرے ،تو اس کو اچھی نصیحت (خیرخواہی کا معاملہ )کرو،(صحیح ومناسب مشورہ دو)جب وہ چھینک کے بعد ا لحمدللہ کہے ،تو اس کی چھینک کے جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہواور جب وہ بیمار ہوجائے ،تو اس کی عیادت کرواور جب وہ فوت ہوجائے ،تو اس کی نماز ِجنازہ میں شرکت کرو۔چنانچہ حدیث پاک حکم کے مطابق دعوت قبول کرتے ہوۓ میں انکے ساتھ چل پڑا۔ میں نے کہا”محترم اپنا تعارف توکرواٸیں“وہ میرے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوۓ بولے” اے جے بلوچ، میرا مطلب ہے عبدالجبار بلوچ، ناٸس ٹو میٹ یو، می فرام ڈیرہ غازی اینڈ یو پلیز؟“میں نے اپنا نام بتایا۔ یونہی ہم تبادلہ احوال کرتے کچھ دیر چلنےکے بعد ہم انکے گھر پہنچ گٸے۔انکا باورچی ناشتہ لے آیا۔ میں نے پوچھا” بلوچ صاحب جب میں آپ کیچڑ سے لت پت ہونے کے بعد مسکراتے کیوں رہے تھے؟“بلوچ صاحب کھلکھلا کر ہنس پڑے اور بولے” میں دل ہی دل میں دعا کررہاتھا کہ آپ یہ سوال نہ پوچھیں لیکن آخر آپ کی آنکھیں بڑی عقابی ہیں میں بچ نہیں پایا، بات دراصل یہ ہے کہ مجھے مولویوں سے سخت چڑھ تھی، بالخصوص تبلیغ والوں سے تو میں بالکل دیکھ نہیں سکتاتھا، رات کو عشا کی نماز کے بعد آپ فضاٸل اعمال پڑھ رہے تھے، میں دیرسے پہنچا تھا، اسلیے مجھے آپ سے نفرت ہوگٸی کہ یہ بھی کوٸی تبلیغی ہے، میں نے بھی جماعت میں وقت لگایا ہوا ہے، 1984 میں چار ماہ لگاۓ تھے، لیکن بعد میں پھر کبھی اس طرف نہیں گیا، اب میرا نظریہ تبلیغ والوں کے بارے یہ ہے کہ یہ لوگ بس فضاٸل اعمال کو ہی پورا دین سمجھتے ہیں قرآن کریم سے انکاکوٸی تعلق نہیں۔ آج صبح جب میں نے آپکو سامنے جاتے ہوۓ دیکھاتو میں دل ہی دل بہت برا بھلا کہہ رہاتھا، ایک دفعہ تو ایسے سخت جملے میری زبان سے نکلنےلگے کہ اب سوچ کر بھی شرم آرہی ہے، ابھی میں یہ سوچ ہی رہاتھا کہ گاڑی نے جھول کھاٸی اور ساراکیچڑ مجھ پر گرا گٸی۔اس وقت مجھ پر واضح ہوگیا، میں مولویں سے تبلیغ والوں سے جو نفرت یا بغض رکھ رہاہوں وہ غلط ہے، مجھے اصلاح کی ضرورت ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے پیغام اسکے اشارے کو دیکھ کر مسکرا رہاتھا، اور مجھے کہنا نہیں چاہیے کہیں خوشامد نہ بن جاۓ، جب آپ نے اپنا سفید دودھ جیسے رومال سے میرا کیچڑ صاف کیا تو بخدا میرے تن کا کیچڑ تو صاف ہوا میرے من کا کیچڑ بھی صاف ہوگیا، مجھ پر حقیقت کھل گٸی کہ ایسا جزبہ ایسی قربانی اور احساس فقط یا تو نیک والدین کی تربیت ہوسکتی ہےیا پھر نیک لوگوں کی صحبت کا اثر ہوسکتاہے، میں نے اس وقت سے من ہی من میں توبہ کررہاہوں اپنے اللہ کو منانے کی کوشش کررہاہوں“بلوچ صاحب یہ کہہ کر خاموش ہوگٸے۔ میرے آنسو زاروقطار شروع ہوگٸے کہ میرا جیسا ناکارہ شخص کی وجہ سےکوٸی رجوع الی اللہ پر آمادہ ہوگیا۔ حالانکہ میں کوٸی باقاعدہ تبلیغی نہیں تھا بلکہ کبھی کبھی تبلیغی ایکٹویٹی میں شامل ہوجایا کرتاتھا۔بہرحال ہم دونوں کافی دیر ایک خاص کیفیت کا شکار رہے۔ اس دن کے بعد میری ان سے بے شمار ملاقاتیں رہیں۔ وہ بہت صاحب مطالعہ شخصیت تھے۔انکے مزید تین عجیب واقعات پھر نقل کرونگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں