133

ریاست مدینہ ثانی/تحریر/جویریہ شفاعت

دستور ہے کہ ظلمت شب کے اندھیرے میں بھی طلوع آفتاب ہونے کی امید انسان کو جینے کی امنگ دیتی ہے …. ہر اندھیرے میں روشنی کی کرن نمودار ہوتی ہے … ایسے ہی 1857کی جنگ ازادی میں شکست کے بعد مسلمانوں کو جب اپنے لیے اندھیرا دکھای دے رہا تھا تو زبوں حالی کا شکار مسلمانوں میں امید کی کرن جگمگائ ..دوقومی نظریہ کی بنیاد پہ علحیدہ وطن کا خواب آنکھوں میں سج گیا اور برصغیر کی گلیوں میں لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پہ علحیدہ وطن کے لیے نعرے لگنے لگے … یہ نعرے فقط خوشنما نعرے نہیں تھے بلکہ یہ ہر دل مومن کی تڑپ تھی .. یہ نعرے کفر کے خلاف اسلام کے لیے تھے ….علحیدہ وطن کا تقاضا صرف زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں لگایا جا رہا تھا بلکہ اسلام کے اصولوں کو آزمانے کے لیے لگایا جا رہا تھا کہ بقول قائد : ہمارا مقصد فقط زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا ہے جہاں اسلام کے اصولوں کو آزمایا جا سکے ” دل اخلاص سے لبریز تھے تو محنت میں بھی کوی کمی نہ تھی محمد علی جناح جیسا عظیم رہبر رہنما موجود تھا اور عوام ایک قوم بنی تھی تو اللہ کی مدد ہمقدم ہوی برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے خواب کی تعبیر بہت جلد پالی…..پاکستان کے وجود میں آتے ہی مشکلات و مسائل کے نیے دور کا آغار ہوا برصغیر کی غیر منصفانہ تقسیم . ناکافی سازوسامان .. لٹے پھٹے قافلوں کی آمد اور ایسے کئ مسائل تھے جنکی وجہ سے سمجھا گیا کہ پاکستان اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکے گا مگر ان سب کے باوجود پاکستان ناصرف قائم رہا بلکہ بہت جلد ایٹمی پاور بن گیا اور مسائل پہ کسی حد تک قابو پایا جا سکا .. مگر دشمنان دین وملت نے پاکستان کو ہر طور پہ الجھاے رکھنے کی کوشش جاری رکھی …. مزید ستم ظریفی یہ ہوی کہ قائداعظم قیام پاکستان کے بعد جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیے اور مفاد پسند عنا صر اپنے مفادات کی تکمیل میں لگ گیے جبکہ اسلام کے نام پہ بنی اسلامی ریاست کے گرد کفر کا گھیرا تنگ ہونے لگا…پاکستان کو کبھی فرقہ ورانہ فسادات تو کبھی لسانی تعصبات میں الجھایا گیا … ایک طویل عرصے تک پاکستان کو دہشتگردی جیسے ناسور کا سامنا کرنا پڑا جسے پاک فوج نے بے شمار قربانیاں دے کر اکھاڑ پھینکنے کی کامیاب کوشش کی… پاکستان کو ناصرف بیرونی طوررپہ خطرات لاحق ہیں بلکہ اندورنی طور پہ بھی کمزور کرنے کی سازش کی جاتی رہی .. کیونکہ یہ حق کا ٍٹکراو باطل کے ساتھ ہے ….دشمن اسلام کے نظام سے خوفزدہ ہے … کیونکہ اسلام کا نظام ہر نظام کی کلغی کھول دیتا ہے ..تمام نظاموں کو شکست دیتا ہے اگر پاکستان میں کلی طور پہ نظام اسلام کا نفاذ ہوجاے مملکت پاکستان میں مدینہ کی طرز پہ فلاحی ریاست قائم ہوجاے کہ جس کا خواب ہمارے رہبر ورہنما نے دیکھا تھا تو دنیا کے تمام طاقتین اسکے سامنے سرنگوں ہو جائیں گی جیسا کہ مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیام نے فارس کے آتش کدوں کی آگ بجھا دی تھی … نظریہ کے بغیر کوی قوم ا پنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی . نظریہ پاکستان کے بغیر پاکستان ایسے ہی ہے جیسے بغیر روح کے جسم ..اور اسکے ساتھ . ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئ نسل کو نظریہ پاکستان سے روشناس کروائیں ….اور نظریہ پاکستان کی بنیاد پہ تمام مسلکی . لسانی اور سیاسی تعصبات اور اختلافات پس پشت ڈال کر ایک قوم بن کر اتحادو جہتی کے ساتھ پاکستان کے استحکام کے لیے کوشش کریں کیونکہ پاکستان ہے تو تو ہم ہیں.. تو سلامت وطن تاقیامت وطن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ریاست مدینہ ثانی/تحریر/جویریہ شفاعت“ ایک تبصرہ

  1. بہت خوب
    اچھا لکھا ہے اور وہی لکھتا انسان جو اس کے دل و دماغ میں ہوتا ہے پاکستان ہے تو ہم ہیں ہماری پہچان ہے پاکستان
    صدا سلامت پاکستان تا قیامت پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں