محض زندہ رہنا ہی زندگی نہیں ہے !
بعض دفعہ ہم وہ علم سیکھتے ہیں جو کوئی کتاب پڑھنے سے نہیں بلکہ عمر کے اتار چڑھاؤ سے حاصل ہوتا ہے۔
ہاں یہ بھی زندگی ہے۔
زندگی تضادات کا وہ سفر ہے جہاں کبھی دھوپ تو کبھی چھاؤں، کبھی دُکھوں کے پہاڑ تو کبھی خوشیوں کی وادیاں،
کبھی سکون کی لہر تو کبھی بے چینی کی موج ۔۔
یہ سب زندگی کا حصہ ہیں۔۔۔۔
زندگی کے اس سفر میں انسان کو ہر طرح کے حالات کا سامنا ہوتا ہے اور انہی حالات میں اللّٰہ تعالٰی انسان کو ایک موقع دیتا ہے کیونکہ وہ رحیم ہے۔ وہ اپنے بندے کو مختلف امتحانات سے گزارتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس طرح اُسکا بندہ اپنے شعور، ہمت، صبر، دانائی اور قوتِ ایمانی کو بروئے کار لا کر اُس کا بٙرگزیدہ بندہ بنتا ہے ۔۔۔
اللّٰہ تعالٰی ہی کی قدرت و حکمت ہے کہ وہ کسی کو حالات کی بیڑیوں میں جکڑ کر آزماتا ہے تو کسی کو پیدائشی منہ میں سونے کا چمچ دے کر۔ کسی کو ہمیشہ سفر میں رکھتا ہے تو کسی کو گھر کی دہلیز پر ہی منزل عطا کر دیتا ہے۔
اب اس میں راز کی کیا بات ہے یہ تو فقط راز والا ہی جانے !
زندگی میں آنے والی سبھی مشکلات کو آزمائش سمجھ کر خندہ پیشانی سے ان کا سامنا کریں۔ یہ مشکلات ایسے ہی ہوتی ہیں کہ جیسے کوئی خوفناک سفر جس میں انسان پل پل اللّٰہ کو یاد کرتا ہوا گرتا پڑتا اپنی منزل کو پا لیتا ہے۔ کیونکہ جو اسکو یاد کرتے گرتا ہے اسے تھامنے والی ذات بھی اُس ربِ کریم کی ہوتی ہے۔
اب رہی بات علم کی تو علم دو طرح کا ہوتا ہے :
ایک جو کتابوں سے حاصل کیا جائے۔۔
دوسرا جو معاشرے کی شاگردی سے حاصل ہو۔۔!
معاشرے کا پڑھایا سبق ہی دراصل زندگی ہے۔
کبھی ماں باپ کی خدمت کر کے فلک کو چھونا تو کبھی نافرمانی کر کے زمین کی پستیوں میں گڑھ جانا۔ کبھی محبت میں ناکام ہو جانا تو کبھی محبوب آپکے قدموں میں ہونا۔
کبھی اپنوں کا مشکل وقت میں منہ پھیر لینا تو کبھی اس مشکل میں غیروں کا فرشتہ بن کے آنا۔ کبھی استاد کی مار کو اپنے لیےبھلائی اور اعزاز سمجھنا تو کبھی استاد کے مارنے پر اُسے سکول سے نکلوا دینا۔
ایسا کرنے سے معاشرے پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا حل کتابوں میں نہیں ملتا.
میرے نظریے کے مطابق سب سے بڑھ کے ایک سبق جو انسان معاشرے سے سیکھتا ہے وہ ہے انسان کا “عشقِ مجازی” میں ناکام ہونا اور پھر ناکام ہو کر مایوسی کے اندھیرے میں چلے جانا۔
پھر اک دن وہ ربِ کریم اس بندے کے دل میں اپنا خیال کی روشنی ڈالتا ہے اور وہ انسان مایوسی سے نکل کر حقیقتوں کی راہوں پر نکل پڑتا ہے اور اپنے خالقِ حقیقی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اور یوں وہ اُس کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر “عشق حقیقی” پا لیتا ہے۔۔۔!
یہ سب اُس خدا بزرگ و برتر کی مرضی اور انسان کی اپنی نیت سے ہوتا ہے.
کیونکہ
إنما الأعمال بالنيات
124