64

زندگی کا سودا ایک فرد ایک پودا/تحریر/آدم حسین

“زندگی کا سودا، ایک فرد اور ایک پودا”

ساون کاموسم برسات کی رم جھم ، دن کو درختوں کے سائے کا لطف اور گاؤں میں بہتے نہریں کیا کمال کی رونقیں ہیں
جی ہاں ایسا ہی ہے یہ گاؤں میں رہنے کا لطف شاید ہی خوش نصیب کے نصیب میں لکھی ہو
نہیں ہے گاؤں میں تعلیم کا سہی نظام دیگر تمام سہولیات نہیں ہیں، لکڑی سے آگ جلانی پڑتی ہے، نہیں ہے گیس وہاں پر مگر پتا ہے ایک ہی چیز ہے جو گاؤں کو دیگر مقامات سے پر رونق بناتی ہے وہ ہے درخت!!
درخت صرف گاؤں کو نہیں شہروں کو بھی رونق بخش سکتے ہیں پہاڑوں پر بھی رونقیں نچھاور کر سکتی ہیں زندگی جینے کے مزے صرف گاؤں میں نہیں آپ شہروں میں بھی یہ مزے لے سکتے ہیں مگر شرط ہے درخت لگائیں شجرکاری مہم چلائیں
درختوں سے صرف چھاؤں نہیں پھل نہیں جینے کے گر ملتے ہیں یار ان سے تو ہمیں Oxygen ملتی ہے یہی درخت تو ہیں جو ہمارے زہر Carbon dioxide کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں یہ نہ ہوں تو دنیا اُس کمرے کی مثل ہو جس میں گیس چھوٹ چھوڑ دی جائے اور کچھ ہی منٹوں میں وہیں سے ل ا ش ی ں نکالی جائیں
درختیں ہی وہ مشینریز ہیں جو برساتوں کے cycles کو کنٹرول کرتی ہیں دیکھیں ہم نے شجر کاری کرنا چھوڑ دیا نا تبھی تو بے موسم برساتوں کا سامنا ہمیں ہے تبھی تو تباہ کن سیلاب ہمارے گھروں کو برباد کر دیتی ہیں!
ہم بھی عجیب جانور ہیں، پلازوں سے محبت بڑے بڑے محلات میں رہنے کے خواہاں اور پھر پریشان رہنے کے مسائل ہمیں ہی درپیش ہیں اپنے ہی جیسے سانس لینے والے جانداروں سے دور بھاگ کر سکون کی زندگی کو خود ہی حرام کر بیٹھے ہیں
یار یہ بنگلے یہ ٹائلیں کیا اہمیت رکھتی ہیں درختوں کے سامنے؟؟
یقین مانیں یہ ٹائلیں وغیرہ انسان کو بڑے تیزی سے ڈپریشن کی طرف دھکیل رہے ہیں لوگ مرجھائے ہوئے ہیں ٹینشن میں ہیں سکون نہیں بے چینیاں ہی بے چینیاں ہیں
یاد رکھیں nature ہی وہ چیز ہے جو انسان کو سکون کی طرف راغب کرتا ہے
اگر جینے کی تمنا ہے تو پھر شجر سے محبت کو اپنی روایات میں شامل کر اپنے گھر، اپنی کھیتوں میں، اپنے سڑکوں کے کنارے درخت لگائیں درختوں کو لاڈ دیں
اور پھر موسمی تبدیلی کی شکار ہونے والے دنیا کو surprise دے کر یہ بتا دیں کہ ہم پھر سے جینے کو تیار ہیں!

( شجر کاری خود بھی کریں اور جو اس چیز کا تمنا رکھنے کے ساتھ اس پہ کام بھی کر رہے ہیں تو انکی حوصلہ افزائی کیا کریں ممکن ہو تو انکے ساتھ مل کر درختوں سے محبت کا اظہار کریں اور آنے والے نسلوں کو گرین پاکستان کا اصل چہرہ دکھائیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں