
یوں تو سال کی ہر رات قابل قدر ہے۔قرآن پاک میں اللّٰہ رب العزت نے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ایک یہ بھی صفت بیان فرمائی کہ ہمارے نیک بندے ہر رات کی قدر کرتے ہیں اور رات کو عبادت میں گزار دیتے ہیں کبھی رکوع میں اور کبھی سجدے میں اور بعض اوقات قیام میں رات صرف کردیتے ہیں ۔ راتوں کو عبادت کرنے والے اللّٰہ رب العزت کے خاص بندے ہوتے ہیں جن کو رات کا شدت سے انتظار ہوتا ہے کہ کب رات ہو اور کب ہم اپنے خالق حقیقی سے محو گفتگو ہوں۔ اسی لیے فرماتے ہیں:
“تو جو رات خواب غفلت میں گزار رہا ہے کبھی ایسی جگہ پر جاکر گزارو جہاں پر اللّٰہ جل شانہ کے بندے رات کو اٹھ کر اللّٰہ پاک کو یاد کرتے ہیں،گڑ گڑا کر معافیاں مانگتے ہیں۔”
ایک شخص رات کو اللّٰه پاک سے دعا کر رہا تھا کہ “یا اللّٰہ میں تیرا مخلوق میں سب سے گناہ گار بندہ ہوں مجھے معاف فرما دے۔” اس کے پاس سے ایک بدمعاش گزر رہا تھا، اس کے کان میں آواز پڑی تو اس کا دل پگھل گیا اور آنکھ میں آنسو آگئے۔ اس نے آواز دی کہ” یہی دعا ایک دفعہ دوبارہ کردیجیے میرا حال بدل گیا ہے۔”
یہ لوگ تھے راتوں کی قدر کرنے والے! ہر رات کو شب قدر سمجھ کر گزارتے تھے۔
اللّٰہ پاک نے ہمیں سال میں بڑا ہی بابرکت ،رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ عطا فرمایا ہے جس کی ہر رات بڑی ہی بابرکت ہے۔ اس کی ہر رات کے شروع میں ہی فرشتے اللّٰہ پاک کے حکم سے آواز دینا شروع کردیتے ہیں کہ کوئی ہے بخشش مانگنے والا؟ (عام راتوں میں یہ اعلان تہائی حصہ میں ہوتا ہے) عام اعلان ہے جس کا دل چاہے بخشش کروالے۔
اس مہینہ کا ہر دن رات بڑا ہی بابرکت اور رحمتوں کا حامل ہے لیکن اس کا آخری عشرہ پورے مہینے کا نچوڑ ہے۔ اس کے آخری عشرہ میں لیلۃالقدر ہے جس کے بارے میں اللّٰہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:”اِنَّااَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ” بےشک ہم نے اس (قرآن)کو لیلۃالقدر میں اتارا ہے تو مہینہ بھی مبارک اور لیلۃالقدر بھی مبارک ہے۔
لیلۃالقدر متعین رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تھی لیکن پھر کسی مصلحت کے تحت بھلا دی گئی۔ ایک مصلحت اس میں یہ سمجھ آتی ہے کہ انسان اس کو تلاش کرنے کے لیے مختلف راتوں میں عبادت کرتا ہے۔ اگر متعین ہو جائے تو بہت سے کم عقل ہمارے جیسے صرف اسی رات پر بھروسہ کرلیتے۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “لیلۃالقدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو”
کاش! دل وجان سے ہم ان کی قدر کر کے رب کی رحمتوں کو لوٹ لیں۔ حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شب قدر تیئسویں یا ستائیسویں شب میں ہے۔
سات کے عدد کی خصوصیت ہے، بیت اللّٰہ کے گرد لگائے جانے والے طواف کے چکر بھی سات ہیں ،جن عورتوں سے نکاح حرام ہے وہ بھی سات ہیں ،شیطان کو بھی سات کنکر مارے جاتے ہیں ،سورت فاتحہ کی آیات بھی سات ہیں تو ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر بھی ستائیسویں رات ہے۔
شب قدر میں ہر عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دیا جاتا ہے اور یہ زیادہ کتنا ہے اس کی مقدار اللّٰہ پاک کو ہی معلوم ہے۔ پوری شب قدر عبادت میں گزارنا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرنا بڑی بلند ہمتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص پوری رات عبادت نہیں کرسکتا تو عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرے کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ جس نے نماز عشاء باجماعت ادا کی گویا اس نے آدھی رات عبادت کی اور جس نے نماز فجر اور عشاء باجماعت ادا کی گویا اس نے پوری رات عبادت کی ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے: میں نے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا اگر میں شب قدر کو پاؤں تو کیا دعا کروں؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا کرو:
“اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ “(مشکوٰۃ شریف ص:١٨٢)
اگر یہ دعا قبول جائے تو یقیناً بیڑا پار ہوگیا کیونکہ جب معافی مل گئی تو سب کچھ مل گیا ۔
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:” جب شب قدر آتی ہے تو جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر تشریف لاتے ہیں جو بھی بندہ کھڑا یا بیٹھا اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اسے سلام کہتے ہیں اور اس کے لیے دعا کرتے ہیں “(مشکوٰۃ شریف ص ١٨٢)
اس حدیث مبارکہ سے اس رات کی برکات کا اور اللّٰہ پاک کی محبت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ اللّٰہ پاک ہمیں ان مبارک ساعات کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔