
منیبہ شوکت متعلمہ البیان اکیڈمی آن لائن
شوال کا لغوی معنی ہے “اوپر اٹھنا، اٹھانا اور بلند ہونا یا بلند کرنا ۔علامہ ابن عساکر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ اس مہینے میں لوگوں کے گناہ اٹھا لیے جاتے ہیں یعنی معاف فرما دیے جاتے ہیں اس لیے اسے شوال کہا جاتا ہے۔
یہ ماہ مبارک حج کی تیاری کا پہلا مہینہ ہے۔ علماء کرام فرماتے ہیں حج کے مہینے تین ہیں جن میں پہلا ماہ شوال، دوسرا ذیقعدہ اور تیسرا ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔ اشھر حج میں شامل ہونے کی وجہ سے ماہ شوال کی عظمت اور فضیلت کو چار چاند لگ رہے ہیں۔
اس مہینے میں چھے روزے رکھنے کی فضیلت ثابت ہے۔ اگرچہ یہ روزے فرض یا واجب نہیں، بلکہ مستحب ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں ان کی فضیلت وارد ہوئی ہے، چناں چہ رسول ﷲصلی ﷲعلیہ وسلم کاارشادِ گرامی ہے: “جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھے روزے رکھے تو یہ ہمیشہ (یعنی پورے سال) کے روزے رکھنے والا شمار ہوگا۔( اعلاء السنن)
اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے وعدہ کے مطابق ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے، گویا رمضان المبارک کے ایک ماہ کے روزے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہوئے، اور شوال کےچھ روزے ساٹھ روزوں کے برابر ہوئے، جو دو ماہ کے مساوی ہیں، اس طرح رمضان کے ساتھ شوال کے روزے رکھنے والاگویا پورے سال روزہ رکھنے والا ہوجاتا ہے۔
شوال کے چھ روزے یکم شوال یعنی عید کے دن کو چھوڑ کر شوال کی دوسری تاریخ سے لے کر مہینہ کے آخر تک الگ الگ کرکے اور اکٹھے دونوں طرح رکھے جاسکتے ہیں۔ لہذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ البتہ اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے؛ کیوں کہ یہ مستحب روزہ ہے، جسے رکھنے پر ثواب ہے اور نہ رکھنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔
لہذا شوال کے روزے رکھنے کی سعادت بہت بڑی ہے، کیونکہ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی کرنا ،پہلی نیکی کے قبولیت کی علامت ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو صومِ رمضان کی ادائیگی کی نعمت وتوفیق پالینے پر ذکرِ الٰہی وتکبیر وتسبیح وغیرہ سے اپنی شکرگزاری کا حکم فرمایا ہے۔
’’ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجوانسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اورحق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں، لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا، اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اورجس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو او شکرگزار بنو۔ ‘‘ (بقرہ، آیت نمبر:185)
لہٰذا رمضان کی توفیق پالینے اورگناہوں کی مغفرت پر شکرگزاری میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے بعد چند روزے رکھے جائیں۔ حضرت وہیب بن الوردرحمہ اللہ سے نیکی پر مرتب ہونے والے ثواب کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو فرماتے: نیک عمل کے اجر وثواب کے بارے میں مت پوچھو، بلکہ یہ جاننے کی کوشش کرو کہ اس عمل کی ادائیگی پر شکریہ کیسے ادا کیا جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں اس کی توفیق عطا فرمائی۔ اس لیے تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ جہاں پورے رمضاان المبارک کے روزے رکھ لیے اور پابندی کر لی تو اگلے چھے روزے رکھنا چنداں مشکل نہیں ہیں۔ انہیں رکھنے کی عادت بنا لی جائے تو ایک بہت بڑی خیر میں سے حصہ مل جائے گا۔