79

شوہرِ بتول/تحریر/اکمل فاروق

یوں تو رمضان المبارک کا مہینہ رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں بھرا مہینہ ہے۔ لیکن تاریخ میں امتِ مسلمہ پر 40 ھجری کا ایسا رمضان بھی آیا جس کے 21ویں روز کے شام وسحر سیاہ تھے۔ اور سیاہ کیوں نا ہوتے! کیونکہ اسی روز کی سخت گھڑیوں میں فاتح خیبر، خلیفہ راشد، شوہرِ بتول، دامادِ رسول، جرنیلِ امت، بابِ علم، شیرِ خدا سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو رب کے حضور ہم کلام ہونے کی حالت میں شہید کر دیا گیا تھا۔
اسی سیاہ دن نے امتِ مسلمہ کو ایک سردار اور مولا سے محروم ویتیم کر دیا تھا۔ ایسے سردار جنہوں نے نبی رحمت کی آغوش میں پرورش پائی اور آقائے دو جہاں کے اخلاق و کردار کے منعکس ٹھہرے۔
آپ حق گو ایسے کہ لڑکپن میں شہادتِ اسلام کا باآواز بلند اقرار کر کے نبیِ رحمت کی نبوت کے عَلم کے پہلے علمبردار ٹھہرے۔
پھر جاں نثار ایسے کہ ہجرت کی رات نبیِ رحمت کے بستر پہ لیٹ کر خونخوار کافر بھیڑوں کے ناپاک عزائم کو خاک کرنے میں کامیاب و کامران ٹھہرے۔
مفتی ایسے کہ عمر فاروق رض نے فرما رکھا تھا کہ علی المرتضیٰ رض کی موجودگی میں کوئی اور فتویٰ نہ دیا کرے۔
عالم ایسے کہ خود حضور نے فرمایا: کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔
حافظ قرآن ایسے کہ ہر سورۃ کا شان نزول معلوم تھا۔ اور حفظِ قرآن میں رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شاگرد شمار ہوتے۔
محدث ایسے کہ عبداللہ بن مسعود رض، ابو ہریرہ رض اور ابو موسیٰ اشعری رض جیسے محدث اور فقیہ صحابہ کرام آپ سے احادیث روایت کرتے۔
فقیہ ایسے کہ عمر فاروق رض، اماں عائشہ صدیقہ رضی، اور امیر معاویہ رض جیسے کبار صحابہ کرام بھی آپ کے بتلائے ہوئے مسئلوں اور اجتہاد پر عمل پیرا ہوتے اور ہونے کی تلقین فرماتے۔
تصوف کو ایسے اپنانے والے کہ حسن بصری رح جیسے صوفیاء آپ کے فیض یاب شاگردوں میں شمار ہوتے۔
قانع (قناعت کرنے والے) ایسے کہ مال غنیمت سے آنے والی کثیر رقم ( جو حصے میں آتی ) خیرات کر دیتے اور خود فاقہ مستی کی زندگی بسر کرتے۔
متقی ایسے کہ راتوں کو الله کے حضور کھڑے ہوتے اور دن میں روزہ رکھتے۔
عادل اور جج ایسے کہ خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا (اقضاھم علی) یعنی سب سے بہترین اور بڑے قاضی علی المرتضیٰ رض ہیں۔
جرنیل اور سپاہ سالار ایسے کہ اکیلے فاتحِ خیبر ٹھہرے اور بدر واحزاب میں مد مقابل آنے والے سخت حریف آسانی سے پچھاڑ ڈالے۔
غرض آپ رض کی زندگی قدم قدم پر ہر شعبہ زندگی کے ہر شخص کے لئے باد سحر کا ٹھنڈا جھونکا تھی اور ہے۔اور آپ رض کی شہادت عالمِ اسلام اور امتِ مسلمہ کے لئے باعثِ فخر ہے۔ اللّہ کریم روز محشر آپ کا ساتھ نصیب فرمائے اور آپ کے اخلاق وکردار کو قدم قدم اپنانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں