296

عقیدہ، الغزو الفکری کا مفہوم اور آج کا المیہ/تحریر/محمد عمیر مانسہروی

نظریاتی جنگ میں فاتحیت اہم المھمات ہے۔ یھودی پروٹوکول کے نکات میں اہم پوائنٹ یہی تھا کہ میڈیا کے توسط سے دارفانی کے باسیوں کے اذہان، افکار اور نظریات کو اپنے ماتحت کرنا ہے۔ اہلِ مغرب  بہ زورِ بازو جہاں کنٹرول حاصل نہ کرسکے نظریاتی وفکری جنگ نے انہیں وہاں کا خاموش بادشاہ بنادیا۔

       حضرت آدم علیہ السلام کے نزول سے خاتم الانبیاءﷺ کی بعثت تک تمام انبیاء کی تشریف آوری کا مقصد خلقِ خدا کے قلوب کو وحدانیت ِخداوندی سے آراستہ کرنا تھا۔ اقرار باللسان اگر قلبی تصدیق کا پسِ منظر رکھتا ہو تو معتبر ہے۔ اسی قلبی تصدیق، یقین،اخلاص اور حسیں جذبہ کو عقیدہ کہا جاتا ہے۔
          لغتًا لفظِ عقیدہ لفظ” عقد” سے ماخوذ ہے۔  یہ مختلف معانی ومطالب پر دلالت کرتا ہے۔
۱: التاکید
۲: الربط والشد
۳: العھد
۴: الملازمہ
                                         (المحیط لفیروز آبادی)
اصطلاحا: واجب الایمان امور میں سے کسی پر کسی قسم کا شک نہ ہونا عقیدہ کہلاتا ہے۔
        تمام معانی ومطالب کے پیشِ نظر قلبی پختگی کا نام عقیدہ ہے اور عقیدہ کی پختگی ایمان ہے۔ سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں تین طبقات کا ذکر کیا گیا ہے ۔
1: اول وہ طبقہ ہے جو خالصتا اسلام کے محافظ ہیں۔ ان کی زبان اور قلبی ارادوں میں ذرہ برابر اجنبیت نہیں ہے۔ ان کا تذکرہ پہلی پانچ آیات میں کیا گیا ہے۔
2: دوم وہ طبقہ ہے جو جو سراسر اسلام کا انکاری ہے۔ وہ اپنی قلبی سیاہی کو زبان کا راستہ دکھاتے ہیں۔ چھٹی اور ساتویں آیت اسی طبقہ کی طرف مشیر ہے۔
3: سوم وہ طبقہ ہے جن کا قول کچھ اور ارادۂ قلبی کچھ ہے۔ جن کے مقصدِ حیات کی جہت کا خود ان کو بھی علم نہیں ہے۔ جو فاتح ہوگا یہ طبقہ جائزات واموال غنائم کی الفت میں محدود وقت کے لیے اس کا تابع رہے گا۔ صرف زبان سے ایمان کا اقرار کرتے ہیں( اَنْ تُقِرَّ شَیئًا وتُصدّّق شَیْـًٔا)”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور” جب کہ دل کے اخلاص سے کوسوں دور ہیں۔ یہی عقیدہ کی خرابی ہے۔ اللہ رب العزت کے ہاں عقیدہ کی خرابی اس قدر مذموم ہے کہ اگلی متعدد آیات ان منافقین کی مکاریوں، دغابازیوں، وعدہ خلافیوں اور غداریوں کو شدید الفاظ میں واضح کرتی ہیں۔
جب کہ ألا انھم ھم السفہاء، مذبذبین بین ذالک، ان المنفقین فی الدرک السفل من النار  جیسی کئی آیات عقیدہ کی خرابی پر سخت ترین سزا سناتی ہیں( اللھم احفظنا منہ) ۔قرآن کی آیت “ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشاء” سے یہی نکتہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اعمال میں کوتاہی درگزر کے قابل ہے البتہ عقیدہ میں کمزوری، تغافل اور تکاہل عند اللہ ہر گز معاف نہیں۔
      ” الغزو الفکری ” نظریاتی جنگ، فکری جنگ، عقیدہ کی جنگ اور ذہنوں پر تسلط کو کہتے ہیں۔
نظریاتی جنگ میں فاتحیت اہم المھمات ہے۔ یھودی پروٹوکول کے نکات میں اہم پوئنٹ یہی تھا کہ میڈیا کے توسط سے دارفانی  کے باسیوں کے اذہان، افکار اور نظریات کو اپنے ماتحت کرنا ہے۔ اہلِ مغرب  بہ زورِ بازو جہاں کنٹرول حاصل نہ کرسکے نظریاتی وفکری جنگ نے انہیں وہاں کا خاموش بادشاہ بنادیا۔
             عصر حاضر الغزو الفکری کا دور ہے۔ میڈیا اور کمیونیکیشن کے تمام ذرائع کو زیر استعمال لاکر دشمن و اعداءِ اسلام امتِ مسلمہ کے نظریات میں فساد لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اور افسوس صد افسوس وہ کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ امت کے افراد کہیں الحاد کی زد میں ہیں ۔ پرویزیت، دھریت، قادیانیت، شیعت، لبرلزم، سیکولرزم، گوہریت اور کفر مقابل میں ہیں۔ شکار ایک شکاری سو۔
           میسج یہی ہے کہ تغافل، تجاہل، اہل اللہ سے دوری اور سنن کی عدم اتباع ترک کر دیجیے۔ ان شاءاللہ آج بھی ہزاروں پہ تین سو تیرہ حاوی ہوں گے۔ کیونکہ
         ع زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں